صفر پر بچت اور پھر ڈبل سنچری

دنیائے کرکٹ میں اس وقت ہر طرف ایک ہی نام گونج رہا ہے، کرس گیل! جن کی 147 گیندوں پر 215 رنز کی اننگز نے کئی ریکارڈز توڑے اور ساتھ ہی کئی چہروں پر مسکراہٹ لائی اور کئی ذہنوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کرگئی۔

عظمت کی نئی بلندیوں کو چھونے والی ہر اننگز کو قسمت کا ساتھ بھی حاصل رہتا ہے اور گیل کی اننگز بھی ا سے ماوراء نہیں ہے۔ کینبرا کے منوکا اوول میں جب ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی سنبھالی تو اسے پہلے ہی اوور میں ڈیوین اسمتھ کی وکٹ سے ہاتھ دھونے پڑے۔ تناشی پنیانگرا کی ایک خوبصورت گیند اسمتھ کے دفاع کو توڑتی ہوئی وکٹوں میں جا گھسی۔ ابھی ویسٹ انڈیز اس دھچکے سے سنبھل ہی نہ پایا تھا کہ پنیانگرا نے کرس گیل کو وکٹوں کے سامنے دھر لیا۔ گیندباز اور دیگر کھلاڑیوں نے زوردار اپیل کی لیکن امپائر اسٹیون ڈیوس نے، ہمیشہ کی طرح، کوئی جنبش نہ کی حالانکہ پہلی نظر میں معاملہ خاصا قریبی لگ رہا تھا۔ زمبابوے کے بیشتر کھلاڑیوں کو یقین تھا کہ انہوں نے خطرناک ترین بلے باز کی وکٹ حاصل کرلی ہے اور انہوں نے فیصلے سے عدم اتفاق کرتے ہوئے نظرثانی کے لیے تیسرے امپائر سے رجوع کیا۔

امپائر اسٹیو ڈیوس نے ہاتھوں سے اشارہ کیا اور ساتھ ہی اسکرین پر پچھلی گیند کے مناظر پیش ہونے لگے۔ گیند نے بالکل وکٹوں کی سیدھ میں ٹپہ کھایا تھا اور عین سامنے ہی کرس گیل کے دائیں گھٹنے کے نچلے حصے پر لگی تھی۔ پہلا منظر بالکل صاف بتا رہا تھا کہ گیند سیدھا درمیانی اسٹمپ میں گھسے گی اور کمنٹری بکس میں موجود آسٹریلیا کے شین وارن اور زمبابوے کے پومی ایمبانگوا کو بھی یقین تھا۔ لیکن جیسے ہی گیند کی سمت جانچنے والی ، اور ایل بی ڈبلیو کے ایسے معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی، ٹیکنالوجی 'ہاک آئی' استعمال ہوئی، ظاہر ہوا کہ یہ گیند مڈل اسٹمپ کے اوپر سے گزرتی ہوئی صرف بیلز کو چھیڑتی ہوئی جاتی۔ یعنی فیلڈ امپائر کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور یوں کرس گیل کو صفر پر ہی پہلی زندگی مل گئی۔ شین وارن اس فیصلے پر بہت حیران دکھائی دیے اور کہا کہ "زمبابوے کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔"

اس کے بعد گیل نے محتاط انداز اپناتے ہوئے اننگز کو آگے بڑھایا اور ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ بعد اپنی پہلی اور ایک روزہ میں مجموعی طور پر 22 ویں سنچری مکمل کی۔ جب اننگز کے چالیسویں اوور کا آغاز ہوا تو اسکور بورڈ پر 203 رنز موجود تھے اور کرس گیل 121 رنز پر کھیل رہے تھے۔ گیندباز ایک بار پھر تناشی پنیانگرا ہی تھے۔ فل لینتھ گیند کو گیل نے لانگ آن کی جانب اٹھا دیا جہاں کیچ دھر لیا گیا لیکن امپائر کا فیصلہ نو-بال، یوں آؤٹ دینے کے بجائے گیل کو فری ہٹ دی گئی۔

ان دو زندگیوں کا گیل نے پورا فائدہ اٹھایا۔ شاید ہی دوبارہ کبھی انہیں اس طرح مواقع ملتے اور 46 ویں اوور میں چوکے کے ذریعے عالمی کپ کی تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری بنائی۔ 16 چھکوں کا عالمی ریکارڈ بنانے کے بعد وہ آخری گیند پر اس ریکارڈ کو توڑنے کے لیے گئے لیکن آؤٹ ہوگئے اور یوں اننگز 215 رنز پر تمام ہوئی اور ویسٹ انڈیز بھی ریکارڈ 372 رنز تک پہنچا۔

اس پرمسرت موقع پر گیل کو اسٹیو ڈیوس کا ضرور شکر گزار ہونا چاہیے، اور اپنے جشن میں انہیں ضرور شریک کرنا چاہیے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف ایک یادگار اننگز کھیلنے کا موقع دیا بلکہ گیل کے ڈوبتے ہوئے کیریئر کو بھی بچایا ۔

Facebook Comments