ماضی یاد ہے: مصباح، ماضی بھول جائیں: دھونی

پاکستان اور بھارت کا جب بھی مقابلہ ہوتا ہے، دونوں ٹیمیں، ان کے پرستار اور کپتان سخت دباؤ میں ہوتے ہیں لیکن ۔۔۔۔۔ بتاتا کوئی نہیں۔ ہمیشہ یہی کہا جاتا ہےکہ "یہ بس ایک اور میچ ہے"، البتہ بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے تسلیم کیا ہے کہ پاک-بھارت مقابلے کچھ مختلف ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ دورۂ آسٹریلیا میں حالیہ کارکردگی کی وجہ سے ٹیم پہلے ہی سخت دباؤ میں ہے اور اب وہ پاکستان کے خلاف مقابلے کا دباؤ نہیں لینا چاہتے کیونکہ اضافی دباؤ پڑنے سے کارکردگی دکھانا مشکل ہوجائے گا۔

پاکستان عالمی کپ کی تاريخ میں کبھی بھارت سے کوئی مقابلہ نہیں جیتا (تصویر: Getty Images)

پاکستان عالمی کپ کی تاريخ میں کبھی بھارت سے کوئی مقابلہ نہیں جیتا (تصویر: Getty Images)

پاک-بھارت مقابلے سے قبل پریس کانفرنس میں دھونی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ ہم ماضی کو بھول جائیں،ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف بھارت ہمیشہ جیتا ہے لیکن اس کو بھلا کر ہمیں ایڈیلیڈ کے میچ پر نظر رکھنا ہوگی۔ "پاکستان کے خلاف مقابلے سے پہلے ماحول اور پرستاروں کی حوصلہ افزائی گزشتہ چند ماہ کی کارکردگی بھلانے میں ہماری مددگار ہوگی۔"

بھارت نومبر کے اواخر میں آسٹریلیا پہنچا تھا اور ٹیسٹ سیریز میں بغیر کوئی مقابلہ جیتے شکست سے دوچار ہوا اور اس کے بعد سہ فریقی ایک روزہ سیریز کے تمام مقابلوں میں بھی شکست کھائی۔ ان نتائج کے بعد عالمی کپ کے وارم-اپ مقابلوں میں آسٹریلیا سے ہارا اور واحد جیت افغانستان کے خلاف حاصل کی۔ لیکن اب وہ "مہان مقابلے" میں پاکستان کے خلاف کھیلیں گے۔

ایک طرف دھونی ماضی بھلا کر ایک نئے مقابلے پر نظریں جمانے کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب پاکستان کے کپتان مصباح الحق ماضی کو ذہن میں رکھ کر کھیلنے کا کہہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہم بھارت کے خلاف کبھی ورلڈ کپ کا کوئی میچ نہیں جیتے، اور یہی بات ہمارے لیے کافی ہے ۔ ہمارے پاس ہارنے کے لیے کچھ نہیں، بس میدان میں اترنا ہے، جان لڑانی اور جیتنے کی کوشش کرنی ہے۔ ہمارے لیے سب سے اہم اچھی کرکٹ کھیلنا ہے۔"

نیوزی لینڈ کے حالیہ دورے میں تمام مقابلوں میں شکست کے بعد عالمی کپ سے پہلے اپنے دونوں وارم-اپ مقابلے جیت کر پاکستان نے اوسان بحال کرلیے ہیں اور مصباح کے خیال میں صہیب مقصود، عمر اکمل اور شاہد آفریدی کی حالیہ کارکردگی ہمارے مثبت پہلو ہیں لیکن اس کے ساتھ چند شعبوں میں بہتری لانے کی بھی ضرورت ہے۔

انتہائی تناؤ بھرے ماحول میں ہونے والے اس مقابلے میں کون اپنے اعصاب پر قابو رکھے گا، یہ کل معلوم ہوگا۔

Facebook Comments