سعید اجمل کی واپسی دو خطرناک گیندوں کے ساتھ ہوگی

سعید اجمل پابندی کا شکنجہ توڑنے کے بعد اب ذہنی طور پر مطمئن ہیں اور آئندہ کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی کپ میں شرکت نہ کرنے کے باوجود مستقبل کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں اور آئندہ کچھ نیا آزمانے کا عزم رکھتے ہیں۔

سعید اجمل نے باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سیم اپ اور کیرم بال بھی سیکھی ہیں (تصویر: AP)

سعید اجمل نے باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سیم اپ اور کیرم بال بھی سیکھی ہیں (تصویر: AP)

کرکٹ آسٹریلیا کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں سعید اجمل نے کہا کہ وہ ابھی مکمل آہنگ میں نہیں ہیں، اس لیے عالمی کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پھر وہ آخری وقت میں کسی دوسرے کھلاڑی کی جگہ نہیں لینا چاہتے۔ "یہ نامناسب ہے، میں اس طرح ٹیم کے لیے بوجھ نہیں بننا چاہتا،" انہوں نے کہا۔

گزشتہ سال ستمبر میں باؤلنگ ایکشن کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد سے سعید اجمل ماضی کے عظیم آف اسپنر ثقلین مشتاق کے ساتھ مل کر سخت محنت کررہے تھے اور اس کا صلہ انہیں نئے باؤلنگ ایکشن کی حتمی جانچ میں کامیابی کی صورت میں ملا ہے۔

نئے عزم و حوصلے کے ساتھ سعید اجمل کہتے ہیں کہ انہوں نے نہ صرف اپنے باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنایا ہے بلکہ دو نئی گیندیں بھی سیکھی ہیں جو بلے بازوں کو پریشان کریں گی۔ "سیم اپ گیندسیکھنے پرمحمد اکرم کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے اس پر میرے ساتھ کام کیا جبکہ دوسری گیند جو میں نے سیکھی ہے وہ کیرم بال ہے، جو دوسرا ہی کی طرح ہے۔ یہ آخری اوورز میں بلے بازوں کی جارح مزاجی سے نمٹنے کے لیے بہترین گیند ہے۔ فی الحال پاکستان کی آئندہ سیریز تین ماہ بعد ہے اور اس وقت تک میں اپنے اعتماد اور کارکردگی میں مزید بہتری لے آؤں گا۔"

سعید اجمل چھ ماہ سے بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیل پائے، اس کے باوجود ایک روزہ کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست گیندباز ہیں۔ وہ مستقبل میں اپنی کاؤنٹی وارسسٹرشائر اور آئندہ بگ بیش لیگ میں بھی کھیلنا چاہتے ہیں۔ سعید اجمل ماضی میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی جانب سے کھیل چکے ہیں اور اب ان کا کہنا ہے کہ اگر ایڈیلیڈ نے چاہا تو وہ ضرور کھیلیں گے۔

سعید اجمل کے بغیر اس وقت پاکستان کی باؤلنگ خاصی کمزور ہے۔ ان کی عدم موجودگی میں جو کسر رہ گئی تھی وہ محمد حفیظ پر پابندی اور جنید خان کے زخمی ہونے سے پوری ہوگئی ہے اور اب پاکستان انتہائی کمزور باؤلنگ کے ساتھ عالمی کپ کھیل رہا ہے۔

Facebook Comments