نیوزی لینڈ عالمی کپ کے لیے سنجیدہ امیدوار ہے، سنیل گاوسکر

گزشتہ روز قبل جب عالمی کپ کی تاریخ کی بدنصیب ترین ٹیمیں، نیوزی لینڈ اور انگلستان، مدمقابل آئی تھیں تو میدان نیوزی لینڈ کے نام رہا تھا۔ اس نے انگلستان کو صرف 123 رنز پر ڈھیر کرکے خود محض 13ویں اوور میں ہدف کو جا لیا اور یوں 8 وکٹوں سے مقابلہ جیت کر عالمی کپ 2015ء کے گروپ 'اے' میں اپنی نمبر ایک پوزیشن کو مزید مضبوط کردیا۔ جو ماہرین عالمی کپ سے پہلے نیوزی لینڈ کو اہم ٹیموں میں شمار کررہے تھے، اب وہ بھی اسے اعزاز کے لیے سنجیدہ حریف سمجھنے لگے ہیں اور بھارت کے سابق کپتان سنیل گاوسکر کہتے ہیں کہ اب دیگر تمام حریف نیوزی لینڈ سے اور بھی زیادہ ہوشیار ہوجائیں۔

نیوزی لینڈ کو اب صرف ایک ہی سخت حریف کا مقابلہ کرنا ہے، وہ ہے آسٹریلیا۔ اس کے بعد باقی دو میچز افغانستان اور بنگلہ دیش کے خلاف ہیں (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کو اب صرف ایک ہی سخت حریف کا مقابلہ کرنا ہے، وہ ہے آسٹریلیا۔ اس کے بعد باقی دو میچز افغانستان اور بنگلہ دیش کے خلاف ہیں (تصویر: Getty Images)

1983ء میں عالمی کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کے رکن سنیل گاوسکر کا کہنا ہے کہ بہت سے ماہرین یہ سمجھ رہے ہیں کہ نیوزی لینڈ صرف اپنے گھر میں مضبوط نظر آ رہا ہے، اور یہ سچ بھی ہے کیونکہ اگر وہ سیمی فائنل تک بھی پہنچ گئے تو انہیں اپنے ہوم گراؤنڈ میں ہی کھیلنا ہوگا اور اسی صورت میں وہاں سے قدم باہر نکالیں گے جب فائنل میں پہنچیں گے۔ لیکن انہوں نے اب تک جس طرح کے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور گزشتہ مقابلے میں انگلستان کو جس طرح دھویا ہے اس کے بعد ان کی کامیابیوں پر شک کرنے والے نقاد بھی انہیں سنجیدہ لیں گے۔

انگلستان کو صرف 123 رنز پر ڈھیر کرنے میں اہم کردار نیوزی لینڈ کی تیز باؤلنگ کا رہا، جس کے اہم رکن ٹم ساؤتھی نے 33 رنز دے کر 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور "سنی" کہتے ہیں کہ تیز گیندبازی کے حملے کے ساتھ ڈینیل ویٹوری کی صورت میں نیوزی لینڈ کی اسپن باؤلنگ بھی تجربہ کار ہے۔ بلے بازی میں تو برینڈن میک کولم سرفہرست ہیں، جو کچھ ہی اووروں میں مقابل ٹیم سے میچ چھین سکتے ہیں۔ حقیقت میں نیوزی لینڈ نے یہ جتا دیا ہے کہ وہ عالمی کپ فاتح بننے کی قابلیت رکھتے ہیں۔

نیوزی لینڈ سری لنکا اور انگلستان جیسے اہم حریفوں کو تو چت کرچکا ہے اور اب اس کا اہم مقابلہ 28 فروری کو آسٹریلیا سے ہوگا، جس کے ساتھ ہی شاید گروپ 'اے' میں نمبر ایک مقام کا فیصلہ ہوجائے گا کیونکہ اس کے بعد نیوزی لینڈ نے افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے کمزور حریفوں سے ہی کھیلنا ہے۔

Facebook Comments