عالمی کپ کے 30 جادوئی لمحات: بڑا بول، ڈبہ گول

عالمی کپ 1992ء میں شریک تمام 9 ٹیموں کو ایک دوسرے کے خلاف کم از کم ایک مقابلہ ضرور کھیلنا تھا۔ 18 مارچ 1992ء کو پہلے مرحلے کا آخری دن تھا اور اس روز تین مقابلے کھیلے گئے جن میں سے دو کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات زندہ رکھنے کے لیے نیوزی لینڈ کی اس ٹیم کو شکست دینا تھی، جو اب تک ٹورنامنٹ میں ایک میچ بھی نہیں ہاری تھی اور پھر آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے میچ کا بھی انتظار کرنا تھا کہ جہاں ویسٹ انڈیز کی شکست پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچاتی۔ نتائج تو پاکستان کے حق میں آئے لیکن اسی روز کھیلا گیا تیسرا مقابلہ پس منظر میں چلا گیا جو ملبورن کے 350 کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے البری میں کھیلا گیاتھا۔

برینڈس نے ثابت کیا کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے (تصویر: Getty Images)

برینڈس نے ثابت کیا کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے (تصویر: Getty Images)

یہاں اس چھوٹے سے میدان میں ایک طرف پہلے مرحلے میں سوائے ایک کے تمام مقابلوں میں فتوحات حاصل کرنے والا انگلستان تھا تو دوسری جانب سب ہی مقابلوں میں شکست سے دوچار ہونے والا زمبابوے۔ اس لیے کسی خاص مقابلے کی توقع تو نہیں تھی لیکن کیونکہ یہ البری میں کھیلا گیا عالمی کپ کا واحد، بلکہ اب تک کھیلا گیا اکیلا، ایک روزہ مقابلہ تھا، اس لیے 8 ہزار تماشائی میدان میں موجود تھے۔

زمبابوے کے لیے ٹورنامنٹ اس وقت تک بہت مایوس کن تھا۔ بحیثیت مجموعی بھی اس کی کارکردگی کچھ خاص نہیں تھی۔ 9 سال کے طویل عرصے میں کھیلے گئے مسلسل 18 ایک روزہ مقابلوں میں اسے شکست ہوئی تھی، یہاں تک کہ اسی عالمی کپ کے دوران سری لنکا کے خلاف 312 رنز کا دفاع بھی نہیں کر سکا تھا۔ اس لیے خدشات و توقعات کے مطابق انگلستان کی مضبوط گیندبازی کے سامنے وہ صرف 134 رنز پر ڈھیر ہوگیا۔

کپتان ڈیو ہاؤٹن کے 29 اور این بوچارٹ کے 24 رنز ہی تھے جو اسے تہرے ہندسے تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے، ورنہ این بوتھم اور رے النگورتھ کے سامنے زمبابوے کے بلے بازوں کا حال"پتلا" تھا۔

بہرحال، صرف 135 رنز کا ہدف ایسا دکھائی دیتا تھا کہ انگلستان آنکھیں بند کرکے بھی حاصل کرلے گا۔ انگلستان کے سابق کپتان اور معروف تبصرہ کار جیفری بائیکاٹ اس مقابلے میں موجود تھے۔ کھانے کے وقفے کے دوران ان کی ملاقات زمبابوے کے کپتان ڈیو ہاؤٹن سے ہوئی۔ اس دوران بائیکاٹ نے کہا کہ "نئی ٹیموں کے ساتھ یہی مسئلہ ہے، ان کے کھلاڑی اسکوربورڈ کو متحرک رکھنا نہیں جانتے۔ اب وقفے کے بعد دیکھنا کہ کس طرح پروفیشنل کھلاڑی فیلڈرز کے درمیان کھیل کر ایک، دو رنز لیتے ہیں اور باآسانی مقابلہ جیتتے ہیں۔"

یعنی بائیکاٹ کو انگلستان کی جیت کا اتنا ہی یقین تھا، جتنا کہ کسی بھی کرکٹ شائق کو اس مقابلے کی پہلی اننگز دیکھ کر ہوسکتا تھا۔ لیکن ایڈو برینڈس نے بائیکاٹ کی اس بات کو غلط ثابت کرنا تھا۔ جب انگلستان کے تجربہ کار گراہم گوچ اور این بوتھم اننگز کے آغاز کے لیے میدان میں اترے تو یہی برینڈسپہلا اوور پھینکنے کے لیے میدان میں آئے۔

پہلی ہی گیند ایک برق رفتار یارکر تھی جو کپتان گوچ کو ایل بی ڈبلیو کرگئی۔ انگلستان کو پہلا دھچکا ضرور پہنچا تھا لیکن بظاہر ایسا لگتا تھا کہ وہ سنبھل گیاہے کوینکہ 32 رنز تک اس کا یہی ایک نقصان ہوا تھا۔ اس مرحلے پر زمبابوے کے گیندباز چھا گئے۔ ایک سرے سے برینڈس نے ایلن لیمب، رابن اسمتھ اور گریم ہک کی قیمتی وکٹیں سمیٹیں تو دوسرے کنارے سے عمر شاہ نے این بوتھم کو ٹھکانے لگا کر محض 43 رنز پر انگلستان کے آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی تعداد پانچ کردی۔

عالمی کپ کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک کو بدترین شکست سامنے دکھائی دے رہی تھی، جب نیل فیئر برادر اور ایلک اسٹیورٹ نے انہیں امید کی آخری کرن دکھائی۔ دونوں بلے بازوں نے ایک لو-اسکورنگ مقابلے میں 52 رنز کی شراکت داری جوڑی اور مجموعے کو 95 تک لے گئے۔ زمبابوے کو اندازہ تھا کہ انہیں صرف اسی شراکت داری کا خاتمہ کرنا ہے، پھر وکٹ سے مدد حاصل کرتے ہوئے وہ بقیہ کھلاڑیوں کو جلد از جلد ٹھکانے لگا سکتے ہیں۔ پھر وہ لمحہ آیا جس نے زمبابوے کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کی۔ عمر شاہ نے ایلک اسٹیورٹ کو آؤٹ کردیااور انگلستان کی کمر ٹوٹ گئی۔ اسٹیورٹ نے 96 گیندوں پر صرف 29 رنز بنائے جبکہ فیئر برادر 77 گیندوں پر 20 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے، جو ظاہر کرتا ہے کہ اس زمانے میں ایک روزہ کرکٹ پر ٹیسٹ کی چھاپ کتنی گہری تھی۔

بہرحال، انگلستان کو آخری 3 اووز میں 23 رنز کی ضرورت تھی جو گھٹ کر آخری اوور میں 10 رنز تک رہ گئے لیکن وکٹ صرف ایک باقی تھی جو آخری اوور کی پہلی ہی گیند پر میلکم جاروس کے ہاتھ لگی اور یوں زمبابوے نے انگلستان 125 رنز پر آؤٹ کرکے صرف 9 رنز سے یہ مقابلہ جیت لیا۔

کپتان ایڈو برینڈس کو 10 اوورز میں صرف 21 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرا ردیا گیا جبکہ عمر شاہ اور بوچارٹ نے دو، دو کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا۔

برینڈس نے ٹیم کے ساتھ اس جیت کا بھرپور جشن منایا، ہوسکتا ہے وہ بائیکاٹ کو ڈھونڈنا بھول گئے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کارکردگی سے بائیکاٹ کو بہترین جواب دے دیا تھا۔

اس یادگار فتح کی بدولت زمبابوے کو چار ماہ بعد ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ بھی ملا اور زمبابوے کرکٹ ایک نئے عہد میں داخل ہوگئی۔ عالمی کپ کی تاریخ کے "جادوئی لمحات" کے سلسلے میں آئندہ چند اقساط عالمی کپ 1992ء ہی سے ہوں گی۔ ان کے انتظار تک آپ زمبابوے اور انگلستان کے اس یادگار مقابلے کی جھلکیاں ملاحظہ کیجیے:

Facebook Comments