جنید خان عالمی کپ سے باہر؟

عالمی کپ 2011ء میں بھارت کے ہاتھوں سفر تمام ہوجانے کے بعد پاکستان کو اگلے موقع کے لیے چار سال کا طویل انتظار کرنا پڑا ہے۔ اس دوران پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے لیکن عالمی کپ 2015ء کے آغاز سے صرف چند ہفتے قبل جس حد تک تصور کیا جا سکتا تھا، پاکستان اتنی ہی مشکلات سے دوچار ہے۔ پہلے اپنے نمبر ایک گیندباز سعید اجمل کی خدمات سے محروم ہوا، پھر درجہ بندی میں پاکستان کے دوسرے بہترین گیند باز محمد حفیظ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے کریک ڈاؤن کی نذر ہوئے اور اب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں کے لیے انتہائی کارگر سمجھے جانے والے جنید خان عالمی کپ سے باہر ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہونے والے ہیں۔

جنید خان گزشتہ چند مہینوں میں دوسری بار تربیت کے دوران زخمی ہوئے اور اب عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں (تصویر: AFP)

جنید خان گزشتہ چند مہینوں میں دوسری بار تربیت کے دوران زخمی ہوئے اور اب عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں (تصویر: AFP)

مختلف وجوہات کی بنیاد پر گزشتہ پانچ ماہ سے پاکستان کی نمائندگی سے محروم جنید خان پہلے آسٹریلیا کے خلاف سیریز سے قبل پریکٹس سیشن میں زخمی ہوکر باہر ہوئے اور چند روز قبل ایک مرتبہ پھر تربیت کے دوران ہی ران میں تکلیف کا شکار ہوگئے۔ ابتدائی طور پر انہیں دورۂ نیوزی لینڈ سے باہر کیا گیا لیکن ذرائع کے مطابق جنید کی انجری کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ان کے عالمی کپ کھیلنے کے امکانات اب صفر رہ گئے ہیں۔

جنید خان دورۂ نیوزی لینڈ اور عالمی کپ کی تیاری کے لیے لاہور میں منعقدہ تربیتی کیمپ کے دوران زخمی ہوئے تھے اور اب جبکہ ٹیم کے بقیہ اراکین نیوزی لینڈ روانہ ہوچکے ہیں، جنید کی وقت کے ساتھ دوڑ جاری ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے انہیں مزید ٹریننگ سے روک دیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کی ہمسٹرنگ انجری کی نوعیت شدید ہے جو تربیت کی صورت میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر جنید خان کو صحت یاب ہونے کے لیے کافی وقت درکار ہوگا اور وہ صرف 23 دن بعد شروع ہونے والے عالمی کپ تک فٹ نہیں ہوسکیں گے۔ صرف تین ہفتوں میں جنید کو صحت یاب ہونے کے ساتھ ثابت بھی کرنا ہے کہ وہ میچ کھیلنے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔

پاکستان فی الوقت جنید خان کی جگہ بلاول بھٹی کو نیوزی لینڈ لے کر گیا ہے اور اگر خدشات کے عین مطابق جنید خان فٹ نہ ہوسکے تو غالباً بلاول ہی کو عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملے گا۔

Facebook Comments