وارم-اپ مقابلوں کا چوتھا دن: زمبابوے اور نیوزی لینڈ کی شاندار کامیابیاں

عالمی کپ سے پہلے لہو گرمانے کے لیے کھیلے جانے والے وارم-اپ مقابلوں کے چوتھے دن دو انوکھے نتائج دیکھنے کو ملے، ایک تو نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو چت کیا تو دوسری جانب زمبابوے نے سری لنکا کو زیر کرکے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پاکستان نے انگلستان کے خلاف ہدف کا کامیاب تعاقب کرکے پیغام دیا کہ اسے آسان نہ سمجھا جائے تو آسٹریلیا نے متحدہ عرب امارات کو باآسانی شکست دی۔

جنوبی افریقہ کو میزبان نیوزی لینڈ نے عالمی کپ سے پہلے سخت تشویش میں مبتلا کردیا ہے (تصویر: Getty Images)

جنوبی افریقہ کو میزبان نیوزی لینڈ نے عالمی کپ سے پہلے سخت تشویش میں مبتلا کردیا ہے (تصویر: Getty Images)

پاک-انگلستان مقابلے کا احوال تو آپ پڑھ ہی چکے ہوں گے، اب آپ کو بتاتے ہیں کہ لنکن میں سری لنکا کے ساتھ کیا ہوا کہ جو زمبابوے کے ہاتھوں 7 وکٹ کی شکست سے دوچار ہوا حالانکہ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے اس نے 279 رنز کا اچھا اسکور بنایا تھا اور پھر 35 رنز پر زمبابوے کی دو وکٹیں بھی حاصل کرلیں تھیں۔ لیکن نتیجے پر اثرانداز ہوئیں ہملٹن ماساکازا کی شاندار سنچری اننگز اور برینڈن ٹیلر کے ساتھ ان کی 127 اور شاں ولیمز کے ساتھ 119 رنز کی شراکت داریاں۔

ماساکازا نے 119 گیندوں پر شاندار 117 رنز بنائے، جس میں 3 چھکے اور 8 چوکے شامل تھے جبکہ ٹیلر نے 68 گیندوں پر 63 رنز کے ساتھ ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ولیمز 46 گیندوں پر 51 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے واپس آئے۔

سری لنکا اپنی پوری باؤلنگ قوت زمبابوے کو روکنے کے لیے جھونک دی۔ لاستھ مالنگا ، نووان کولاسیکرا ، اینجلو میتھیوز، سورنگا لکمل، تھیسارا پیریرا، رنگانا ہیراتھ، سچیتھرا سینانائیکے، جیون مینڈس اور تلکارتنے دلشان سب نے زور آزمائی کرلی لیکن زمبابوے کو جھکا نہ سکے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماساکازا اور دیگر بلے بازوں نے کتنی عمدہ اننگز کھیلیں۔

ویسے سری لنکا کے تجربہ کار اور اہم بلے باز ناکام ہوئے جن میں کمار سنگاکارا 8 اور مہیلا جے وردھنے اور لاہیرو تھریمانے 30، 30 رنز بنا سکے۔ اہم اننگز دیموتھ کرونارتنے اور جیون مینڈس نے کھیلیں، جنہوں نے نصف سنچریاں بنائیں جبکہ سینانائیکے نے آخر میں 25 رنزاسکور کیے۔

زمبابوے، جس نے پہلے وارم اپ میں نیوزی لینڈ کو ناکوں چنے چبوائے تھے، اس جیت کے ساتھ اب بھرپور اعتماد کے ساتھ عالمی کپ میں جائے گا۔

بہرحال، سری لنکا کا حال تو بہت برا ہوا لیکن ساتھ ہی جنوبی افریقہ کے ساتھ بھی کم برا نہیں ہوا۔ ایک ایسی ٹیم جس کے تمام کل پرزے درست کام کرتے دکھائی دے رہے تھے،کرائسٹ چرچ میں میزبان نیوزی لینڈ کے ہاتھوں اس بری طرح زیر ہوگی، اس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ان-فارم برینڈن میک کولم اور کین ولیم سن کی نصف سنچریوں کی بدولت 331 رنز بنائے۔ آخری اوورز میں ناتھن میک کولم کے 19 گیندوں پر 33 رنز نے بھی مجموعے کو اس جگہ تک پہنچانے میں مدد دی۔

جنوبی افریقہ مقابلے میں اپنے مرکزی گیندباز ڈیل اسٹین کے بغیر کھیلا لیکن ان کی غیر موجودگی میں بھی ویرنن فلینڈر، مورنے مورکل، کائل ایبٹ اور وین پارنیل موجود تھے اور انہیں عمران طاہر، آرون فانگیسو، ژاں-پال دومنی اور فف دو پلیسی کا ساتھ بھی حاصل رہا۔

ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ نے بھیانک آغاز لیا۔ صرف 62 رنز پر اس کے 6 بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے جن میں کپتان ڈی ولیئرز 24 اور ڈی کوک ہی 11 رنز کے ساتھ دہرے ہندسے میں پہنچے ۔ ژاں-پال دومنی کے 80 اور ویرنن فلینڈر کے 57 رنز نے نقصان کو کم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ٹیم کو 200 رنز تک بھی نہیں پہنچا سکے۔

نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ نے سب سے زيادہ 5 وکٹیں حاصل کیں۔

زمبابوے کے خلاف مقابلے میں نیوزی لینڈ کی کارکردگی کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف اس جیت نے اس کے اوسان بحال کردیے ہوں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ عالمی کپ کے افتتاحی مقابلے میں وہ سری لنکا کے ساتھ کیا کرتا ہے؟

ملبورن میں آسٹریلیا نے اپنے دوسرے و آخری وارم-اپ میں متحدہ عرب امارات کو باآسانی 188 رنز سے زیر کیا۔ انتہائی یکطرفہ مقابلے کی خاص بات کپتان مائیکل کلارک کی مقابلے میں شرکت تھی جو اوپنر کی حیثیت سے آئے اور 61 گیندوں پر 64 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے پہلی ہی وکٹ پر آرون فنچ کے ساتھ 123 رنز جوڑے اور بعد ازاں اسٹیون اسمتھ کے 59 اور جارج بیلی کے 46 رنز آسٹریلیا کو 304 رنز تک لے گئے۔ لیکن یہاں تک پہنچنے کے لیے آسٹریلیا نے 8 وکٹیں گنوائیں۔

متحدہ عرب امارات کی طرف سے تین وکٹیں کرشن چںدر نے حاصل کیں جبکہ اتنے ہی کھلاڑیوں کو نصیر عزیز نے آؤٹ کیا لیکن بلے بازی میں دستہ مکمل طور پر ناکام دکھائی دیا۔ وکٹ کیپر سوپنل پٹیل نے 31 اور اوپنر امجد علی نے 21 رنز بنائے جبکہ 7 کھلاڑیوں کی اننگز دہرے ہندسے میں بھی داخل نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ 31 ویں اوور کی پہلی گیند پر 116 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔

وارم اپ مقابلوں کے چوتھے اور آخری دن بنگلہ دیش اور آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مقابلے ہوں گے جو سڈنی کے مختلف میدانوں پر کھیلے جائیں گے۔

Facebook Comments