سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن شفاف قرار دے دیا گیا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے عالمی کپ سے محض چند روز قبل پاکستان کے مایہ ناز اسپن گیندباز سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو شفاف قرار دے دیا ہے۔ اگست میں باؤلنگ ایکشن پر شکوک پیدا ہونے کے بعد سعید اجمل جانچ میں ناکام ثابت ہوئے تھے ۔ آئی سی سی نے باضابطہ جانچ میں ان کی تمام گیندوں مقررہ حدود سے تجاوز کرتا پایا، جس پر انہیں فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ سے روک دیا گیا البتہ ان کے لیے پاس اپنے باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنانے اور اس کے بعد دوبارہ جانچ کے لیے پیش ہونے کا دروازہ کھلا تھا۔ جسے استعمال کرنے کے لیے سعید اجمل نے ثقلین مشتاق کی خصوصی نگرانی اور باؤلنگ کوچ مشتاق احمد، نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ محمد اکرم اور دیگر کے ساتھ کئی ماہ انتھک محنت کی اور چند روز قبل بھارت کے شہر چنئی میں آئی سی سی کی منظور شدہ تنصیب میں حتمی جانچ کروائی جس کے نتائج کے مطابق ان کی تمام گیندیں 15 درجے کی حد کے اندر ہیں۔

باؤلنگ ایکشن کی جانچ میں ناکامی کے بعد سعید اجمل پر ستمبر میں پابندی لگائی گئی تھی (تصویر: AFP)

باؤلنگ ایکشن کی جانچ میں ناکامی کے بعد سعید اجمل پر ستمبر میں پابندی لگائی گئی تھی (تصویر: AFP)

آئی سی سی کے اعلامیہ کے مطابق سعید اجمل کے علاوہ بنگلہ دیش کے سہاگ غازی کے باؤلنگ ایکشن کو بھی درست قرار دیا گیا ہے، جو چند ماہ قبل سعید اجمل ہی کی طرح پابندی کی زد میں آئے تھے۔ اب دونوں گیندباز بین الاقوامی کرکٹ میں آج ہی سے باؤلنگ کروا سکتے ہیں البتہ وہ امپائروں کی کڑی نگرانی میں رہیں گے کیونکہ ان کے نئے باؤلنگ ایکشن کی وڈیو اور دیگر ثبوت امپائروں کو فراہم کردیے گئے ہیں اور اگر کسی بھی مقابلے کے دوران انہيں شبہ ہوا کہ ان گیندبازوں کا ایکشن قانونی حدود کو توڑ رہا ہے تو وہ ایک بار پھر انہیں رپورٹ کرسکتے ہیں اور اس کے بعد ان پر طویل پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

ویسے اس خبر کے بعد سب سے پہلا سوال جو ہر پاکستانی، اور کرکٹ، پرستار کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب سعید اجمل ورلڈ کپ کھیلیں گے؟ اور حقیقت یہ ہےکہ اس کا جواب ابھی تک معلوم نہیں ہے۔ پاکستان عالمی کپ کے لیے کے 15 رکنی دستے کا اعلان کرچکا ہے، جو زخمی تھے ان کے متبادل بھی بلا لیے گئے۔ اب صرف ایک ہی صورت بن سکتی ہے کہ کوئی کھلاڑی زخمی ہوجائے اور پاکستان اس کی جگہ سعید اجمل کو طلب کرے۔ لیکن سعید اجمل خود کہتے ہیں کہ وہ موجودہ صورتحال میں عالمی کپ نہیں کھیلنا چاہتے۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو پچھلے پانچ ماہ سے میچ نہ کھیلنا اور دوسرا یہ سوال بھی اٹھنا کہ نیا باؤلنگ ایکشن کتنا کارگر ہوگا، پھر اتنے بڑے تنازع کے بعد سعید اجمل کے اعتماد کو بھی بہت ٹھیس پہنچی ہوگی، اس صورتحال میں ان کا نہ کھیلنا پاکستان کے لیے ہی نہیں خود ان کے لیے بھی بہتر ہے۔ پھر بھی حتمی فیصلہ کسی ہنگامی صورت میں ہی ممکن ہوگا اور سعید کہتے ہیں کہ اگر بہت مجبوری ہوئی اور بورڈ نے مجھے بھیجنے کا فیصلہ کیا تو وہ اس فیصلے کا احترام کریں گے۔

Facebook Comments