ایک اور سنسنی خیز مقابلہ، افغانستان کی تاریخی کامیابی

افغانستان نے سمیع اللہ شنواری کے 96 رنز کی بدولت انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر عالمی کپ کی تاریخ میں اپنی فتح رقم کردی۔ پہلی بار عالمی کپ کھیلنے والے افغانستان نے 211 رنز کا ہدف آخری اوور میں حاصل کیا اور یوں جنگ زدہ ملک کے باشندوں کو جشن منانے کا موقع دیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے خلاف اس یادگار جیت کے معمار تھے، اپنے کئی ساتھی کھلاڑیوں کی طرح پاکستان کے مہاجر کیمپوں میں کرکٹ سیکھنے والے سمیع اللہ شنواری نے، جنہوں نے اس وقت 96 رنز کی اننگز کھیلی جب افغانستان کی سات وکٹیں صرف 97 رنز پر گر چکی تھیں۔ سمیع اللہ کے علاہ جاوید احمدی 51 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بلے باز رہے لیکن یہ نویں وکٹ پر سمیع اللہ اور حمید حسن کی60 رنز کی رفاقت اور آخری وکٹ پر حمید اور شاپور زدران کے انتہائی دباؤ میں بنائے گئے 19 رنز تھے، جس نے افغانستان کو تاریخی جیت سے نوازا۔ تیسری مرتبہ عالمی کپ کھیلنے والے اسکاٹ لینڈ کی یہ مسلسل گیارہویں شکست تھی، اور شاید اس بار بھی اسے بغیر کسی جیت کے وطن لوٹنا پڑے گا۔

افغانستان کی جانب سے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا ۔ بحیثیت مجموعی یہ فیصلہ بالکل درست دکھائی کیونکہ اسکاٹ لینڈ کی وکٹیں ابتداء ہی میں گرنا شروع ہوئیں۔ یہاں تک کہ نویں وکٹ پر ماجد حق اور ایلسڈیئر ایونز کی 62 رنز کی شراکت داری نے اسکاٹ لینڈ عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی بار 200 رنز کا ہندسہ عبور کرنے کا موقع دیا۔ لیکن افسوس کہ آخر میں یہ 'ریکارڈ' بھی اسکاٹ لینڈ کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔

افغانستان کی طرف سے بائیں ہاتھ کے تیز گیندباز شاپور زدران نے 38 رنز دے کر چار وکٹیں لی، جبکہ دولت زدران نے 29 رنز دے کر تین وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا۔ دولت نے اپنے دوسرے ہی اوور میں کیلم میکلوڈ کو صفر پر پویلین کی جانب روانہ کیا۔ ان کا کیچ بیک ورڈ پوائنٹ پر نجیب اللہ زادران نے پکڑا۔ اب تک تین اننگز میں میکلوڈ صرف چار رنز بنا سکے ہیں۔

ہمیش گارڈنر کے حمید حسن اور دو گیندوں بعد ہی کائل کوئٹزرکے دولت زدران کی گیند پر آؤٹ ہونے سے اسکاٹ لینڈ پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ کپتان پریسٹن مومسن اور میٹ ماچن نے 61 گیندوں پر 53 رنز کا اضافہ کیا ہی تھا کہ افغان کپتان محمد نبی نے اس شراکت داری کا خاتمہ کردیا۔ اگلے اوور میں مومسن بھی وکٹوں کے پیچھے کیچ دے کر چلتے بنے۔ 144 رنز پر آٹھ وکٹیں گرنے پر ماجد حق اور ایونز نے اننگز کو نبھالا۔ ماجد نے 31 اور ایونز نے 28 رنز بنائے اور آخری اوور کی آخری گیند پر اسکاٹ لینڈ کی اننگز 210 رنز پر تمام ہوگئی۔

افغانستان نے ہدف کا تعاقب بہت عمدگی سے شروع کیا۔ جاوید احمدی نے اپنے ایک روزہ کیریئر کی پانچویں نصف سنچری صرف 48 گیندوں پر بنائی۔ اس وقت افغانستان بہترین مقام پر تھا جب 18 اوورز میں 85 رنز پر اس کی صرف دو وکٹیں گری ہوئی تھیں لیکن انیسویں اوور کی پہلی ہی گیند جاوید کے لیے واپسی کا پروانہ لے کر آئی۔ ان کا آؤٹ ہونا تھا کہ مقابلہ ریت کی طرح افغانستان کے ہاتھوں سے نکلنے لگا۔ اگلے اوور میں کپتان محمد نبی کی باری آئی، پھر افسر زازئی، نجیب اللہ زدران اور گلبدین نائب بھی اپنی وکٹیں دے گئے اور صرف 12 رنز کے اضافے سے افغانستان کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔ صرف 97 رنز اور 7 وکٹیں، اس مقام سے افغانستان کا بچنا بہت مشکل دکھائی دیتا تھا اور جو تھوڑی بہت امید تھی وہ 132 رنز پر دولت زدران کے آؤٹ ہونے سے پوری ہوگئی۔

یہاں سمیع اللہ شنواری نے اپنی زندگی کی سب سے اہم اور یادگار اننگز کھیلی۔ جب وہ 20 رنز پر کھڑے تھے تو سلپ میں اسکاٹ لینڈ کے ماجد حق نے کیچ چھوڑ کر انہیں نئی زندگی دی تھی، جس کا سمیع اللہ نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ نویں وکٹ پر حمید حسن کے ساتھ ان کی 60 رنز کی شراکت داری نے جیت کی بنیاد رکھی تھی۔

اننگز کے 47 ویں اوور میں سمیع اللہ نے ماجد حق کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں ایک ہی اوور میں تین چھکے لگائے اور خود 96 رنز پر پہنچ گئے۔ یہاں ان سے غلطی یہ ہوئی کہ بجائے دم لینے کے، انہوں نے ایک اور چھکے کے ذریعے اپنی سنچری مکمل کرنے اور افغانستان کی پیشقدمی کو مزید تیز کرنے کی کوشش کی جس میں ناکام ہوئے اور افغانستان کو نویں وکٹ کھونا پڑی۔ سمیع اللہ 147 گيندوں پر 96 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ جس میں پانچ چھکے اور سات چوکے بھی شامل تھے۔

جب سمیع اللہ آؤٹ ہوئے تو افغانستان کو 19 گیندوں پر اتنے ہی رنز کی ضرورت تھی جو حمید اور شاپور نے آخری اوور کی تیسری گیند پر مکمل کرلیے۔ جیت کا زبردست جشن منانے کے بعد سمیع اللہ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب افغانستان کا اگلا مقابلہ 4 مارچ کو آسٹریلیا سے ہوگا جبکہ اسکاٹ لینڈ 5 مارچ کو بنگلہ دیش سے کھیلے گا۔ اسکاٹ لینڈ کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے امکانات تو اب معدوم ہو چکے ہیں لیکن افغانستان اگر غیر معمولی کارکردگی دکھائے تو اب بھی پہنچ سکتا ہے۔

افغانستان بمقابلہ اسکاٹ لینڈ

عالمی کپ 2015ء - سترہواں مقابلہ

بمقام: یونیورسٹی اوول، ڈنیڈن، نیوزی لینڈ

نتیجہ: افغانستان 1 وکٹ سے جیت گیا

میچ کے بہترین کھلاڑی: سمیع اللہ شنواری

رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
کائل کوئٹزر بولڈ زدران 25 41 5 0 60.98
کیلم میکلوڈ کیچ زدران بولڈ زدران 0 5 0 0 0.0
ہمیش گارڈنر ایل بی ڈبلیو حسن 5 20 0 0 25.0
میٹ ماچن بولڈ نبی 31 28 4 0 110.71
پریسٹن مومسن کیچ زازئی بولڈ نائب 23 36 4 0 63.89
رچی بیرنگٹن کیچ زازئی بولڈ زدران 25 46 2 0 54.35
میتھیو کراس کیچ زازئی بولڈ زدران 15 26 1 0 57.69
جوش ڈیوی کیچ حسن بولڈ زدران 1 9 0 0 11.11
ماجد حق کیچ نائب بولڈ زدران 31 51 3 0 60.78
ایلسڈیئر ایونز کیچ نبی بولڈ زدران 28 37 3 0 75.68
این وارڈلا ناٹ آؤٹ 1 2 0 0 50.0
فاضل رنز ل ب 12، و 12، ن ب 1 25
کل رنز 50 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 210
گیندبازی (افغانستان) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
شاپور زدران 10.0 1 38 4 1 2 3.8
دولت زدران 10.0 1 29 3 0 2 2.9
حمید حسن 10.0 1 32 1 0 0 3.2
گلبدین نائب 9.0 0 53 1 0 2 5.88
محمد نبی 10.0 0 38 1 0 2 3.8
جاوید احمدی 1.0 0 8 0 0 0 8.0
(ہدف: 211 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
جاوید احمدی کیچ ماچن بولڈ بیرنگٹن 51 51 8 0 100.0
نوروز منگل بولڈ ایونز 7 13 0 0 53.85
اصغر ستانکزئی کیچ کراس بولڈ ایونز 4 3 1 0 133.33
سمیع اللہ شنواری کیچ ڈیوی بولڈ حق 96 147 7 5 65.31
محمد نبی ایل بی ڈبلیو ڈیوی 1 3 0 0 33.33
افسر زازئی ایل بی ڈبلیو بیرنگٹن 0 1 0 0 0.0
نجیب اللہ زدران کیچ حق بولڈ بیرنگٹن 4 5 1 0 80.0
گلبدین نائب کیچ حق بولڈ ڈیوی 0 1 0 0 0.0
دولت زدران کیچ مومسن بولڈ بیرنگٹن 9 25 1 0 36.0
حمید حسن ناٹ آؤٹ 15 39 1 0 38.46
شاپور زدران ناٹ آؤٹ 12 10 2 0 120.0
فاضل رنز ل ب 1، و 10، ن ب 1 12
کل رنز 49.3 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 211
گیندبازی (اسکاٹ لینڈ) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
این وارڈلا 9.3 0 61 0 1 2 6.42
جوش ڈیوی 10.0 1 34 2 0 1 3.4
ایلسڈیئر ایونز 10.0 1 30 2 0 4 3.0
ماجد حق 10.0 0 45 1 0 1 4.5
رچی بیرنگٹن 10.0 0 40 4 0 2 4.0

Facebook Comments