میزبانوں کا مقابلہ، صلاحیتوں کا حقیقی امتحان

چار بار کا فاتحِ عالم آسٹریلیا اور عالمی کپ 2015ء کا شریک میزبان اور اعزاز کے مضبوط ترین امیدواروں میں سے ایک نیوزی لینڈ جب ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گے تو کیا ہوگا؟ یہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔ کیا ایک اعصاب شکن معرکہ دیکھنے کو ملے گا؟ یا ٹورنامنٹ میں بڑی ٹیموں کے دیگر مقابلوں کی طرح یہ بھی انتہائی یکطرفہ ہوگا؟ اس سوال کا جواب صرف وقت دے گا لیکن فی الحال تو اس معرکے کے لیے میدان خوب گرم ہو رہا ہے۔ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ میں اب تک ناقابل شکست ہیں اور جو جیتے گا، ممکنہ طور پر گروپ 'اے' میں بالادستی اسی کو نصیب ہوگی۔

آسٹریلیا نے عالمی کپ میں اب تک دو مقابلے کھیلے ہیں، بلکہ کھیلا تو اصل میں ایک ہی ہے، باقی تو بارش کی نذر ہوگیا۔ اپنے پہلے مقابلے میں آسٹریلیا نے روایتی حریف انگلستان کو باآسانی 111 رنز سے 'دھویا' لیکن بنگلہ دیش کے خلاف اس کا دوسرا مقابلہ بارش کے ہاتھوں 'دھل' گیا۔ برسبین میں ہونے والی طوفانی بارش نے اُس مقابلے سے صرف ایک پوائنٹ دیا جو آسٹریلیا کے لیے ہارنا ناممکنات میں سے ایک تھا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ تین فتوحات کے ساتھ گروپ میں سرفہرست ہے۔ سری لنکا کو باآسانی شکست دینے کے بعد اسکاٹ لینڈ کے خلاف بمشکل 143 رنز کا ہدف حاصل کیا لیکن جو خدشات پیدا ہوئے تھے وہ انگلستان کے خلاف مقابلے سے ختم کردیے کہ جہاں 124 رنز کا معمولی ہدف محض 13 ویں اوور میں مکمل کیا۔ اس وقت نیوزی لینڈ مکمل عروج پر دکھائی دیتا ہے اور بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ آسٹریلیا کے لیے اسے روکنا مشکل ہوگا۔

فتوحات کی راہ پر گامزن ہونے کی وجہ سے نیوزی لینڈ کے دستے میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔ ٹم ساؤتھی کندھے کی تکلیف سے نجات پا چکے ہیں اور انہوں نے تربیتی سیشن میں جم کر مشقیں کی ہیں۔ کپتان برینڈن میک کولم نے بھی تصدیق کی ہے کہ ساؤتھی پوری طرح صحت یاب ہیں اور مقابلے میں شرکت کریں گے۔ ساؤتھی نے گزشتہ مقابلے میں انگلستان کے خلاف صرف 33 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس لیے ان کی موجودگی آسٹریلیا پر نفسیاتی غلبہ پانے کے لیے بھی ضروری ہے۔

عالمی کپ میں اپنے چوتھے مقابلے کے لیے نیوزی لینڈ ٹیم میں کسی تبدیلی کے امکانات نہیں ہیں۔ ٹم ساؤتھی کندھے کی چوٹ سے نجات پا چکے ہیں اور انہوں نے نیٹ پر جم کر مشق کی تھی۔ کپتان برینڈ میک کولم نے توثیق کر دی ہے کہ ساؤتھی پوری طرح سے صحت یاب ہیں اور مقابلے میں شرکت کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹیم کمبینیشن کے ساتھ کسی چھیڑ چھاڑ کا بھی انکار کیا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا نے متوقع طور پر انگلستان کو پہلا مقابلہ ہرایا اور دوسرے میچ میں اسے زور آزمائی کا موقع ہی نہیں ملا۔ یوں اس کا عالمی کپ میں پہلا اور حقیقی امتحان آج کے مقابلے سے ہوگا۔ آسٹریلیا کے لیے ایک اہم بات کپتان مائیکل کلارک کی واپسی ہے۔ کلارک دسمبر میں بھارت کے خلاف سیریز کے دوران زخمی ہوئے تھے اور گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے انہوں نے کوئی ایک روزہ مقابلہ نہیں کھیلا۔

کلارک کی واپسی سے جارج بیلی کے باہر ہونے کا امکان ہے، جو ان کی عدم موجودگی میں قیادت بھی سنبھالے ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ پیٹرک کمنز کی شمولیت بھی یقینی دکھائی دیتی ہے جو نوجوان جوش ہیزل ووڈ کی جگہ کھیلیں گے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے مجموعی طور پر 125 ایک روزہ مقابلے کھیلے ہیں، جن میں سے 85 آسٹریلیا نے جیتے ہیں اور صرف 34 مقابلے نیوزی لینڈ کی جیت پر ختم ہوئے۔ باقی چھ مقابلے بے نتیجہ رہے۔ اسی طرح عالمی کپ میں بھی آسٹریلیا کا پلڑا بھاری ہے۔ 8 عالمی کپ مقابلوں میں سے 6 آسٹریلیا نے جیتے ہیں اور صرف دو بار نیوزی لینڈ نے میدان مارا ہے۔

عالمی کپ کے 2015ء کے گروپ 'اے' کا یہ اہم مقابلہ ایڈن پارک، آکلینڈ میں ہوگا جہاں آج تک فریقین کے ہونے والے دو مقابلے آسٹریلیا نے ہی جیتے ہیں۔ کیا آسٹریلیا اس سلسلے کو جاری رکھ پائے گا؟ یا نیوزی لینڈ کی فتوحات کا تسلسل جاری رہے گا؟ بس چند گھنٹے، اور آپ ان 'پڑوسیوں' کو باہم دست و گریباں دیکھیں گے۔

Facebook Comments