انگلستان اور اسکاٹ لینڈ: پڑوسیوں کا ایک اور مقابلہ

انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان صدیوں سے جاری سیاسی تناؤ اور مختلف کھیلوں میں مشہور زمانہ رقابت اب کرکٹ کے کھیل تک پہنچ چکی ہے کہ جہاں 23 فروری کو دونوں ٹیمیں کرائسٹ چرچ میں مدمقابل ہوں گی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف بدترین کارکردگی دکھانے کے بعد اسٹیون فن کے کھیلنے کے امکانات کم ہیں (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کے خلاف بدترین کارکردگی دکھانے کے بعد اسٹیون فن کے کھیلنے کے امکانات کم ہیں (تصویر: Getty Images)

انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کی باہمی رقابت کو دیکھیں تو اس مقابلے کا لطف مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ ٹیمیں فٹ بال میں قدیم ترین دشمنی رکھتی ہیں، گو کہ اب ماضی کی طرح اتنی سنگین نہیں ہے، کیونکہ اب انگلستان کو دنیائے فٹ بال میں نئے حریف مل گئے ہیں، لیکن کیونکہ اسکاٹ لینڈ کے قوم پرست انگلستان سے علیحدگی کے حامی ہیں، اس لیے انگلستان سے مقابلے کو ہمیشہ اسکاٹ لینڈ میں خاص اہمیت ملتی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے کپتان پریسٹس مومسن بھی اس رقابت سے اچھی طرح واقف ہیں، اور اسکاچ باشندوں کی توقعات کو بھی سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "کسی بھی کھیل میں اسکاٹ لینڈ اور انگلستان کے درمیان ہمیشہ زبردست رقابت رہی ہے، ان مقابلوں میں جذبات عروج پر ہوتے ہیں اور میرے خیال میں کل بھی ایسا ہی ہوگا۔" نے اپنے پہلے مقابلے میں نیوزی لینڈ کو 143 رنز کے معمولی ہدف میں جتنا پریشان کیا، اس کے بعد توقع ہے کہ پریسٹن مومسن کی ٹیم انگلستان کے لیے لوہے کا چںا ثابت ہوگی۔ کپتان نے مزید کہا کہ "انگلستان کے خلاف کھیلنے کے لیے ہم مکمل طور پر تیار ہیں، ان کا بھرپورمقابلہ کریں گے اور پوری کوشش ہوگی کہ جیتیں۔"

کرائسٹ چرچ کا ہیگلے اوول ہی وہ میدان ہے کہ جہاں پچھلے سال اسکاٹ لینڈ نے کوالیفائر جیت کر عالمی کپ 2015ء میں جگہ پائی تھی اور اب یہاں ایک اور تاریخی فتح حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب انگلستان "زخمی شیر" ہے، اسے عالمی کپ کے پہلے ہی دن روایتی حریف آسٹریلیا سے اور اس کے بعد دوسرے میزبان نیوزی لینڈ کے ہاتھوں کراری شکستیں ہوئی ہیں اور اب اس کے سامنے جیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس صورتحال میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف مقابلہ انگلستان کے لیے جیتنا بہت ضروری ہے۔

انگلش بلے باز این بیل کہتے ہیں کہ ہمیں اسکاٹ لینڈ کے خلاف اچھی کارکردگی دکھانی ہوگی اور ہمارے لیے اصل چیز نتیجہ ہے، جو ہمارے حق میں ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہم ابتدائی دو مقابلوں میں اچھے نتائج حاصل نہیں کرسکے اور اب کل ہمیں لازما کچھ کر دکھانا ہوگا۔

انگلستان شاید اسٹیون فن کی جگہ کرس جارڈن کو حتمی کھلاڑیوں میں شامل کرے۔ فن نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے مقابلے میں ہیٹ ٹرک کی تھی لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف وہ بری طرح ناکام ہوئے کہ جہاں ان کے 2 اوورز میں 49 رنز لوٹے گئے۔ ان کے علاوہ گیری بیلنس کی جگہ ایلکس ہیلز کی شمولیت کا بھی امکان ہے۔

عالمی کپ میں اب تک دو پڑوسی مقابل آ چکے ہیں۔ بھارت نے روایتی حریف پاکستان کو شکست دی جبکہ جنوبی افریقہ نے زمبابوے کو زیر کیا۔ ان دونوں مقابلوں میں نتیجہ متوقع تھا۔ کیا انگلستان بھی اسکاٹ لینڈ کو ایسے ہی شکست دے گا؟ کل معلوم ہوگا کہ کون سی ٹیم عالمی کپ 2015ء میں اپنی پہلی فتح حاصل کرتی ہے۔

Facebook Comments