عالمی کپ: آسٹریلیا کی تیاریاں عروج پر، بھارت کو ایک اور شکست

عالمی کپ 2015ء سے پہلے لہو گرمانے کے لیے 'وارم-اپ' مقابلوں کی شروعات ہوچکی ہے اور آسٹریلیا نے پہلے مقابلے میں دفاعی چیمپئن بھارت کو باآسانی 106 رنز سے شکست دے کر اپنے حوصلے مزید بلند کرلیے ہیں۔

372 رنز کا تعاقب بھارت کے بس کی بات ہی نہ تھی، محض شکست کا مارجن کم کرنے کی کوششیں کی گئیں (تصویر: AFP)

372 رنز کا تعاقب بھارت کے بس کی بات ہی نہ تھی، محض شکست کا مارجن کم کرنے کی کوششیں کی گئیں (تصویر: AFP)

ایڈیلیڈ کے اس میدان پر کہ جہاں بھارت کو ٹھیک ایک ہفتے بعد روایتی حریف پاکستان کا سامنا کرنا ہے، بھارت کی نازک مزاج باؤلنگ لائن کا بہت سخت امتحان دیکھنے کو ملا۔ آسٹریلیا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ڈیوڈ وارنر اور گلین میکس ویل کی دھواں دار بلے بازی کی بدولت 371 رنز کا بھاری مجموعہ اکٹھا کیا اور پھر اپنے تیز گیندبازوں کی مدد سے بھارت کی توپوں کو صرف 265 رنز پر خاموش کردیا۔ اس لیے آسٹریلیا کے لیے فی الحال تو "سب اچھا" دکھائی دیتا ہے خاص طور پر گلین میکس ویل کا عالمی کپ سے پہلے ایسی شاندار اننگز کھیلنا تمام مقابل ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

پہلے وارنر نے صرف 83 گیندوں پر 104 رنز بنائے تو بعد میں گلین میکس ویل نے 57 گیندوں پر 122 رنز کی شعلہ فشاں اننگز کھیلی۔ میکس کی اننگز میں 8 چھکے اور 11 چوکے شامل تھے جس میں کئی انوکھے اور خوبصورت شاٹس شامل تھے۔ آف اسٹمپ سے باہر پڑنے والی گیندیں ہوں یا شارٹ پچ، ہر گیند نے اسٹینڈز میں جگہ پائی۔

میکس ویل کی اس دھواں دار اننگز کو کوئی بھارتی گیندباز نہ روک پایا اور بالآخر 122 رنز بنانے کے بعد انہوں نے ریٹائرڈ ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ دیگر بلے بازوں کو بھی کھیلنے کا موقع ملا۔ وارنر اور میکس ویل کے علاوہ قائم مقام کپتان جارج بیلی کے 44 رنز بھی آسٹریلیا کے مجموعے میں شامل رہے یہاں تک کہ پوری ٹیم 49 ویں اوور میں 371 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔

بھارت کی جانب سے محمد شامی نے تین وکٹیں حاصل کیں، لیکن ان کے 9.2 اوورز میں 83 رنز پڑے جبکہ ایشانت شرما کی جگہ عالمی کپ میں طلب کی جانے والے موہیت شرما نے 6 اوورز میں 62 اور امیش یادو نے 9 اوورز میں 52 رنز کی مار کھائی، البتہ دونوں نے دو، دو وکٹیں ضرور لیں۔ نوجوان آکشر پٹیل نے صرف 5 اوورز میں 47 رنز دیے اور ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ ان کے مقابلے میں روی چندر آشون نے 6 اوورز میں 29 اور بھوونیشور کمار نے پانچ اوورز میں 31 رنز دیے، لیکن رنز روکنےکے باوجود دونوں کو وکٹیں نہیں ملیں۔

اپنے میدانوں پر بڑے سے بڑے ہدف کو آسان بنانے والے بھارت کے لیے 372 رنز حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ ابتداء ہی میں اپنے دو مرتبہ کے ڈبل سنچورین روہیت شرما کی وکٹ گنوانی پڑی۔ روہیت فٹ ہونے کے بعد پہلی بار میدان میں اترے تھے لیکن 14 گیندوں پر 9 رنز کی غیر متاثر کن کارکردگی دکھانے کے بعد واپس آئے۔ امیدوں کے مرکز ویراٹ کوہلی نے بھارت کو 9 اوورز میں 53 رنز تک پہنچایا لیکن مچل اسٹارک کی ایک خوبصورت گیند کو اپنی ہی وکٹوں پر کھیلنے سے کوہلی کی اننگز کا خاتمہ ہوگیا۔

گلین میکس ویل کی اننگز نے تمام گیندبازوں کے لیے خطرے کی گھنٹے بجا دی ہے (تصویر: Getty Images)

گلین میکس ویل کی اننگز نے تمام گیندبازوں کے لیے خطرے کی گھنٹے بجا دی ہے (تصویر: Getty Images)

اس مرحلے پر اجنکیا راہانے اور شیکھر دھاون نے104 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ بھارت کے لیے حوصلہ افزاء بات شیکھر دھاون کا کارکردگی پیش کرنا تھا، جو حالیہ سہ فریقی سیریز کے چار مقابلوں میں صرف ایک بار دہرے ہندسے میں داخل ہو پائے تھے، آج 71 گیندوں پر 59 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ آسٹریلیا نے پے در پے راہانے، دھاون، سریش رینا اور مہندر سںگھ دھونی کی وکٹیں حاصل کرکے مقابلے کی فضاء ختم کردی۔ راہانے 52 گیندوں پر 66 رنز بنائے جبکہ دھونی صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔

اسٹورٹ بنی کے جانسن کے ہاتھوں بولڈ ہونے کے بعد آٹھویں وکٹ پر امباتی رایوڈو اور رویندر جدیجا نے شکست کے مارجن کو کم کرنے کی کوشش کی اور آٹھویں وکٹ پر 69 رنز جوڑے۔ رایوڈو نے 42 گیندوں پر 53 جبکہ جدیجا نے 28 گیندوں پر 20 رنز بنائے، یہاں تک کہ 46 ویں اوور میں آشون کے آؤٹ ہوتے ہی بھارت کی اننگز 265 رنز پر تمام ہوگئی۔

آسٹریلیا کی جانب سے پیٹرک کمنز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دو، دو کھلاڑیوں کو مچل اسٹارک، مچل جانسن اور جوش ہیزل ووڈ نے آؤٹ کیا۔

اس جامع فتح نے آسٹریلیا کے حوصلوں کو مزید بلند کردیا ہے جبکہ بھارت کے لیے اب بہت مشکلات پیدا ہوتی جا رہی ہیں۔ ڈھائی تین مہینوں سے وہ آسٹریلیا میں موجود ہے اور ابھی تک کوئی ایک مقابلہ بھی جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ بہرحال، یہ انتظار 10 فروری کو ختم ہوجائے گا جب بھارت افغانستان کے خلاف اپنا دوسرا اور آخری وارم-اپ کھیلے گا۔ آسٹریلیا 11 فروری کو ملبورن میں متحدہ عرب امارات کے خلاف تیاریاں کرے گا۔

Facebook Comments