پست حوصلہ پاکستان، "بچوں" سے دوسرا مقابلہ بھی ہار گیا

جس طرح 23 سال قبل پاکستان کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ٹور مقابلوں میں بھی شکست ہوئی تھی، بالکل اسی طرح عالمی کپ 2015ء کی مہم کا آغاز بھی پے در پے ناکامیوں کے ساتھ ہوا ہے۔ ویسے زیادہ "خوش" ہونے کی بات نہیں ہے، کیونکہ پاکستان دورۂ نیوزی لینڈ کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی نیوزی لینڈ بورڈ پریزیڈنٹس الیون جیسے کمزور ترین حریف سے ہارا ہے اور مایوس کن امر یہ ہے کہ اس بار بھی بلے باز اور گیندباز دونوں ناکام دکھائی دیے۔

مائیکل پولارڈ کی 153 رنز کی اننگز نے پاکستان کو ایک اور شکست سے ہمکنار کیا (تصویر: Getty Images)

مائیکل پولارڈ کی 153 رنز کی اننگز نے پاکستان کو ایک اور شکست سے ہمکنار کیا (تصویر: Getty Images)

لنکن ہی میں کھیلے گئے دوسرے مقابلے میں پاکستان نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور پھر کوچ، کپتان اور دیگر انتظامیہ نے سرفہرست بلے بازوں کی ایک اور ناکامی کو دل تھام کر دیکھا۔ نیوزی لینڈ بورڈ پریزیڈنٹس الیون کے غیر معروف کھلاڑیوں کے سامنے پاکستان کے صرف 79 رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ٹاپ آرڈر اس وقت سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ناکامیوں کے سلسلے کا آغاز سرفراز احمد کے صفر پر آؤٹ ہوجانے سے ہوا، جو اوپنر کی حیثیت سے بھیجے گئے تھے، ان کے بعد یونس خان 7، محمد حفیظ 18، حارث سہیل 6 اور آخر میں صہیب مقصود 25 رنز کے ساتھ میدان سے منہ لٹکائے واپس آئے۔

یہاں گزشتہ مقابلے کی طرح ذمہ داری کپتان مصباح الحق اور عمر اکمل نے دکھائی۔ دونوں نے چھٹی وکٹ پر 119 رنز جوڑے جس میں عمر اکمل کے 82 گیندوں پر بہترین 77 رنز بھی شامل تھے۔ لیکن پاکستانی اننگز کو 267 رنز کے مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار مصباح کی 88 رنز کی اننگز کا تھا۔ گزشتہ مقابلے میں سنچری بنانے والے کپتان نے ساتویں وکٹ پر بلاول بھٹی کے ساتھ 72 رنز کا اضافہ کیا۔ مصباح 89 گیندوں پر 88 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جبکہ بلاول نے 23 رنز بنائے۔

لیکن 267 رنز کا مجموعہ پاکستان کے لیے ناکافی تھا، جو باؤلنگ لائن گزشتہ مقابلے میں 313 رنز کا دفاع کرنے میں ناکام رہی، اس میں متعدد تبدیلیاں بھی کی گئیں جیسا کہ وہاب ریاض اور احسان عادل دونوں کی جگہ محمد عرفان اور بلاول بھٹی تھے اور دونوں نے خود عمدہ باؤلنگ بھی کی لیکن مائیکل پولارڈ کی شاندار اننگز کے سامنے پاکستان کے دیگر گیندبازوں بے دست و پا دکھائی دیے۔ جیسا کہ سہیل خان نے 9.5 اوورز میں 81 رنز دیے اور وہ فیصلہ کن اوورز میں بھی آخری وکٹ کو پانچ رنز بنانے سے نہ روک سکے۔

ویسے پریزیڈنٹس الیون کی چار وکٹیں بھی 59 رنز پر گرگئی تھیں جس کے بعد مائیکل پولارڈ کی 132 گیندوں پر 153 رنز کی اننگز کام دکھا گئی۔ 3 چھکوں اور 16 چوکوں سے مزین اس باری نےمعاملہ اس قدر آسان کردیا تھا کہ 9 وکٹیں گرجانے کے باوجود ٹیم ہدف تک پہنچ گئی۔ آخری اوور کی پانچویں گیند پر کائل جیمی سن کے چوکے نے پریزیڈنٹس الیون کو مسلسل دوسری جیت سے ہمکنار کیا۔

نیوزی لینڈ کی قومی ٹیم اس وقت سری لنکا کے خلاف تسلسل کے ساتھ فتوحات سمیٹ رہی ہے اور اب پاکستان کا یہ حال ہے کہ ٹور میچ میں بھی اس کی کارکردگی سب کے سامنے ظاہر ہے لیکن پھر بھی عالمی کپ سے پہلے پاکستان کرکٹ کی صورتحال کا حقیقی اندازہ آئندہ چند روز میں ہوجائے گا جب ٹیم دو ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے کھیلے گی۔ ویسے یہ بات تو یقینی ہے کہ موجودہ کارکردگی کے ساتھ پاکستان نیوزی لینڈ کو صرف خواب ہی میں شکست دے سکتا ہے۔

Facebook Comments