بولڈ لیکن ناٹ آؤٹ!

عالمی کپ 2015ء میں درجن بھر یکطرفہ اور بے مزا مقابلوں کے بعد برسبین میں آئرلینڈ اور متحدہ عرب امارات کے مقابلے نے ایک روزہ کرکٹ کا اصل لطف دیا۔ ایک بہترین مقابلے کی طرح ایک سے دوسرے حریف کی طرف جھکنے والے اس میچ میں وہ سب کچھ تھا، جو کسی بھی سنسنی خیز معرکے میں ہونا چاہیے۔ چند بہترین اننگز، کچھ کرارے چھکے، وکٹیں اڑنا، کیچ گرنا، متنازع فیصلے سب کچھ اس مقابلے میں شامل تھا لیکن جس لمحے نے شائقین کرکٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ وہ آئرلینڈ کی اننگز کے گیارہویں اوور میں آیا جب وہ 279 رنز کے ہدف کا تعاقب کررہا تھا۔

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے ایڈ جوائس تیز گیندباز امجد جاوید کی ایک گیند کو کھیلنے میں ناکام ہوئے اور وہ ان کی آف اسٹمپ کو چھوتی ہوئی نکل گئی۔ ایل ای ڈی لائٹوں سے مزین جدید وکٹ کی اسٹمپس اور بیلز دونوں جگمگا اٹھیں اور ساتھ ہی امجد جاوید کا چہرہ بھی۔ وہ خوشی سے بے قابو ہوگئے تو بلے باز نے انہیں بتایا کہ بیلز تو گری ہی نہیں ہیں۔ دراصل گیند نے وکٹوں کو چھوا ضرور تھا لیکن وہ عام بیلز سے کچھ بھاری بیلز کو گرانے میں ناکام رہیں۔ انتہائی حساس بتیاں تو فوراً جل اٹھیں لیکن آؤٹ قرار نہیں دیا گیا۔

یوں ایڈ جوائس ان خوش قسمت بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ، جو بال بال نہیں بلکہ بال کی کھال کے فاصلے سے آؤٹ ہونے سے بچ گئے۔ یہ الگ بات کہ وہ اس زندگی کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور 49گیندوں پر 37 رنز بنانے کے بعد امجد ہی کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے گئے۔

اگر آپ نے یہ آؤٹ نہیں دیکھا تو اس تاریخی لمحے کا لطف اٹھائیں، بلکہ بار بار دیکھیں۔ یہ منظر دہائیوں بعد دیکھنے کو ملتا ہے۔

Facebook Comments