عالمی کپ: ناقابل یقین پاکستان معجزے کا منتظر

گزشتہ چند ماہ کی کارکردگی، نتائج اور عالمی درجہ بندی میں مقام دیکھیں تو عالمی کپ 2015ء میں پاکستان کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز جیتنے اور اس کے بعد روایتی حریف بھارت کو ایک یادگار شکست دینے کے بعد ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کی اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ایشیا کپ کے فائنل میں شکست کھانے کے بعد پاکستان دورۂسری لنکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تینوں کے خلاف ایک روزہ سیریز ہارا اور اپنے آخری 12 میں سے صرف دوفتوحات کے ساتھ پاکستان عالمی کپ کھیلنے جا رہا ہے، تیاریاں مثالی نہیں ہیں لیکن یہ سوال کہ کیا پاکستان کبھی مثالی تیاریوں کے ساتھ عالمی کپ میں شریک ہوا بھی ہے؟

پاکستان عالمی کپ میں کہاں تک جائے گا؟ ہر بار کی طرح یہ سوال اب بھی موجود ہے (تصویر: AFP)

پاکستان عالمی کپ میں کہاں تک جائے گا؟ ہر بار کی طرح یہ سوال اب بھی موجود ہے (تصویر: AFP)

تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ جب پاکستان سخت ترین مشکلات سے دوچار ہو تبھی ایسی کارکردگی پیش کرتا ہے جو حیران کن اور کڑے سے کڑے ناقدین کو بھی خاموش کرانے والی ہوتی ہے۔ پاکستان کرکٹ اپنی خداداد صلاحیتوں اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی بقاء کے جذبے سے پہچانی جاتی ہے۔

عالمی کپ 2015ء کے دوران پاکستان بھارت، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، زمبابوے، آئرلینڈ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پول 'بی' میں موجود ہے اور اپنی مہم کا آغاز 15 فروری کو روایتی حریف اور دفاعی چیمپئن بھارت کے خلاف مقابلے سے کرے گا۔ ایک ایسا مقابلہ جو کرکٹ تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ ہوگا۔ کیا پاکستانی ٹیم اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو ظاہر کرپائے گی؟ کیا وہ کوارٹر فائنل سے آگے بھی جا پائے گی؟ ان سوالات کا جواب صرف وقت دے سکتا ہے۔

طاقت:

بدترین صورتحال سے دوچار ہونے کے باوجود پاکستان کی طاقت اس وقت بھی اس کے گیندباز ہیں۔ اپنے تین سرفہرست گیندبازوں سعید اجمل، محمد حفیظ اور جنید خان سے محروم ہونے کے باوجود گیندبازی کے معاملے میں پاکستان میں اب بھی کافی دم خم باقی ہے۔ محمد عرفان، وہاب ریاض، سہیل خان اور راحت علی ایک اچھا امتزاج ثابت ہو سکتے ہیں۔ سہیل خان کہ جن کی شمولیت پر کئی حلقوں نے تعجب کا اظہار کیا تھا، قائد اعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے پر عالمی کپ کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ محمد عرفان اور وہاب ریاض کی بدولت بائیں بازو سے تیز رفتار گیندبازی کرنے والی ایک اچھی جوڑی ٹیم کو میسر ہے جبکہ لیگ اسپنر یاسر شاہ وکٹیں حاصل کرنے والے ایک اہم گیندباز کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس پر مستزاد شاہد آفریدی کی موجودگی سے باؤلنگ اٹیک متوازن دکھائی دیتا ہے۔

کمزوری:

پاکستان کی فیلڈنگ اور مڈل آرڈر بلے بازی کے بارے میں شکوک و شبہات ہنوز موجود ہیں۔ اس ضمن میں یونس خان اور کپتان مصباح الحق کا روایتی انداز ٹیم کے لیے ثمر آور ثابت نہیں ہوا ہے۔ اس عالمی کپ میں کہ جہاں نسبتاً بڑے میدان ہوں گے پاکستان کی فیلڈنگ سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہوگی۔

خاص کھلاڑی:

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا پہنچنے سے قبل حارث سہیل کی بہترین بیٹنگ فارم انہیں پاکستانی دستے کا کلیدی حصہ بناتی ہے۔ 25 سالہ حارث فاتحانہ ضرب لگانے کے تجربے کی بدولت پختہ کھلاڑی نظر آتے ہیں اور ان کے ریکارڈ پر خاصے رنز بھی موجود ہیں۔ نيز انہوں نے گیندبازی میں بھی اپنا قابل ذکر حصہ ڈالا ہے۔ پاکستان جسے زیادہ تر شاہد آفریدی پر انحصار کرنا پڑتا ہے، کو اب حارث سہیل کی صورت میں ایک باصلاحیت آل راؤنڈر ملا ہے۔

چھپا رستم:

2014ء میں اپنی غیر معمولی ٹیسٹ کارکردگی کی بدولت عالمی کپ کے لیے دستے میں شامل کیے جانے والے یاسر شاہ ایک مستند اسپنر ہیں۔ شین وارن جیسے عظیم لیگ اسپنر کی جانب سے سراہے جانے کے بعد اب یاسر کے حوصلے بہت بلند ہیں۔ اپنے پرسکون انداز کے ساتھ یاسر شاہ اپنی گیندبازی میں ایک منفرد دلکشی بھی رکھتے ہیں اور مخالف ٹیموں کو ان سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

گزشتہ عالمی کپ میں پاکستان کی کارکردگی:

چار سال قبل پاکستان تمام تر خدشات کے باوجود ناقابل یقین کارکردگی دکھاتے ہوئے سیمی فائنل تک پہنچا تھا لیکن موہالی میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں اسے شکست ہوئی۔ 30 مارچ 2011ء کو ہونے والے اس مقابلے نے برصغیر پاک و ہند میں معمولات زندگی کو ایک دن کے لیے مکمل طور پر معطل کردیا تھا یہاں تک کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم تک یہ مقابلہ دیکھنے کے لیے میدان میں موجود تھے۔ لیکن اس مایوس کن شکست سے پہلے پاکستان کی کارکردگی شاندار تھی۔ اس نے گروپ مرحلے میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا اور میزبان سری لنکا کے علاوہ دیگر کمزور حریفوں کو شکست دی اور صرف نیوزی لینڈ سے شکست کھائی۔ کوارٹر فائنل میں ٹیم پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو شکست فاش دی اور سیمی فائنل میں جگہ حاصل کی کہ جہاں پاکستان کا سفر تمام ہوگیا۔

دستہ:

مصباح الحق (کپتان)، احمد شہزاد، محمد حفیظ، سرفراز احمد (وکٹ کیپر)، یونس خان، حارث سہیل، عمر اکمل، صہیب مقصود، شاہد آفریدی، یاسر شاہ، محمد عرفان، جنید خان، احسان عادل، سہیل خان اور وہاب ریاض

عالمی کپ میں پاکستان کے گروپ مقابلے

بتاریخ بمقام
15 فروری پاکستان بمقابلہ بھارت ایڈیلیڈ
21 فروری پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز کرائسٹ چرچ
یکم مارچ پاکستان بمقابلہ زمبابوے برسبین
4 مارچ پاکستان بمقابلہ متحدہ عرب امارات نیپئر
7 مارچ پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ آکلینڈ
15 مارچ پاکستان بمقابلہ آئرلینڈ ایڈیلیڈ

Facebook Comments