پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی خارج از امکان: آئی سی سی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے جنرل مینیجر برائے کرکٹ ڈیو رچرڈسن نے مستقبل قریب میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ پاکستان مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملوں کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے محروم ہے۔ رچرڈسن کا کہنا ہے کہ جب تک سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری واقعی نہیں ہوتی پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے جنرل مینیجر ڈیو رچرڈسن (© اے ایف پی)

ڈیو رچرڈسن پاکستان کے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ قائداعظم ٹرافی کا فائنل دیکھنے کے لیے کراچی آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی کی صورتحال اور انتظامات میں بہتری ہونے کے بعد ٹیموں کو ایک مرتبہ پھر پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے تاہم اس وقت پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی بات کرنا بے فائدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کا مطلب نہیں کہ پاکستان میں کرکٹ زوال پذیر ہو اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی کرکٹ کو فروغ دے اور یہی کھیل کو آگے بڑھانے کا واحد ذریعہ ہے۔

ڈیو رچرڈسن نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل ٹیسٹ کرکٹ کو دلچسپ بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے جن میں ڈے نائٹ میچز کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس لیے میں یہاں دیکھنے آیا ہوں کہ مصنوعی روشن میں نارنجی گیندوں کے ساتھ ٹیسٹ میچز کرنا کس حد تک ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پانچ روزہ مقامی ٹورنامنٹ کو مصنوعی روشنیوں میں کرانے کا فیصلہ اچھا ہے اور یہ کھیل کو مشہور کرنے میں مدد دے گا۔

واضح رہے کہ مارچ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں پاکستان کو 2011ء کے عالمی کپ کی میزبانی سے بھی ہاتھ دھونے پڑے اور اس وقت سے وہ اپنی تمام ہوم سیریز متحدہ عرب امارات اور انگلستان میں کھیل رہا ہے کیونکہ کوئی کرکٹ ٹیم سیکورٹی صورتحال کے باعث پاکستان آنے کو تیار نہیں۔

Facebook Comments