آئرلینڈ کو سب سے بڑا امتحان درپیش

زمبابوے کے خلاف بمشکل کامیابی، بھارت سے بری طرح شکست اور اس کے بعد ویسٹ انڈیز کو چاروں خانے چت کرنے والا جنوبی افریقہ اب اپنے چوتھے مقابلے میں آئرلینڈ کا سامنا کرنے جا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ تو خوش ہوگا لیکن آئرلینڈ سخت دباؤ میں ہے جسے 'ون مین آرمی' یعنی ابراہم ڈی ولیئرز کا سامنا کرنا ہوگا جنہوں نے ابھی پچھلے مقابلے میں ہی ویسٹ انڈیز کو 66 گیندوں پر 162 رنز مارے ہیں۔

آئرلینڈ نے عالمی کپ کا آغاز تو بڑے دھواں دار انداز میں کیا اور ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر عالمی کپ کا پہلا، اور اب تک کا واحد، اپ سیٹ بھی کیا۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات کو شکست دے کر دو مقابلوں سے چار پوائنٹس سمیٹ لیے ہیں اور وقت گروپ 'بی' میں تیسرے نمبر پر ہے۔ لیکن ناک آؤٹ مرحلے سے پہلے اب ان کا کڑا امتحان شروع ہو رہا ہے۔ انہیں جنوبی افریقہ کے بعد بھارت، زمبابوے اور پاکستان سے بھی کھیلنا ہوگا لیکن ان سب سے پہلے ابراہم ڈی ولیئرز کا سامنا کرنا ہے۔ جن کی ریکارڈ ساز اننگز نے تمام ٹیموں کے کان کھڑے کردیے ہیں اور کل ان کا سامنا کرنے کی باری آئرلینڈ کی ہے۔ اسی میدان پر کہ جہاں چند روز قبل کرس گیل ڈبل سنچری بنا چکے ہیں، کیا تیز ترین نصف سنچری، سنچری اور 150 رنز کا ریکارڈ بنانے والے ڈی ولیئرز کیا تیز ترین ڈبل سنچری کے ریکارڈ کا تعاقب کریں گے؟ یہ کل معلوم ہوگا۔ ڈی ولیئرز کے علاوہ ہاشم آملہ، فف دو پلیسی، ریلی روسو اور عمران طاہر بھی بہترین فارم میں نظر آ رہے ہیں یعنی آئرلینڈ کے لیے اب معاملہ آسان نہیں۔ پھر جنوبی افریقہ کے اہم گیندباز ڈیل اسٹین کا یہ 100 واں ایک روزہ مقابلہ ہوگا، اس لیے وہ اسے خاص بنانا چاہیں گے۔

اس کے باوجود جنوبی افریقہ آئرلینڈ کو کم تر نہیں سمجھے گا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 304 رنز کے ہدف کو باآسانی 25 گیندیں قبل حاصل کرکے آئرش بلے باز ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اپ سیٹ کرنے پر قادر ہیں۔ بالخصوص ان کے بلے باز کیون اوبرائن اور گیری ولسن کسی بھی مرحلے پر مقابلے کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کو اسپن گیندباز جارج ڈوکریل کے مقابلے میں محتاط رہنا ہوگا کیونکہ بھارت کے خلاف مقابلے میں جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کی اسپنرز کے خلاف کمزوری اجاگر ہوچکی ہے۔

آئرلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان آج تک تین مقابلے کھیلے گئے ہیں، جن میں سے دو عالمی کپ 2007ء اور 2011ء میں ہوئے۔ تمام ہی مقابلے جنوبی افریقہ نے جیتے لیکن 2015ء کے عالمی کپ کے اس مقابلے میں بھی آئرلینڈ نے شکست کھائی تب بھی اس کے لیے میدان کھلا ہوگا، البتہ جنوبی افریقہ بھارت کے اب کسی کے ہاتھوں شکست برداشت نہیں کرسکتا۔

Facebook Comments