کیا پاکستان عالمی کپ کے لیے سنجیدہ ہے؟

تیز اور اسپن دونوں طرز کی گیندبازی ابتداء ہی سے پاکستان کا اہم ہتھیار رہی ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی منفرد شناخت ہی اس کی گیندبازی کی بدولت قائم ہے۔ فضل محمود، سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے تیز گیندباز اور عبد القادر، مشتاق احمد اور ثقلین مشتاق جیسے اسپنر کی خدمات رکھنے والی ٹیموں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے وہ جگ ظاہر ہیں۔ وہ پاکستانی کرکٹ کے سنہرے ادوار تھے جب ان کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں سے ٹیم کو وہ استحکام بخشا جو آج بھی یاد کیا جائے۔

جس دستے کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے ایسا لگتا ہےکہ پاکستان کو عالمی کپ میں کوئی دلچسپی نہیں (تصویر: Getty Images)

جس دستے کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے ایسا لگتا ہےکہ پاکستان کو عالمی کپ میں کوئی دلچسپی نہیں (تصویر: Getty Images)

لیکن پچھلے چند سالوں سے گیندبازوں کی زرخیز زمین خشک نظر آ رہی ہیں۔ محمد آصف اور محمد عامر جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کے قبیح فعل سے ہونے والے نقصان کے علاوہ پاکستان کے موجودہ گیندباز بھی اپنی ناقص اور مایوس کن کارکردگی نے قومی کرکٹ کو پستی میں دھکیل رہے ہیں۔ اس کا تازہ ترین نظارہ ہمیں دورۂ نیوزی لینڈ میں دیکھنے کو ملا۔ کہاں وہ ٹیم کے جس نے پچھلے دورے میں ایک ہی سیشن میں پوری نیوزی لینڈ کی ٹیم کو آؤٹ کر دینے کا کارنامہ انجام دیا تھا اور کہاں یہ حال کہ بلاول بھٹی اور احسان عادل کے 18 اوورز میں نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے 161 رنز لوٹ لیے۔ پاکستان پانچویں گیندباز کے لیے بھی مشکلات سے دوچار ہے اور یونس خان، احمد شہزاد اور حارث سہیل کے ذریعے اس مورچے کو سنبھالا۔ پاکستانی گیندبازی کی یہ صورتحال کپتان مصباح الحق کے لیے باعث تشویش ہے جس کا اعتراف انہوں نے دوسرے ایک روزہ کے بعد گفتگو کے دوران بھی کیا۔

پاکستان کی باؤلنگ کی خستہ حالی کا اندازہ محض اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوسرے ایک روزہ میں نیوزی لینڈ کے مجموعی اسکور میں 40 باؤنڈریز شامل تھی، جن میں اہم کردار روس ٹیلر اور کین ولیم سن کا تھا کہ جنہوں نے بالترتیب 70 گیندوں پر 102 اور 88 گیندوں پر 112 رنز کی دھواں دار باریاں کھیلیں۔ پاکستانی گیندبازوں کی بے چارگی اور مظلومیت کا نظارہ تن تنہا بلاول بھٹی کی کارکردگی نے بیان کیا کہ جن کے 10 اوورز میں 93 رنز پڑے اور وہ کسی مقابلے میں سب سے زیادہ رنز کھانے والے پاکستانی گیندباز بن گئے۔

عالمی کپ سے محض چند روز قبل یہ صورتحال پاکستان کے لیے پریشانی کا باعث ہے اور یہ بات شائقین کرکٹ کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کس طرح اتنی کمزور ٹیم عالمی کپ کے لیے روانہ کی گئی ہے۔ 15 رکنی دستے کو دیکھنے سے ہی اندازہ ہورہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ، انتخابی کمیٹی، کپتان اور کوچ سب سے نہایت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ انہیں عالمی کپ جیتنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور محض خانہ پری کے لیے قومی ٹیم کو عالمی اکھاڑے میں اتارا جا رہا ہے۔ جو ٹیم جیتنے کا ولولہ رکھتی ہے اس کی تیاری بھی اسی انداز سے کرائی جاتی ہے۔

اب مصباح الحق کی زیر قیادت پاکستانی ٹیم عالمی کپ میں کیا گل کھلائے گی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

اندھیری رات ، طوفانی ہوا، ٹوٹی ہوئی کشتی
یہی اسباب کیا کم ہیں کہ اب جو ناخدا تم ہو

Facebook Comments