عالمی کپ کے 30 جادوئی لمحات: پاکستان، دنیائے کرکٹ کا حکمران

"آؤ دیکھیں کہ دنیا پر حکمرانی کون کرتا ہے؟" یہ وہ پیغام تھا جو عالمی کپ 1992ء کے آغاز سے پہلے جاری نغمے میں دیا گیا تھا۔ 33 دن تک زبردست معرکہ آرائی کے بعد بالآخر 25 مارچ 1992ء کے ملبورن کے تاریخی میدان پر عالمی کپ کا حتمی مقابلہ دو بہترین ٹیموں پاکستان اور انگلستان کے درمیان کھیلا گیا۔

عمران خان چار بار کوشش کے باوجود عالمی کپ نہ جیت سکے، اور جب کوئی توقع اور امید نہ تھی اس وقت ناممکن کو ممکن کر دکھایا (تصویر: PA Photos)

عمران خان چار بار کوشش کے باوجود عالمی کپ نہ جیت سکے، اور جب کوئی توقع اور امید نہ تھی اس وقت ناممکن کو ممکن کر دکھایا (تصویر: PA Photos)

انگلستان تو اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعے فائنل تک پہنچا۔ سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کے خلاف مقابلے میں گو کہ بارش کا متنازع قانون لاگو ہوا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ رائج الوقت ڈک ورتھ لوئس طریقہ بھی اس وقت موجود ہوتا تو شاید انگلستان ہی جیتتا۔ بہرحال، گراہم گوچ کی زیر قیادت ٹیم فائنل کھیلنے کی حقدار تھی لیکن دوسرے سرے پر ان کا مقابلہ اس ٹیم کے ساتھ تھا، جس کے فائنل تک پہنچنے کی داستان افسانوی سی لگتی تھی۔ بیٹنگ لائن کی ناتجربہ کاری کا عالم یہ تھا کہ آل راؤنڈر عمران خان کو سہارا دینے کے لیے متعدد بار 'ون ڈاؤن' پوزیشن پر آنا پڑا اور یہی 40 سالہ کپتان درد رفع کرنے والی ادویات استعمال کرکے مختلف مقابلوں میں اوورز بھی پھینکتا رہا کیونکہ ٹیم کے اہم ترین گیندباز وقار یونس عالمی کپ کے آغاز سے پہلے ہی زخمی ہوگئے تھے۔ یوں کاغذ پر دیکھا جائے تو پوری ٹیم میں صرف دو کھلاڑی ایسے تھے، جنہیں فتح گر کہا جا سکتا تھا، ایک جاوید میانداد اور دوسرے وسیم اکرم۔ پھر ابتدائی مقابلوں میں شکستوں کے بعد جب پاکستان کے امکانات لب گور پہنچ گئے، اس وقت عمران خان نے ٹیم کو نئی توانائی دی، ان میں لڑنے اور مرنے کا جذبہ پیدا کیا اور پھر آخری تین مقابلے جیت کر، قسمت کے بل بوتے پر پاکستان سیمی فائنل تک پہنچا جہاں اس نے 'فیورٹ' نیوزی لینڈ کو ایک ناقابل یقین شکست دے کر تاریخ میں پہلی بار فائنل تک رسائی حاصل کی۔

کرکٹ کی تاریخ کا پہلا فائنل جو رنگین لباس، مصنوعی روشنی اور سفید گیند کے ساتھ کھیلا گیا اور عمران خان اور جاوید میانداد کے لیے آخری موقع تھا کہ وہ 1987ء کے داغ کو دھو سکیں جو لاہور میں سیمی فائنل شکست کے ساتھ لگا تھا۔ 87 ہزار سے زیادہ تماشائیوں کی موجودگی میں پاکستان اس حریف سے مقابل تھا، جس کے خلاف وہ پہلے مرحلے میں صرف 74 رنز پر ڈھیر ہوچکا تھا اور بارش نے اسے یقینی شکست سے بچایا۔ لیکن، آج حالات مختلف تھے۔ مسلسل فتوحات کے بعد پاکستانی ٹیم کے حوصلے بہت بلند تھے۔

عمران خان نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا لیکن انگلستان کی مضبوط باؤلنگ لائن کے سامنے پاکستان کے دونوں اوپنرز صرف 24 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ پہلے عامر سہیل کو 4 اور رمیز راجہ کو 8 رنز کے انفرادی اسکور پر ڈیرک پرنگل نے ٹھکانے لگایا۔ رمیز راجہ نو-بال پر ملنے والی زندگی کا بھی کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اور امپائر اسٹیو بکنر کے ایل بی ڈبلیو فیصلے کا نشانہ بن گئے۔ عمران خان خود ذمہ داری کا بوجھ اٹھا کر میدان میں آئے اور پھر جاوید میانداد کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کی اہم ترین شراکت داری قائم کی۔ دونوں تجربہ کار بلے بازوں نے تیسری وکٹ پر 139 رنز جوڑے۔ جاوید میانداد نے کپتان کی موجودگی میں 58 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی لیکن قابل دید اننگز عمران خان کی تھی۔ ملبورن کے وسیع میدان میں لگائے گئے ایک جاندار چھکے کے علاوہ انہوں نے 5 چوکے بھی لگائے اور 110 گیندوں پر 72 رنز کی قیمتی اننگز کھیلنے کے بعد این بوتھم کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے چھکے چھڑانے والے انضمام الحق اور بلند حوصلہ وسیم اکرم کی تیز اننگز نے پاکستان کو 50 اوورز میں 249 رنز کے اچھے مجموعے تک پہنچایا۔ انضمام نے 35 گیندوں پر 42 رنز بنائے جبکہ وسیم اکرم صرف 18 گیندوں پر 33 رنز بنانے کے بعد آخری اوور میں رن آؤٹ ہوئے۔ پاکستان نے آخری 20 اوورز میں 153 رنز کا اضافہ کیا جو سیمی فائنل کی طرح ایک شاندار واپسی تھی۔

کرکٹ تاریخ کے بدقسمت ترین کھلاڑی گراہم گوچ، تین بار عالمی کپ کا فائنل کھیلے اور ہر بار شکست کھائی (تصویر: PA Photos)

کرکٹ تاریخ کے بدقسمت ترین کھلاڑی گراہم گوچ، تین بار عالمی کپ کا فائنل کھیلے اور ہر بار شکست کھائی (تصویر: PA Photos)

انگلستان کی مضبوط بیٹنگ لائن کو دیکھتے ہوئے 250 رنز کے ہدف کو ناقابل عبور نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے پاکستان کے لیے سب سے اہم کام وکٹیں حاصل کرنا تھا۔ سب سے پہلے وسیم اکرم نے ایک خوبصورت گیند پر این بوتھم کو وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کرایا۔ اہم ترین مقابلے میں صفر کی ہزیمت سے دوچار ہونے والے بوتھم آج بھی امپائر کو قصوروار ٹھیراتے ہیں لیکن اس امر میں کوئی حقیقت نہیں کہ وہ ایسی گیند تھی، جسے وہ سرے سے سمجھ ہی نہیں پائے تھے۔ بہرحال، عاقب جاوید نے وکٹ کیپر ایلک اسٹیورٹ کو آؤٹ کرکے انگلستان کو بھی اسی مشکل سے دوچار کردیا، جو پاکستان کو ابتداء میں پیش آئی تھی۔ صرف 21 رنز پر ان کے دو کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اور انگلستان کو ضرورت تھی عمران-جاوید جیسی کسی شراکت داری کی۔ لیکن اس سے پہلے کہ گریم ہک اور گراہم گوچ یہ کردار ادا کرتے، مشتاق احمد کی جادوئی گیندوں نے دونوں کا کام تمام کردیا۔ پہلے ہک 'مشی' کی گگلی کو سمجھنے میں غلطی کر بیٹھے اور وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے اور کچھ ہی دیر بعد گوچ کا سوئپ شاٹ عاقب جاوید کے ایک عمدہ کیچ میں بدل گیا۔ صرف 69 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد انگلستان کے امکانات آدھے رہ گئے۔

اس نازک مرحلے پر ایلن لیمب اور نیل فیئربرادر نے انگلستان کو ہدف تک پہنچانے کی آخری سنجیدہ کوشش کی۔ دونوں نے پانچویں وکٹ پر صرف 14 اوورز میں 72 رنز کا اضافہ کیا۔ گو کہ بڑھتا ہوا درکار رن اوسط انگلستان کے لیے تشویشناک امر تھا لیکن 90ء کی دہائی کے ابتدائی زمانے کی یہ حکمت عملی ہوتی تھی کہ ابتدائی 35 اوورز تک اننگز کو استحکام دیا جاتا تھا، وکٹیں بچائی جاتی تھیں اور پھر آخری 15 اوورز میں تیز رفتاری سے کھیلا جاتا تھا۔ اسی حکمت عملی کے تحت پاکستان نے ابتدائی 35 اوورز میں 100 کے قریب رنز بنائے تھے اور آخر میں ڈیڑھ سو رنز کا اضافہ کرکے انگلستان کو 250 کا ہدف دیا تھا جبکہ انگلستان تو پھر بھی 141 رنز پر کھڑا تھا یعنی پاکستان کی پوزیشن نازک تھی۔ لیمب، فیئربرادر اور ان کے بعد کرس لوئس اور دیگر بلے باز تیز رفتاری سے کھیل کر مقابلے کو پاکستان کی گرفت سے نکال سکتے تھے۔

یہاں عمران خان اپنے اہم باؤلر وسیم اکرم کو دوباارہ لے کر آئے، اس ہدف کے ساتھ کہ وہ اس شراکت داری کا خاتمہ کریں اور پھر وسیم اکرم نے وہ دو جادوئی گیندیں پھینکیں، جو آج بھی عالمی کپ کی تاریخ کی بہترین گیندوں میں شمار ہوتی ہیں۔ پہلی گیند ایلن لیمب کو دھوکا دے کر آف اسٹمپ میں گھس گئی اور اگلی گیند پر گیند کرس لوئس کو حیران و پریشان کرگئی۔ ٹپہ پڑنے کے بعد اندر کی جانب آنے والی گیند لوئس کے دفاع کو ناکام بناتی ہوئی بیلز اڑا گئی۔ یہ انگلستان پر فیصلہ کن ضرب تھی، پاکستان فائنل میں واضح طور پر برتر مقام حاصل کرچکا تھا۔

ہدف سے 110 رنز کے فاصلے پر ہی انگلستان 6 بلے بازوں سے محروم ہوچکا تھا اس لیے فیئربرادر کی مزاحمت بھی زیادہ دیر جاری نہ رہ سکی۔ ان کی 70 گیندوں پر 62 رنز کی اننگز عاقب جاوید کے ہاتھوں اختتام کو پہنچی۔ انگلستان کی آخری چار وکٹوں نے گو کہ 86 رنز کا اضافہ کیا لیکن کسی بھی لمحے پاکستان کے لیے خطرہ نہ بن سکیں، یہاں تک کہ آخری اوور میں عمران خان کو لگایا گیا رچرڈ النگورتھ کا شاٹ مڈ آف پر کھڑے رمیز راجہ کے ہاتھوں میں محفوظ ہوگیا۔ "دنیا پر حکمرانی" کا اعزاز پاکستان کو مل گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ ایک نئے عہد میں داخل ہوگئی، وہ بھی اپنے اہم ترین کپتان اور قائد عمران خان کے بغیر، جنہوں نے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا لیکن اس جیت نے انہیں اپنے خواب یعنی شوکت خانم کینسر ہسپتال کی تعبیر کا موقع فراہم کیا، جو آج لاہور میں قائم ہے۔

پاکستان اس کے بعد کبھی عالمی کپ نہیں جیت سکا۔1996ء کے کوارٹر فائنل میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں سفر اختتام کو پہنچا تو 1999ء میں فائنل میں پہنچنے کے بعد باوجود آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اس کے بعد حوصلے اتنے پست ہوئے کہ 2003ء اور 2007ء میں پہلے ہی مرحلے میں سفر اختتام کو پہنچا البتہ 2011ء میں شاہد آفریدی کی زیر قیادت ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی لیکن بدترین فیلڈنگ اور ہدف کے تعاقب میں ناکامی نے اس کے عالمی چیمپئن بننے کا خواب ایک بار پھر چکناچور کردیا۔

اب جبکہ 23 سال بعد ایک بار پھر عالمی کپ آسٹریلیا کی سرزمین پر کھیلا جا رہا ہے، حالات بالکل وہی ہیں جو 1992ء میں تھے۔ 40 سالہ کپتان، کمزور ترین ٹیم، پے در پے شکستیں اور پست حوصلے، تاریخ خود کو دہرا بھی سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج 1992ء کے مقابلے میں کرکٹ بہت تبدیل ہوچکی ہے، اس لیے کاغذ پر دیکھیں تو پاکستان کے امکانات صفر ہیں لیکن پاکستان سے آخر کب توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں؟ اس کے کھلاڑی تو ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ 29 مارچ 2015ء کو فائنل کھیلنے والی ایک ٹیم پاکستان ہو۔

عالمی کپ کے جادوئی لمحات میں 1992ء کا سفر یہی ختم ہوا۔ اگلی قسط سے 1996ء کے عالمی کپ کے یادگار لمحات پیش ہوں گے جو بھارت اور پاکستان میں مشترکہ طور پر کھیلا گیا تھا۔ تب تک آپ 1992ء کے فائنل کے ان یادگار لمحات سے لطف اٹھائیں:

Facebook Comments