عالمی کپ: آسٹریلیا پانچویں مرتبہ ٹرافی اٹھانے کے لیے بے تاب

نوے کی دہائی دنیائے کرکٹ پر آسٹریلیا کی بالادستی کا آغاز تھی۔ گو کہ 1992ء میں عالمی کپ کا میزبان ہونے کے باوجود آسٹریلیا سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل نہیں کرسکا لیکن اس کے بعد 'کینگروز' نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ چار بار فائنل تک پہنچے اور تین بار فاتح کی حیثیت سے میدان سے واپس آئے۔ اب ایک بار پھر عالمی کپ کی میزبانی آسٹریلیا کے پاس ہے اور اس کے کھلاڑی اپنے 'گھر' میں شائقین کو جیت کا تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ٹیم کسی بڑی کمزوری سے پاک اور ایک اکائی کی صورت میں متحد ہے اور مائیکل کلارک کی قیادت میں پانچواں عالمی کپ جیتنے کے لیے بے تاب ہے۔

آسٹریلیا نے گزشتہ 13 ایک روزہ مقابلوں میں صرف ایک شکست کھائی ہے، یہ فارم اسے عالمی کپ کا فاتح بھی بنا سکتی ہے (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا نے گزشتہ 13 ایک روزہ مقابلوں میں صرف ایک شکست کھائی ہے، یہ فارم اسے عالمی کپ کا فاتح بھی بنا سکتی ہے (تصویر: Getty Images)

طاقت:

آسٹریلیا کی طاقت اس کی انتہائی مضبوط بیٹنگ لائن ہے۔ گیارہویں نمبر تک بھی اس میں حریف گیندبازی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت و قابلیت ہے اور اگر ان کی حالیہ فارم کو مدنظر رکھا جائے تو دوسری ٹیموں کے لیے آسٹریلیا کے بلے بازوں کو، خود انہی کے میدانوں پر، ٹھکانے لگانا بہت مشکل ہوگا۔ مائیکل کلارک، شین واٹسن، اسٹیون اسمتھ اور بریڈ ہیڈن گزشتہ عالمی کپ میں آسٹریلیا کے دستے کا حصہ تھے اور اوپنر ڈیوڈ وارنر اور آرون فنچ کا تجربہ بھی ٹیم کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ مچۂ مارش، گلین میکس ویل اور جیمز فاکنر کی موجودگی میں آل راؤنڈر کی ایسی مثلث ٹیم کے پاس ہے، جو بلے بازی میں دھواں دار کارکردگی دکھا سکتے ہیں اور ہنگامی و کشیدہ حالت میں ٹیم کی کشتی پار لگا سکتے ہیں۔

کمزوری:

اگر بڑی کوشش کے بعد آسٹریلیا کی کوئی کمزوری نکالی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ چند بہت اچھے گیندباز ہونے کے باوجود مجموعی طور پر ٹیم آسٹریلیا کا یہ پہلو کمزور نظر آتا ہے۔ اپنے 'گھر' کے سازگار حالات ضرور ان کے حق میں جائیں گے لیکن بیٹنگ پاور پلے میں شاید آسٹریلیا کے گیندبازوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ اگرچہ آسٹریلیا کے پاس مچل جانسن جیسا تجربہ کار اور صف اول کا گیندباز ہے، لیکن اس کے دوسرے باؤلرز اتنے تجربہ کار نہیں ہیں اور حریف ٹیمیں ان کم تجربہ کار کھلاڑیوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں ٹیم کے واحد اسپنر زاویئر ڈوہرٹی بھی کمزور پڑ سکتے ہیں۔

چھپا رستم:

آسٹریلیا کے گیندباز جوش ہیزل وُوڈ نے حال ہی میں بھارت کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا شاندار آغاز کیا، لیکن وہ اس سے پہلے جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلی گئی ایک روزہ سیریز میں بھی اپنے ہنر کا جلوہ دکھا چکے ہیں۔ اُنہوں نے اُس سیریز میں اپنی گیند کی رفتار سے بہت متاثر کیا اور ساتھ ہی ایک میچ میں پانچ وکٹیں بھی لی تھیں۔ وہ مستقبل میں آسٹریلوی گیندبازی کو بہت تقویت پہنچا سکتے ہیں۔

آسٹریلیا کی حالیہ کارکردگی:

آسٹریلیا اس وقت ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ایک روزہ کی بہترین فارم میں ہے۔ جنوبی افریقہ کو شکست دینے کے بعد اس نے پاکستان کومتحدہ عرب امارات میں کلین سویپ شکست دی اور اب حال ہی میں سہ فریقی سیریز میں بھارت اور انگلستان کے خلاف تمام مقابلے جیت کرٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔ مجموعی طور پر گزشتہ 13 ایک روزہ مقابلوں میں آسٹریلیا کو صرف ایک شکست ہوئی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس طرح فتوحات کی شاہراہ پر گامزن ہے۔

گزشتہ عالمی کپ میں آسٹریلیا کی کارکردگی:

آسٹریلیا کی عالمی کپ ٹورنامنٹ میں فتوحات کا سلسلہ 1999ء سے شروع ہوا اور 2003ء اور 2007ء میں تمام مقابلے جیتنے کے بعد عالمی اعزاز سے ہمکنار ہوا یہاں تک کہ اسے گروپ مرحلے میں پاکستان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اس کے باوجود وہ کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جہاں بھارت نے احمد آباد میں ایک شاندار مقابلے کے بعد اسے سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کردیا۔ یہ 1992ء کے پہلا موقع تھا کہ آسٹریلیا کسی عالمی کپ میں سیمی فائنل تک نہیں پہنچا اور یوں مسلسل پانچواں فائنل کھیلنے کے اعزاز سے محروم ہوگیا۔

دستہ:

مائیکل کلارک (کپتان)، جارج بیلی (نائب کپتان)، اسٹیون اسمتھ، آرون فنچ، بریڈ ہیڈن (وکٹ کیپر)، پیٹرک کمنز، جوش ہیزل ووڈ، جیمز فاکنر، زاویئر ڈوہرٹی، شین واٹسن، گلین میکس ویل، مچل اسٹارک، مچل جانسن اور مچل مارش۔

عالمی کپ میں آسٹریلیا کے گروپ مقابلے

بتاریخ بمقام
14 فروری آسٹریلیا بمقابلہ انگلستان ملبورن
21 فروری آسٹریلیا بمقابلہ بنگلہ دیش برسبین
28 فروری آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ آکلینڈ
4 مارچ آسٹریلیا بمقابلہ افغانستان پرتھ
8 مارچ آسٹریلیا بمقابلہ سری لنکا سڈنی
14 مارچ آسٹریلیا بمقابلہ اسکاٹ لینڈ ہوبارٹ

Facebook Comments