ہیجان خیز مقابلہ ، آئرلینڈ نے بمشکل امارات پر قابو پایا

کیون اوبرائن نے چار سال پرانے مناظر کو تازہ کرتے ہوئے آئرلینڈ کو متحدہ عرب امارات کے ہاتھوں ایک شرمناک شکست سے بچا لیا ۔ جب آئرلینڈ کو صرف 68 گیندوں پر 108 رنز کی ضرورت تھی اور اس کے آدھے بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے، کیون اوبرائن میدان میں آئے اور چھا گئے۔ صرف 25 گیندوں پر 50 رنز اورمحض 37 گیندوں پر 72 رنز کی شراکت داری نے متحدہ عرب امارات کے گیندبازوں کے چھکے چھڑا دیے ، یہاں تک کہ آئرلینڈ نے آخری اوور میں 8 وکٹوں کے نقصان پر ہدف کو حاصل کرلیا ۔ شکست کے باوجود متحدہ عرب امارات کے کھیل کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی ۔ صرف 131 رنز پر 6 کھلاڑیوں کے آؤٹ ہوجانے کے بعد شیمن انور کی یادگار سنچری نے اسے 278 رنز تک پہنچایا اور باؤلنگ کرواتے ہوئے بھی انہوں نے آئرلینڈ کو سخت پریشان کیا ۔ اگر وہ چند کیچ پکڑ لیتے، رن آؤٹ کے مواقع ضائع نہ کرتے اور فیلڈنگ کی کچھ غلطیاں نہ کرتے تو نتیجہ یکسر مختلف ہوتا۔ بہرحال، کچھ بھی ہو، ہمیں ورلڈ کپ کا پہلا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو مل گیا۔

برسبین میں کھیلے گئے اس مقابلے میں آئرلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی سنبھالی۔ متحدہ عرب امارات کے اوپنرز امجد علی اور آندری برنجر نے 49 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اس کے بعد اماراتی بلے بازوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ برنجر کے بعد کرشن چندر، پھر امجد علی اور وکٹ کیپر سوپنل پٹیل آؤٹ ہوئے، یہاں تک کہ اہم بلے باز خرم خان آؤٹ ہوئے تو اسکور بورڈ پر صرف 125 رنز موجود تھے۔ ایک بڑے مجموعے کے حصول کی تمام امیدیں جب دم توڑ چکی تھیں تو شیمن انور نے امجد جاوید کے ساتھ صرف 71 گیندوں پر 107 رنز بنائے۔ یہ ساتویں وکٹ پر ورلڈ کپ تاریخ کی سب سے بڑی شراکت داری تھی اور ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کے لیے ایک بڑے مجموعے کی راہ ہموار ہوئی۔ انور عالمی کپ میں سنچری بنانے والے متحدہ عرب امارات کے پہلے کھلاڑی بنے، ان کی اننگز 10 چوکوں اور ایک چھکے کے ساتھ صرف 83 گیندوں پر 106 رنز کے ساتھ مکمل ہوئی جبکہ امجد نے 35 گیندوں پر 42 رنز کے ساتھ ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ متحدہ عرب امارات نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 278 رنز بنائے۔ آئرلینڈ کی جانب سے میکس سورینسن، ایلکس کوسیک، پال اسٹرلنگ اور کیون اوبرائن نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک کھلاڑی کو جارج ڈوکریل نے آؤٹ کیا۔

آئر لینڈ عالمی کپ کے پہلے مقابلے میں ویسٹ انڈیز جیسے سخت حریف کے خلاف باآسانی 305 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں کامیا ب ہوا تھا، اس لیے 279 رنز کا ہدف اس کے لیے مشکل نہیں تھا لیکن متحدہ عرب امارات کی باؤلنگ نے اس کے بلے بازوں کو کافی حد تک باندھے رکھا۔ گو کہ قسمت آئرلینڈ کے ساتھ دکھائی دیتی تھی۔ ایک بار امجد جاوید کی گیند ان کی آف اسٹمپ کو چھوگئی، بیلزاپنی جگہ سے ہلیں، اسٹمپس میں لگی بتیاں جل گئیں لیکن بیلززمین پر نہیں گریں۔ یوں امجد جاوید اور وکٹ کیپر سوپنل پٹیل کا جشن ادھورا رہ گیا۔ اس کے باوجود جوائس کوئی نمایاں کارکردگی نہیں دکھاسکے اور 49 گیندوں پر 37 رنز بنانے کے بعد امجد ہی کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے آؤٹ ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد کپتان محمد توقیر نے دو اوورز میں ولیم پورٹرفیلڈ اور نیال اوبرائن کو آؤٹ کرکے آئرلینڈ کو زبردست دھچکا پہنچایا۔ 97 رنز پر چار بیٹسمینوں کے آؤٹ ہونے کے بعد وکٹ کیپر گیری ولسن نے اینڈریو بالبرنی کے ساتھ حالات کو سنبھالا۔ دونوں نے 74 رنز کی رفاقت ضرور قائم کی لیکن درکار اوسط بڑھتے بڑھتے 9 رنز فی اوورز سے بھی زیادہ کو پہنچ چکا تھا جب 39 ویں اوور میں بالبرنی کی اننگز 30 رنز پر مکمل ہوئی۔

اب آئرلینڈ کو صرف 68 گیندوں پر 108 رنزدرکار تھے، اور اسے کیون اوبرائن سے ایک اور جادوئی اننگز درکار تھی۔ کیون نے مایوس نہیں کیا، گو کہ وہ بھی خوش قسمت رہے کیونکہ لانگ آف پر ان کا ایک آسان کیچ چھوٹا، جس کا انہوں نے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور صرف 25 گیندوں پر 50 رنز جوڑ کر آئرلینڈ کی مشکلات کو آسان کردیا۔ انہوں نے گیری ولسن کے ساتھ محض 37 گیندوں پر 72 رنز کی شراکت داری جوڑی اور جب میدان سے واپس آنے لگے تو آئرلینڈ کو 36 گیندوں پر صرف 32 رنز کی ضرورت تھی۔ اس اننگز کے ساتھ ہی عرب امارات کے کھلاڑیوں کی ناتجربہ کاری آشکار ہوگئی۔ ان کے ہاتھ پیر پھولے اور 8 وکٹیں حاصل کرنے کے باوجود وہ آئرلینڈ کو آخری اوور میں جیتنے سے نہ روک سکے۔ آئرش اننگز کے سب سے نمایاں بلے باز گیری ولسن رہے جنہوں نے 69 گیندوں پر 80 رنز بنائے اور میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔

عرب امارات کی جانب سے امجد جاوید نے 3 اور محمد نوید اور محمد توقیر نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ ایک کھلاڑی کو منجولا گوروگے نے آؤٹ کیا۔

اب آئرلینڈ گروپ 'بی' میں تیسرے نمبر پر ہے۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کی طرح اس کے بھی چار پوائنٹس ہیں، صرف رن ریٹ کی وجہ سے وہ پیچھے ہے۔ اب آگے آئرلینڈ کو زمبابوے، بھارت، جنوبی افریقہ اور پاکستان کے خلاف اہم مقابلے کھیلنے ہیں، جہاں دو مقابلوں میں کامیابی اسے کوارٹر فائنل میں پہنچا سکتی ہے۔

آئرلینڈ بمقابلہ متحدہ عرب امارات

عالمی کپ 2015ء - سولہواں مقابلہ

25 فروری 2015ء

بمقام: برسبین کرکٹ گراؤنڈ، برسبین

نتیجہ: آئرلینڈ 2 وکٹوں سے جیت گیا

میچ کے بہترین کھلاڑی: گیری ولسن

متحدہ عرب امارات رنز گیندیں چوکے چھکے
امجد علی ک سورنسن ب کیون 45 71 5 0
آندری برنجر ک پورٹرفیلڈ ب اسٹرلنگ 13 25 1 0
کرشن چندر ک کیون ب اسٹرلنگ 0 4 0 0
خرم خان ایل بی ڈبلیو ب ڈوکریل 36 53 2 0
سوپنل پٹیل ک اسٹرلنگ ب کیون اوبرائن 2 8 0 0
شیمن انور ک ولسن ب سورینسن 106 83 10 1
روہن مصطفی ک ولسن ب کوسیک 2 9 0 0
امجد جاوید ک جوائس ب سورینسن 42 35 5 0
محمد نوید ک و ب کوسیک 13 11 2 0
محمد توقیر ناٹ آؤٹ 2 2 0 0
منجولا گوروگے ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 4، و 11، ن ب 1 17
مجموعہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 278

 

آئرلینڈ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جان مونی 6 0 32 0
میکس سورینسن 10 0 60 2
ایلکس کوسیک 10 0 54 2
پال اسٹرلنگ 10 0 27 2
کیون اوبرائن 7 0 61 2
جارج ڈوکریل 7 0 39 1

 

آئرلینڈہدف: 279 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ولیم پورٹرفیلڈ ب توقیر 37 64 2 0
پال اسٹرلنگ ک پٹیل ب گوروگے 3 9 0 0
ایڈ جوائس ک پٹیل ب امجد جاوید 37 49 3 0
نیال اوبرائن ایل بی ڈبلیو ب توقیر 17 24 1 0
اینڈی بالبرنی ک متبادل ب نوید 30 41 1 0
گیری ولسن ک امجد جاوید ب محمد نوید 80 69 9 0
کیون اوبرائن ک محمد نوید ب امجد جاوید 50 25 8 2
جان مونی ک امجد علی ب امجد جاوید 2 6 0 0
ایلکس کوسیک ناٹ آؤٹ 5 6 0 0
جارج ڈوکریل ناٹ آؤٹ 7 5 1 0
فاضل رنز ب 4، ل ب 3، و 2، ن ب 2 11
مجموعہ 49.2 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 279

 

متحدہ عرب امارات (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد نوید 9.2 1 65 2
منجولا گوروگے 7 0 21 1
امجد جاوید 10 0 60 3
محمد توقیر 9 0 38 2
روہن مصطفی 9 0 45 0
کرشن چندر 5 0 43 0

Facebook Comments