محمد عامر کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی

اسپاٹ فکسنگ کے گھناؤنے جرم میں پانچ سال کی طویل سزا پانے والے پاکستان کے تیز گیندباز محمد عامر کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے دبئی میں ہونے والے اپنے اجلاس کے بعد کہا ہے کہ محمد عامر فوری طور پر ملکی کرکٹ کھیل سکتے ہیں، البتہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی کا خاتمہ رواں سال 2 ستمبر کو ہی ہوگا۔

محمد عامر کو اپنے داغ دھونے کا موقع ملے گا، اب دیکھنا ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں (تصویر: PA Photos)

محمد عامر کو اپنے داغ دھونے کا موقع ملے گا، اب دیکھنا ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں (تصویر: PA Photos)

محمد عامر کو اگست 2010ء میں انگلستان کے خلاف ایک ٹیسٹ مقابلے کے دوران جان بوجھ کر نو-بال پھینکنے، اور اس کے بدلے میں سٹے بازوں سے رقم حاصل کرنے، کا الزام ثابت ہونے پر پانچ سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ محمد عامر کے علاوہ پاکستان کے اس وقت کے کپتان سلمان بٹ اور دوسرے تیز باؤلر محمد آصف بھی اس پابندی کی زد میں آئے تھے۔ البتہ محمد عامر کو اچھے سلوک، انتظامیہ کے ساتھ تعاون، انسداد بدعنوانی کی تعلیم میں حصہ لینے اور جرم پر پشیمانی کی وجہ سے یہ رعایت دی گئی ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے گزشتہ سال اپنے انسداد بدعنوانی قانون کے اندر ترمیم کی تھی جس کے تحت کسی کھلاڑی کو پابندی کا عرصہ مکمل ہونے سے چند ماہ پہلے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے تاکہ وہ پابندی ختم ہوتے ہی بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہو۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ سال نومبر میں محمد عامر کو اس رعایت کا مستحق قرار دیتے ہوئے آئی سی سی سے باضابطہ درخواست کی تھی۔

کیا محمد عامر کو دوبارہ ملک کی نمائندگی کا موقع ملنا چاہیے؟


Loading ... Loading ...

دبئی میں اپنے بورڈ اجلاس کے بعد آئی سی سی کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ کے چیئرمین رونی فلینگن نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے محمد عامر کو پابندی کے خاتمے سے پہلے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی ہے۔ وہ محمد عامر سے مطمئن ہیں جنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا اور ندامت کے اظہار کے ساتھ یونٹ کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کیا۔

اب اگلا سوال، جس کے جواب کا سب کو انتظار ہے، یہ ہے کہ محمد عامر ڈومیسٹک کرکٹ میں کس ٹیم کی جانب سے کھیلیں گے۔ 2010ء میں پابندی سے قبل وہ نیشنل بینک آف پاکستان کی طرف سے کھیلتے تھے اور ہوسکتا ہےکہ اب بھی اسی کی نمائندگی کرتے نظر آئیں۔ البتہ اکتوبر میں نئے سیزن کے آغاز سے پہلے وہ شاید اپریل میں سپر8 ٹی ٹوئنٹی کپ میں کھیلے دکھائی دیں۔

Article Tags

Facebook Comments