مصباح الحق جنوبی افریقہ کے لیے بڑا خطرہ ہیں: گریم اسمتھ

ایک مرتبہ پھر مضبوط ترین ٹیم کے ساتھ عالمی کپ کھیلنے والا جنوبی افریقہ کے ہاتھوں کے طوطے اس وقت اڑ گئے جب بھارت کے خلاف اہم مقابلے میں اسے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح ہارنے کے بعد ہونے والے اعصابی تناؤ سے نکلنے کے لیے ایک بہت بڑی جیت کی ضرورت تھی جو جنوبی افریقہ نے اگلے مقابلے میں ویسٹ انڈیز کو زیر کرکے حاصل کرلی اور سابق کپتان گریم اسمتھ بھی سمجھتے ہیں کہ 'پروٹیز' اب اپنا اصل کھیل پیش کرکے آگے بڑھیں گے، لیکن انہیں پاکستان سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔

197 ایک روزہ مقابلوں میں جنوبی افریقہ کی کپتانی کرنے والے گریم اسمتھ نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ آئرلینڈ اور متحدہ عرب امارات جنوبی افریقہ کے لیے مسائل پیدا نہیں کریں گے، بلکہ ان مقابلوں میں اہم کھلاڑیوں کو آرام کا موقع بھی دیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان کے بارے میں پیشن گوئی کرنا مشکل ہے۔

گریم اسمتھ 2007ء میں سیمی فائنل اور 2011ء میں کوارٹر فائنل میں شکست کھانے والے جنوبی افریقہ کے کپتان تھے، بلکہ 2003ء میں اپنے ہی ملک میں گروپ مرحلے سے باہر ہونے والے دستے کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ جو کام وہ خود نہ کرسکے، اب انہیں امید ہے کہ ابراہم ڈی ولیئرز کی زیر قیادت نوجوان کر دکھائیں گے۔

گریم اسمتھ کہتے ہیں کہ پاکستان کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، ان کے خلاف تو کبھی کبھار تمام منصوبہ بندیاں اور حکمت عملیاں بیکار جاتی ہیں۔ گو کہ ابھی تک پاکستان ٹورنامنٹ میں کھل کر نہیں کھیلا لیکن ابھی تو عالمی کپ کی شروعات ہے۔ سابق کپتان نے لکھا کہ مصباح الحق سب سے بڑا خطرہ قرار ہیں، بلکہ میں یہاں تک کہوں گا کہ اگر جنوبی افریقہ نے ان پر قابو پا لیا تو آدھا مقابلہ تو وہیں جیت جائیں گے۔ پاکستان کی بیٹنگ لائن میں وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے ٹورنامنٹ میں کچھ دم دکھایا ہے۔ ایک اور شعبہ جس میں پاکستان خطرہ ثابت ہو سکتا ہے وہ نچلے مڈل آرڈر میں تیز بلے بازی ہے۔ صہیب مقصود، عمر اکمل، شاہد آفریدی اور وہاب ریاض اس کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔

البتہ پاکستان کا تیز باؤلنگ گریم اسمتھ کی آنکھوں میں نہیں جچ رہا، انہوں نے محمد عرفان کی تعریف ضرور کی اور لکھا کہ میں نے اپنے کیریئر میں جس تیز ترین باؤلنگ اسپیل کا سامنا کیا ہے، وہ محمد عرفان نے 2013ء میں پھینکا تھا اور اس بار بھی وہ پاکستان کے اہم گیندباز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کو معلوم ہے کہ جیت کی کیا اہمیت ہے، یہ ان کے اعتماد کو بڑھائے گی اور یقین دلائی گی کہ وہ اگلے مرحلے تک جا سکتے ہیں۔ شکست کے بارے میں اس وقت تصور بھی نہیں کرنا چاہیے

پاکستان اور جنوبی افریقہ کا مقابلہ 7 مارچ کو آکلینڈ میں ہوگا، جہاں دونوں ٹیموں کے لیے جیت بہت ضروری ہوگی۔

Facebook Comments