عالمی کپ کے 30 جادوئی لمحات: تاریخ کا بہترین ایک روزہ مقابلہ

عالمی کپ 16 سال کے طویل عرصے کےبعد ایک بار پھر انگلستان کی سرزمین پر واپس پہنچا۔ پچھلی بار کی طرح جنوبی افریقہ ایک مرتبہ پھر عالمی اعزاز کے لیے مضبوط امیدوار تھا۔ تمام مضبوط حریفوں کو شکست دینے کے بعد آخری گروپ مقابلے میں زمبابوے سے شکست بھی اس کے حوصلوں کو نہ توڑ سکی۔ "پروٹیز" نے سپر سکسز مرحلے کا آغاز پاکستان کے خلاف 3 وکٹوں کی سنسنی خیز جیت کے ذریعے کیا اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کو زیر کرتا ہوا آسٹریلیا کے خلاف آخری مقابلے میں پہنچا جہاں اسٹیو واہ کی تاریخی اننگز نے آسٹریلیا کو عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہونے سے بچایا۔ بہرحال، بعد میں یہی دونوں ٹیمیں عالمی کپ کے سیمی فائنل میں بھی مقابل آئیں۔ پاکستان نیوزی لینڈ کو روندتے ہوئے فائنل تک پہنچ چکا تھا اور اس کے مقابل ٹیم کا فیصلہ 17 جون 1999ء کو برمنگھم میں ہونا تھا۔

صرف ایک غلطی، ایک چوک اور ذرا سی غفلت نے جنوبی افریقہ کو یقینی جیت سے محروم کردیا (تصویر: Getty Images)

صرف ایک غلطی، ایک چوک اور ذرا سی غفلت نے جنوبی افریقہ کو یقینی جیت سے محروم کردیا (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا نے ٹاس جیتا، پہلے بلے بازی سنبھالی اور پہلے ہی اوور میں مارک واہ کی وکٹ گنوائی اور اس کے بعد 68 رنز تک پہنچتے پہنچتے رکی پونٹنگ، ڈیرن لیمن اور ایڈم گلکرسٹ بھی ڈریسنگ روم میں واپس آچکے تھے۔ جنوبی افریقہ مقابلے پر حاوی تھا جب مائیکل بیون نے ایک مرتبہ پھر مرد بحران کا کردار ادا کیا۔ چار سال قبل عالمی کپ 1996ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایسے ہی سیمی فائنل میں یادگار اننگز کھیلنے والے مائیکل بیون نے اس بار کپتان اسٹیو واہ کے ساتھ مل کر اننگز کو مزید شکست و ریخت سے بچایا اور پانچویں وکٹ پر 90 رنزجوڑے۔ بیون نے 101 گیندیں کھیلیں اور 65 رنز بنائے جبکہ اسٹیو واہ 76 گیندوں پر 56 رنز کے ساتھ دوسرے اہم بلے باز رہے۔ دوسرا کوئی بلے باز ایلن ڈونلڈ اور شان پولاک کے سامنے نہیں ٹک سکا اور آسٹریلیا آخری اوور میں صرف 213 رنز پر ڈھیر ہوگیا۔

جنوبی افریقہ کے مقابلے پر حاوی ہونے میں اگر کسی کو شبہ تھا تو وہ پہلی وکٹ پر گیری کرسٹن اور ہرشل گبز کی 48 رنز کی شراکت داری نے ختم کردیا۔ تاریخ کا پہلا فائنل کھیلنے کے لیے جنوبی افریقہ سے صرف 166 رنز کے فاصلے پر تھا اور اس کی طویل بیٹنگ لائن کے لیے یہ ہدف بائیں ہاتھ کا کھیل تھا لیکن شین وارن نے انہیں 'دائیں ہاتھ' سے بھی نہ کرنے دیا۔ ان کی تین جادوئی گیندوں نے ہرشل گبز، گیری کرسٹن اور ہنسی کرونیے کی اننگز کا خاتمہ کردیا اور مائیکل بیون کے براہ راست تھرو نے ڈیرل کلینن کی اننگز بھی تمام کردی۔ صرف 13 رنز کے اضافے سے جنوبی افریقہ چار وکٹیں گنوا چکا تھا۔

اس دھچکے کے باجود یہ سمجھنا کہ جنوبی افریقہ سنبھلنے کی پوری قوت رکھتا تھا۔ ژاک کیلس اور جونٹی رہوڈز نے بکھرتی ہوئی اننگز کو سنبھالا دیا اور ہدف کو آخری 10 اوورز میں 68 رنز تک پہنچا دیا۔ طویل بیٹنگ لائن اور آخر میں شان پولاک، لانس کلوزنر اور مارک باؤچر جیسے بلے بازوں کی موجودگی کی بدولت یہ ہدف بہت آسان دکھائی دیتا تھا۔ جونٹی رہوڈز کی 55 گیندوں پر 43 رنز کی اننگز ختم ہونے کے بعد کیلس اور پولاک نے چار اوورز میں 30 رنز جوڑے۔ جہاں ایک بار پھر شین وارن آ گئے انہوں نے 53 رنز بنانے والے ژاک کیلس کو آؤٹ کیا جبکہ اگلے اوور میں ڈیمین فلیمنگ نے شان پولاک کو بولڈ کرکے لانس کلوزنر اور مارک باؤچر کو سخت دباؤ کا شکار کردیا۔ کلوزنر چند روز قبل ایسے ہی ایک مقابلے میں پاکستان کے برق رفتار گیندبازوں کے چھکے چھڑا چکے تھے، امید کی بڑی کرن تھے۔

میک گرا کی طرف سے پھینکا گیا 49 واں اوور یادگار تھا۔ انہوں نے وکٹیں چھوڑ کر کھیلنے والے مارک باؤچر کی درمیانی گلی اڑائی، پھر لانگ آف سے پال رائفل کے شاندار تھرو کو سیکنڈ کے ایک معمولی حصے میں وکٹوں کی طرف پھیر کو رن آؤٹ کے ذریعے جنوبی افریقہ کی نویں وکٹ بھی حاصل کی لیکن اسی مقام پر رائفل نے مقابلے کے خاتمے کا موقع گنوایا۔ اوور کی پانچویں گیند، جو فل ٹاس تھی، کو لانگ آن پر کھڑے رائفل کیچ پکڑنے میں تو ناکام ہی رہے، لیکن اچھال کر چھکے کے لیے بھی روانہ کردیا۔

جنوبی افریقہ کو آخری اوور میں 9 رنز درکار تھے، ایک بار پھر ڈیمین فلیمنگ باؤلنگ کروانے کے لیے آئے اور پہلی دو گیندوں پر ہی کلوزنر سے دو چوکے کھا بیٹھے۔ جنوبی افریقہ گویا ایک قدم فائںل میں رکھ چکا تھا ۔ فلیمنگ کو دن میں تارے نظر آ گئے تھے کیونکہ اب اسے چار گیندوں پر صرف ایک رن کی ضرورت تھی۔ یہ سکون کا سانس لینے کا وقت تھا لیکن نان-اسٹرائیکر ایلن ڈونلڈ کی غائب دماغی نے کلوزنر کو سخت دباؤ میں ڈال دیا۔ اوور کی تیسری گیند پر ڈونلڈ ڈیرن لیمن کا تھرو براہ راست نہ لگنے کی وجہ سے رن آؤٹ سے بچ گئے لیکن چوتھی گیند پر جب انہیں دوڑنا چاہیے تھے، کلوزنر کی آواز پر دھیان نہ دے سکے اور جب ہوش آیا تو دیکھا کہ کلوزنر برابر میں کھڑے ہیں، اب بلّا چھوڑ کر بھاگے لیکن کہانی ختم ہوچکی تھی۔ دراصل کلوزنر فلیمنگ کی یارکر کو بھرپور انداز میں کھیلنے میں ناکام ہوئے، گیند مڈ آن پر کھڑے مارک واہ کے ہاتھ میں گئی جنہوں نےنان اسٹرائیکنگ اینڈ پر تھرو پھینکا، جہاں فلیمنگ نے اسے تھاما اور آہستگی سے وکٹ کیپر کی جانب روانہ کردیا، جنہوں نے وکٹیں بکھیریں اور دیوانہ وار جشن شروع ہوگیا۔ آسٹریلیا کے سب کھلاڑی بیچ میدان میں بغل گیر تھے اور ان میں سے کئی کھلاڑیوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ درحقیقت وہ فائنل میں پہنچ چکے ہیں لیکن کیونکہ 'سپر سکس' مرحلے کے اختتام پر آسٹریلیا کا نیٹ رن ریٹ بہتر تھا، اس لیے وہ فائنل کھیلنے کا حقدار قرار پایا۔

شین وارن نے جس طرح 1996ء میں ویسٹ انڈیز کو یقینی جیت سے محروم کیا تھا، بالکل اسی طرح جنوبی افریقہ کے خلاف بھی 10 اوورز میں 29 رنز دے کر 4وکٹوں کی یادگار کارکردگی دکھائی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ وہ آسٹریلیا کو مسلسل دوسری بار عالمی کپ کے فائنل میں پہنچا چکے تھے جبکہ جنوبی افریقہ 'ایک بار پھر' جیتی ہوئی بازی ہار گیا۔

عالمی کپ 99ء کے فائنل میں اب آسٹریلیا کا مقابلہ اسی پاکستان کے ساتھ ہونا تھا، جس کے خلاف اسے گروپ مرحلے میں شکست ہوئی تھی۔ لیکن اس نے پاکستان کو کس طرح زیر کیا، اس کا ذکر اگلی قسط میں۔ تب تک ان یادگار لمحات کا لطف اٹھائیں، جن کی وجہ سے عالمی کپ 99ء کا دوسرا سیمی فائنل "تاریخ کا بہترین ایک روزہ مقابلہ" کہلاتا ہے۔

Facebook Comments