[شارپ اسپن] جواب میدان میں، سوشل میڈیا پر نہیں

دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ پاکستانیوں کے لیے انتہائی مایوسی کے ساتھ اختتام کو پہنچا، اور کتنی عجیب بات ہے کہ چھ شکستوں کے بعد بھی ہمیں اسے ہضم کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے، اور اس سے بھی زیادہ تعجب اس بات پر کہ ہم یہاں پاکستان میں دہشت گردی اور دھماکو ں جیسے مظالم کے تو عادی دکھائی دیتے ہیں لیکن بھارت کے ہاتھوں شکست کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم نہیں کرسکتے۔ ہاں! رقابت تو ایسی ہی ہوتی ہے اور کئی مرتبہ دیوانگی کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھتا ہے کیا منظم اور باوقار ہونا زیادہ اہم ہے یا یہ دیوانہ پن اور کھیل اور ملک سے محبت اور جذبات کے نام پر پاگل پن کو فروغ دینا؟

صرف ایک شکست کے بعد امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے (تصویر: Getty Images)

صرف ایک شکست کے بعد امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے (تصویر: Getty Images)

جس عقل کی طرف میں خاص طور پر اشارہ کررہا ہوں اس کا سامنا تقریباً دو ہفتے پہلے اسٹار اسپورٹس کے اشتہار کے ساتھ شروع ہوا جب چینل نے پاکستان اور بھارت کے عالمی کپ مقابلے کی تشہیر کے لیے ایک اشتہار جاری کیا، جو طنزیہ تھا اور اگر کسی میں معمولی سی حس مزاح بھی ہو تو وہ اس کا پورا لطف اٹھا سکتا تھا۔ اس اشتہار کو مذاق کی حد تک رکھنے کے بجائے ہم پاکستانی شائقین نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا، یہ بہت مایوس کن بات ہے کہ ملک میں درجنوں ایسے مسائل ہیں جنہیں ہمیں اپنی انا کا مسئلہ بنانا چاہیے جیسا کہ ملک میں تعلیم کی حالت، لیکن ہماری غیرت ان غیر ضروری مقامات پر اور اوقات میں جاگتی ہے۔

اس اشتہار کے جواب میں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے ہماری اجتماعی جہالت کا ثبوت دیا۔ اس اشتہار کا اگر جواب دینا بھی تھا، اس کی بہتر جگہ میدان اور بہتر وقت مقابلے کا دن تھا، لیکن ہم نے وڈیوز، فیس بک اور ٹوئٹر اپڈیٹس، اور بلاگز کے ذریعے ظاہر کیا یہ اشتہار ہماری شان میں گستاخی ہے۔

ایمانداری سے کہوں تو ایک معمولی سے ٹی وی اشتہار پر جو اجتماعی بچکانہ اور ناپختہ رویہ دیکھنے کو ملا، میرا تو دل کررہا تھا کہ پاکستان یہ مقابلہ ہارے اور وہ بھی اس طرح کہ منہ چھپانا پڑے۔ ثبوت دیہاں دیکھیں جہاں میں نے ایڈیلیڈ اوول میں پاک-بھارت مقابلہ شروع ہونے سے پہلے فیس بک پر کچھ لکھا تھا۔

اس حرکت کا جو بدترین نتیجہ نکلا وہ یہ کہ غیر ضروری اور حد سے گزرا ہوا ردعمل دکھانے کی وجہ سے قومی کرکٹ ٹیم سے وابستہ امید کا بلبلہ صرف ایک شکست سے پھٹ گیا۔ ہاں! پاکستان ورلڈ کپ میں بھارت سے ہارا ہے، لیکن ابھی پورا ٹورنامنٹ باقی ہے۔ ہمیں اس مقابلے کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہیے کہ جس طرح بھارت اچھا کھیل کر جیتا ہے، ایک دن ہم بھی اچھا کھیلیں گے اور جیتیں گے۔ یہی تو کرکٹ ہے، یہاں ریکارڈ انتظار کرتے ہیں کہ کوئی آئے اور انہیں توڑے۔ لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے صبر، ریاضت اور شائقین کی جانب سے ایسی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے جو عقلی حدود کے اندر ہو۔

صرف ایک شکست کے بعد امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دینے اور حوصلہ ہارنے کے بجائے ہمیں ٹیم کی حمایت میں اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ یہ حرکتیں کھلاڑیوں پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہیں جو ایک روزہ کرکٹ میں حالیہ فارم کی وجہ سے پہلے ہی سخت دباؤ میں ہیں۔

ہمیں #WeWillTakeItBack کے گھوڑوں کو لگام دینا ہوگی اور #WeWillNeverForget پر آنا ہوگا (یاد ہے نا کہ اس کا مطلب کیا ہے)، ٹیم کی حمایت کریں، شائستگی اور وقار کے ساتھ اور ہارنے کے بعد کھلاڑیوں سے غلط برتاؤ نہ کریں کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انہیں حمایت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جس میں ایک قوم کا کردار نظر آتا ہے۔

اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ "پھوڑ دے" کا شور مچائیں یا "باوقار حمایت" کا رویہ اپنائیں۔

Facebook Comments