آئی سی سی کے اقدامات، بلّے بنانے والے ادارے اور بیٹسمین پریشان

عالمی کپ سے محض چند روز قبل بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے کرکٹ کے کھیل میں توازن پیدا کرنے کا شوشہ چھوڑ کر بلے بازوں اور بیٹ بنانے والے اداروں کو پریشان کردیا ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ بلّے کی جسامت نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی ہیں جنہوں نے کھیل کو بلے بازوں کے حق میں جھکا دیا ہے۔

نئے قوانین کے بعد کھیلے گئے 294 مقابلوں میں 2181 چھکے لگ چکے ہیں جبکہ اوسط رن ریٹ بھی 5.20 ہے (تصویر: AFP)

نئے قوانین کے بعد کھیلے گئے 294 مقابلوں میں 2181 چھکے لگ چکے ہیں جبکہ اوسط رن ریٹ بھی 5.20 ہے (تصویر: AFP)

چند روز قبل بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے کہا تھا کہ جدید کرکٹ بیٹس نے کھیل کے توازن کو بری طرح بگاڑا ہے اور آئی سی سی اس معاملے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ کھیل کو متوازن بنانے کے لیے وہ عالمی کپ کے دوران، جہاں بھی ممکن ہوا، باؤنڈری لائن کو کم از کم 90 میٹر کے فاصلے پر رکھے گا۔

خطرے کی بو سونگھتے ہی بیٹ بنانے والے ادارے اور بلے باز چوکنے ہوگئے ہیں اور انہوں نے دیگر عوامل کی جانب اشارہ کیا ہے جس کی وجہ سے کھیل کا توازن بری طرح بگڑا ہے۔ ان کے خیال میں مختصر باؤنڈریز، دونوں کناروں سے الگ، الگ گیند کا استعمال اور 30 گز کے دائرے سے باہر ایک وقت میں صرف چار فیلڈرز کی موجودگی وہ اہم عوامل ہیں جو کرکٹ کو بیٹسمینوں کا کھیل بنا رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے اخبار سڈنی مارننگ ہیرالڈ سے بات کرتے ہوئے اسپارٹن اسپورٹس کے کنل شرما نے کہا کہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلے 20 اوورز تک بالکل نئی نویلی گیند بلے بازوں کو ملتی ہے۔ بلّے بنانے والے دوسرے ادارے گن اینڈ مور کے برانڈ مینیجر گریگ ایمی چھوٹے میدانوں کو اہم عنصر گردانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کرکٹ تبدیل ہوچکا ہے اور بلے بازوں کا کھیل بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ کئی عوامل ہیں جو اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس لیے صرف بلوں پر انگلی اٹھانا مناسب نہیں۔ گرے نکلس کے اسپانسر مینیجر مائیکل ریڈ صرف بلوں کا سائز نہیں، بلکہ دیگر تبدیلیوں نے بھی بڑے مجموعوں کی راہ ہموار کی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے بلے باز آرون فنچ نے بھی بیٹ بنانے والے ان اداروں کی 'ہاں میں ہاں' ملائی ہے۔ کہتے ہیں کہ کھیل کے توازن کو بگاڑنے میں اہم کردار قوانین کا ہے، خاص طور پر فیلڈنگ کے نئے قانون کا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے 2011ء میں دونوں کناروں نےالگ، الگ گیند کے استعمال کا قانون متعارف کروایا تھا اور اس کے ایک سال بعد فیلڈنگ کے قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک وقت میں دائرے سے باہر صرف چار فیلڈرز کی موجودگی کا حکم دیا۔ اس سے پہلے بیک وقت پانچ فیلڈرز دائرے سے باہر موجود رہ سکتے ہیں۔ فنچ کہتے ہیں کہ فیلڈنگ کے اس قانون نے بلے بازوں کو اعتماد دیا کہ وہ باآسانی باؤنڈریز حاصل کریں، اس خطرے سے بالاتر ہو کر کہ ان کا لگایا گیا اونچا شاٹ کسی فیلڈر کے ہاتھوں میں جائے گا۔

آرون فنچ نے مزید کہا کہ دونوں اینڈز سے الگ گیندوں کے استعمال نے بھی بڑا فرق پیدا کیا ہے۔ ماضی میں ایک ہی گیند دونوں کناروں سے استعمال ہوتی تھی تو باؤلرز خوب ریورس سوئنگ حاصل کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

اعدادوشمار بھی بتاتے ہیں کہ قانون کی تبدیلی سے بلے بازوں کے لیے معاملات آسان ہوگئے ہیں۔ ان قوانین کی تبدیلی کے بعد اب تک کھیلے گئے 294 مقابلوں میں بلے بازوں نے 2181 چھکے لگائے ہیں جبکہ ان سے عین پہلے کے 294 مقابلوں میں یہ تعداد 1722 تھی۔ اس کے علاوہ نئے قوانین کے بعد کھیلے گئے ایک روزہ مقابلوں میں اوسط رن ریٹ بھی 5.20 ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ جدید ایک روزہ کرکٹ میں گیند بازوں کی حالت قابل رحم ہے۔

عالمی کپ میں باؤنڈری لائن کی طوالت کو بڑھا کر جس سلسلے کا آغاز کیا گیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ کہاں تک جاتا ہے۔

Facebook Comments