کیون پیٹرسن کے لیے انگلستان کے دروازے کھلنے کا امکان

ایک کے بعد دوسرے تنازع میں ملوث ہونے اور پھر شکست در شکست کے بعد کیون پیٹرسن کو انگلستان کرکٹ ٹیم سے نکال دیا گیا تھا لیکن اب جبکہ عالمی کپ میں انگلستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے تو انہیں ایک مرتبہ پھر اپنے اہم ترین بلے باز کی یاد ستا رہی ہے۔ حال ہی میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی سربراہی سنبھالنے والے کولین گریوز نے امکان ظاہر کیا ہے کہ کیون پیٹرسن کی واپسی ہوسکتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ریڈیو فائیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کولن گریوز نے کہا کہ پیٹرسن کی قومی ٹیم میں واپسی ممکن ہے، بس اس کے لیے انہیں کاونٹی کرکٹ کھیلنی ہو گی، اسی صورت میں سیلکٹرز اور کوچ اُنہیں چنیں گے۔ یہ سوال پوچھنے پر کہ کیا وہ پیٹرسن کی انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی کے حق میں ہیں؟ گریوز نے کہا کہ "یہ سلیکٹرز اور کوچز پر منحصر ہے کہ وہ قومی کرکٹ کے لیے کس چیز کو بہترین سمجھتے ہیں۔ وہ فیصلہ کریں گے اور میں اُن کے فیصلے کی حمایت کروں گا۔"

ماضی قریب میں بارہا انگلستان کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی خواہش ظاہر کرنے والے پیٹرسن نے اس بیان پر خوشی کا اظہار کیا۔ اسکائی اسپورٹس یوکے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "حقیقت میں مجھے یہ جان کر بہت خوشگوار حیرانی ہوئی ہے۔ پچھلی بات چیت میں مجھے واضح طور سے کہہ دیا گیا تھا کہ انگلستان میں میرے کھیلنے پر پابندی لگ چکی ہے اور اب میں کبھی واپس نہیں آ پاؤں گا۔ اس سے میں کافی مایوس ہوگیا تھا، مجھے ایسا لگتا تھا کہ میرا کیریئر درمیان میں ہی ختم ہو گیا تھا۔ میں اس بارے میں ای سی بی سے یقینی طور پر بات کرنا چاہوں گا۔ میں پوری طرح‌ واضح کر دوں کہ مجھے انگلینڈ کے لیے کھلینا بہت اچھا لگے گا۔"

33 سالہ پیٹرسن نے مزید کہا کہ "آپ کمار سنگاکارا اور تلکارتنے دلشان کو دیکھیں، یہ 30 کے پیٹے میں ہیں لیکن خوب رنز بنا رہے ہیں، اس لیے اس عمر کا مطلب یہ نہیں کہ میں کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔"

کیون پیٹرسن کو پچھلے سال فروری میں انگلستان نے ٹیم سے باہر کا راستہ دکھا دیا تھا، یہاں تک کہ اُن کی کاؤنٹی ٹیم سرے نے بھی معاہدے کی تجدید نہیں کی۔ اپنی آپ بیتی میں ٹیم کے کئی سابق ساتھیوں اور ای سی بی عہدے داروں پر تنقید کرنے کے بعد کیون پیٹرسن کی واپسی کے تمام راستے بند ہو گئے تھے لیکن اب مشکلات میں گھری انگلش ٹیم کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پیٹرسن اور بورڈ کے درمیان برف پگھلی ہے۔

پیٹرسن کے لیے آخری بار جنوری 2014ء میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف ایشیز ٹیسٹ کھیلے تھے۔ انگلستان کی جانب سے اس آخری سیریز میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا نزلہ پیٹرسن پر گرایا گیا، یہاں تک کہ قومی سلیکٹر جیمز وٹیکر نے کہا تھا کہ پیٹرسن کی واپسی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Facebook Comments