عالمی کپ، ہاٹ اسپاٹ استعمال نہیں ہوگا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے گزشتہ عالمی کپ کی طرح اس بار بھی فیصلوں پر نظرثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کے استعمال کا فیصلہ تو تین ماہ قبل کرلیا تھا، لیکن آج اعلان کیا گیا ہے کہ ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی شامل نہیں ہوگی۔

کھلاڑی گزشتہ عالمی کپ کی طرح اس بار بھی امپائر کے فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرکے تیسرے امپائر سے رجوع کرسکتے ہیں (تصویر: Getty Images)

کھلاڑی گزشتہ عالمی کپ کی طرح اس بار بھی امپائر کے فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرکے تیسرے امپائر سے رجوع کرسکتے ہیں (تصویر: Getty Images)

ڈی آر ایس کا پہلی بار استعمال 2011ء کے عالمی کپ میں کیا گیا تھا جس کے تمام 49 مقابلوں میں کھلاڑیوں کو امپائر کے فیصلے سے اختلاف کا حق حاصل تھا جس نے چند تنازعات کو بھی جنم دیا اور کئی اہم ترین مقابلوں میں فیصلہ کن کردار بھی ادا کیا۔ اس نظام کا مقصد فیلڈ امپائر کی نظروں سے ہوجانے سے والی چوک کا ازالہ کرنا تھا لیکن اس کے باوجود ڈی آر ایس نے کھیل کی پیچیدگی میں اضافہ کیا اور تنازعات کو کم کرنے میں ناکام دکھائی دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے بارہا اس نظام کی مخالفت کی اور آج بھی وہ اپنی کسی بھی سیریز میں ڈی آر ایس کا استعمال نہ کرتا ہے، اور نہ ہونے دیتا ہے لیکن اس کے باوجود 2015ء کے عالمی کپ میں اس کا استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ تمام مقابلوں میں لاگو ہوگا۔

البتہ ہاٹ اسپاٹ کا عدم استعمال تنازع کو بڑھاوا دے سکتا ہے۔ ہاٹ اسپاٹ ایسی ٹیکنالوجی ہے جو تعین کرتی ہے کہ آیا گیند بلے کو چھوتی ہوئی گئی ہے یا نہیں اور اس کا استعمال کیچ کے علاوہ ایل بی ڈبلیو کے فیصلوں میں بھی بہت اہم ہوتا ہے لیکن آئی سی سی کے کرکٹ آپریشنز مینیجر جیف آلرڈائس کا کہنا ہے کہ ہاٹ اسپاٹ کو بھاری اخراجات اور تمام میزبان شہروں میں اس کے لیے درکار آلات کی دستیابی میں مشکلات کی وجہ سے باہر کیا گیا ہے۔ البتہ بال ٹریکنگ ٹیکنالوجی "ہاک-آئی" اور گیند کے بلے سے چھونے کی معمولی آواز کو بھی محسوس کرنے والی ٹیکنالوجی "اسنکو" عالمی کپ کے تمام مقابلوں میں استعمال ہوگی ۔

Article Tags

Facebook Comments