عالمی درجہ بندی؛ پاکستان کے پاس زوال سے بچنے کا آخری موقع

ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شکست پاکستان کرکٹ کے زوال کے اک نئے دور کی ابتداء لگتی ہے۔یہ 2010ء میں آسٹریلیا کے خلاف بدترین شکست اور اسپاٹ فکسنگ تنازع کے بعد پاکستان کرکٹ کو پہنچنے والا تیسرا بڑا دھچکا ہے۔

پاک ویسٹ انڈیز آخری ٹیسٹ مصباح الحق کی صلاحیتوں کا حقیقی امتحان ہوگا

پاکستان 2007ء کے اوائل میں عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر تھا، گرتے گرتے اب آخری نمبروں پر پہنچنے والا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سینٹ کٹس میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میں شکست پاکستان کو پہلی بار ساتویں پوزیشن پر لے جا سکتی ہے۔ 2007ء میں جنوبی افریقہ اور بھارت کے خلاف سیریز میں شکست اور عالمی کپ میں بدترین انداز میں باہر ہونے کے بعد جب ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں تو نئی ٹیم کامیابی کی شاہراہ پر سفر جاری نہ رکھ سکی اور پے در پے شکستوں کے نتیجے میں پاکستان گزشتہ متعدد سالوں سے پانچویں اور چھٹی پوزیشن کے درمیان ہی موجود ہے۔

سالوں تک کسی بھی اچھی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامیوں کے با‏عث اب پاکستان بالکل آخری ٹیموں ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑا ہے اور اب جبکہ پاکستان کے پاس اس درجہ بندی کو بہتر بنانے کا موقع تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کلین سوئپ کر کے کیریبین سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتنے کا خواب بھی پورا کرے اور ایک مرتبہ پھر عالمی درجہ بندی میں آگے کا سفر کرے، لیکن مصباح الحق الیون کی بلے بازی میں انتہائی ناقص کارکردگی نے اس خواب کو چکناچور کر دیا۔

اب جمعہ 20 مئی کو جب دونوں ٹیمیں سینٹ کٹس کے وارنر پارک میں اتریں گی تو پاکستان کے پاس عالمی درجہ بندی میں اپنی چھٹی پوزیشن کو بچانے کا آخری موقع ہوگا۔ اگر پاکستان نے یہ موقع گنوا دیا تو وہ پانچ قیمتی ریٹنگ پوائنٹس سے محروم ہو جائے گا جبکہ ویسٹ انڈیز کو 6 ریٹنگ پوائنٹس ملیں گے، جن کے بل بوتے پر وہ پاکستان کو پھلانگتا ہوا چھٹی پوزیشن پر آ جائے گا۔ اس پوزیشن پر ویسٹ انڈیز اس مضبوطی کے ساتھ جمے گا کہ اگر وہ بھارت کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی اگلی سیریز کے تمام میچز بھی ہار جائے تب بھی چھٹی پوزیشن سے محروم نہیں ہوگا، اس لیے پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ اگلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر سیریز برابر کرے۔

اگر اگلا ٹیسٹ ڈرا ہو جاتا ہے اور سیریز ویسٹ انڈیز کے نام رہتی ہے تو پاکستان عالمی درجہ بندی میں تین ریٹنگ پوائنٹس سے محروم ہو جائے گا اور ویسٹ انڈیز کو 4 ریٹنگ پوائنٹس ملیں گے تاہم دونوں کی عالمی درجہ بندی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

موجودہ عالمی درجہ بندی

پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز سے قبل

Facebook Comments