نیوزی لینڈ چھا گیا، پاکستان قابل رحم حالت میں

عالمی کپ سے قبل نیوزی لینڈ کے بارے میں اگر کسی کو شائبہ بھی تھا، تو نیپئر میں پاکستان کے خلاف دوسرے ایک روزہ میں جامع فتح کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 119 رنز کی زبردست جیت نے میزبان کے حوصلوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے تو دوسری جانب پاکستان کی حالت دگرگوں دکھائی دے رہی ہے۔ ایک روزہ مقابلے تو درکنار پاکستان تو ٹؤر میچز تک میں بری طرح شکست سے دوچار ہوا ہے اور اب مکمل ناامیدی کے ساتھ عالمی کپ کھیلے گا۔

نیوزی لینڈ کی شاندار فتوحات کا سلسلہ جاری ہے اور اب وہ عالمی کپ میں تسلسل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کی شاندار فتوحات کا سلسلہ جاری ہے اور اب وہ عالمی کپ میں تسلسل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے (تصویر: Getty Images)

دوسرے ایک روزہ کی خاص بات نیوزی لینڈ کی جانب سے بلے بازی کا شاندار مظاہرہ تھا۔ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ سنبھالی اور ابتداء ہی میں خطرناک روپ دھار لیا۔ شاہد آفریدی نے آٹھویں اوور میں برینڈن میک کولم کو تو ٹھکانے لگا دیا لیکن اس کے بعد مارٹن گپٹل، کین ولیم سن اور روس ٹیلر نے مقابلے کو نیوزی لینڈ کے پلڑے میں جھکا دیا۔ عرصے سے اچھی اننگز کھیلنے کے لیے ترسنے والے مارٹن گپٹل کی 76 رنز کی باری نے ایک بڑے مجموعے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے کین ولیم سن کے ساتھ دوسری وکٹ پر 128 رنز جوڑے اور پھر ہر گزرتے اوور کے ساتھ مقابلہ نیوزی لینڈ کے حق میں جھکتا چلا گیا۔

درحقیقت اس میچ نے عالمی کپ 2011ء میں کھیلے گئے پاک-نیوزی لینڈ مقابلے کی یاد دلائی، جہاں ابتداء ہی میں روس ٹیلر کا آسان کیچ چھوڑ کر کامران اکمل نے انہیں نئی زندگی دی تھی اور پھر ٹیلر نے دھواں دار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گروپ مرحلے میں پاکستان کو واحد شکست سے دوچار کیاتھا۔ بالکل اسی طرح آج 25 رنز پر وکٹ کیپر سرفراز احمد نے انہیں زندگی عطا کی جب شاہد آفریدی کی گیند پر اسٹمپنگ کا موقع ضائع کرنا پاکستان کے لیے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔ گو کہ اس وقت بھی نیوزی لینڈ کا اسکور صرف دو وکٹوں پر 242 رنز تھا۔ کچھ ہی دیر بعد 43 ویں اوور کی پہلی گیند پر ٹیلر کو کیچ چھوٹنے پر ایک اور زندگی ملی، اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ آخری 10 اوورز میں ہونے والے 116 رنز کے اضافے میں ٹیلر کا حصہ صرف 36 گیندوں پر 73 رنز کا تھا۔ میچ کا سب سے دلچسپ مرحلہ وہ تھا جب اننگز کی آخری دو گیندیں باقی تھیں اور ٹیلر 92 رنز پر کھڑے تھے۔ انہوں نے پانچویں گیند کو چھکے اور آخری کو چوکے کے لیے روانہ کرکے اپنی 12 ویں ایک روزہ سنچری مکمل کی اور اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ فضا میں بلند کرکے اور زبان باہر نکال کر جشن منایا۔ وہ 70 گیندوں پر 13 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 102 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ میدان سے لوٹے۔

نیوزی لینڈ کی اننگز کے دوسرے قابل ذکر بلے باز کین ولیم سن رہے۔ جس شاندار فارم کے ساتھ وہ عالمی کپ کھیلنے جا رہے ہیں، اس وقت شاید ہی دنیا کا کوئی اور بلے باز اس تواتر کے ساتھ رنز بنا رہا ہو۔ ان کی آخری چند اننگز ہی دیکھ لیں 103، 26، 97، 54 اور اب 112 رنز۔ آج ولیم سن نے صرف 88 گیندوں پر ایک چھکے اور 14 چوکوں 112 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور مرد میدان قرار پائے۔ ان تینوں بلے بازوں کی اننگز پاکستان کو اتنی بھاری پڑیں کہ گرانٹ ایلیٹ اور لیوک رونکی سے نمٹنے کے باوجود 370 رنز کے بھاری بھرکم ہدف تلے دب گیا۔

پاکستان کے گیند بازوں کے لیے یہ مقابلہ بہت مایوس کن رہا، بالخصوص نوجوان بلاول بھٹی اور احسان عادل کے لیے کہ جن کے 18 اوورز میں 161 رنز لوٹے گئے۔ بلاول نے تو کسی اننگز میں سب سے زیادہ رنز دینے کا قومی ریکارڈ ہی برابر کردیا۔ ان کے 10 اوورز میں 93 رنز بنے جبکہ احسان نے 8 اوورز میں68 رنز دیے۔ پاکستان کو پانچویں مستقل گیندباز کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہوئی۔ حارث سہیل، احمد شہزاد اور یونس خان نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے 12 اوورز پھینکے لیکن 93 رنز کھائے۔ صرف محمد عرفان اور شاہد آفریدی نے کسی حد تک بہتر باؤلنگ کی لیکن دیگر باؤلرز کا ساتھ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔

اب عالمی کپ سر پر کھڑا ہے اور پاکستان کے کھلاڑیوں کے حوصلے انتہائی پستی کو چھو رہے ہیں (تصویر: AFP)

اب عالمی کپ سر پر کھڑا ہے اور پاکستان کے کھلاڑیوں کے حوصلے انتہائی پستی کو چھو رہے ہیں (تصویر: AFP)

بہرحال، ایک بہت بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستان سے کیا توقع رکھی جا سکتی تھی۔ جو 250 رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں لڑکھڑا جائے، اس کے لیے 370 رنز کا ہدف ناممکنات میں سے ایک تھا۔ پھر بھی محمد حفیظ اور احمد شہزاد کی شراکت داری نے آگے بڑھنے کے لیے بہترین آغاز فراہم کیا۔ دونوں نے 20 اوورز میں 111 رنز دیے لیکن ان کے بعد وہی پرانی کہانی دہرائی گئی۔ یعنی مصباح الحق کا ساتھ دینے کے لیے کوئی آگے نہ آ سکا اور پوری ٹیم 44ویں اوور میں 250 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

محمد حفیظ، جو اپنی باؤلنگ پر پابندی کی وجہ سے اب آل راؤنڈر کے بجائے محض ایک بلے باز کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں، کے لیے کارکردگی دکھانا بہت ضروری تھا اور آج 89 گیندوں پر 86 رنز کی باری نے ان کی اہلیت ثابت بھی کی ہے۔ دوسرے کنارے پر احمد شہزاد نے بھی 62 گیندوں پر 55 رنز بنا کر گزشتہ ناکامیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کی باریاں حالات کے مطابق نہیں تھیں۔ پاکستان ان دونوں کی موجودگی میں ابتدائی 20 اوورز تک وکٹ کھونے سے تو بچا رہا لیکن ایک مرتبہ بھی 6 رنز فی اوورز کا اوسط تک حاصل نہ کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی احمد شہزاد کی وکٹ گری، آنے والے بلے بازوں پر درکار رنز اوسط کا بڑھتا ہوا دباؤ نظر آیا اور وہ ایک، ایک کرکے اپنی وکٹیں دیتے رہے۔ سب سے پہلے یونس خان گئے جنہوں نے 14 گیندوں پر صرف 11 رنز بنائے، پھر حفیظ کی قیمتی وکٹ گری اور پھر ان کے جاتے ہی وکٹوں کی جھڑی لگ گئی۔ پاکستان نے صرف 63 رنز کے اضافے سے آخری 7 وکٹیں گنوائیں جن میں واحد قابل ذکر بلے باز مصباح تھے جنہوں نے 51 گیندوں پر 45 رنز بنائے۔ باقی شاہد آفریدی 11، عمر اکمل 4، حارث سہیل 6 اور سرفراز احمد 13 رنز کے ساتھ منہ لٹکائے میدان سے واپس آئے۔

بے اثر باؤلنگ، بے جان فیلڈنگ اور اس کے بعد بدترین بلے بازی عالمی کپ کے لیے پاکستانی شائقین کی امیدوں کا خاتمہ کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کو عالمی کپ میں اپنا پہلا مقابلہ ہی روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلنا ہے۔ اس لیے اب دو وارم اپ مقابلوں میں جان لڑانا ہوگی تبھی کسی بہتر نتیجے کی توقع ہے ورنہ عالمی کپ کا آغاز شکست کے ساتھ ہی متوقع دکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments