ویسٹ انڈیز کو بھارتی خطرے کا سامنا، کلائیو لائیڈ پرامید

آئرلینڈ کے بعد جنوبی افریقہ سے بری طرح شکست کھانے کے بعد اب ویسٹ انڈیز کے پاس کو 'کرو یا مرو' کی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ اسے اگلے مقابلے میں دفاعی چیمپئن بھارت کا سامنا کرنا ہے، جہاں شکست کا مطلب ہے کہ ویسٹ انڈیز گروپ کے دوسرے مقابلوں کے نتائج پر انحصار کرے۔ یہ مقابلہ پرتھ کی اس وکٹ پر ہے، جسے عام طور پر گیندبازوں کے لیے سازگار سمجھا جاتا ہے لیکن جمعے کو یہ پچ کیا رنگ دکھاتی ہے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ لیکن بھارت ابھی سے ویسٹ انڈیز کے اعصاب پر سوار ہوگیا ہے، جس نے گروپ کے دونوں مضبوط حریفوں پاکستان اور جنوبی افریقہ کو شکست دی ہے اور عالمی کپ میں اب تک ناقابل شکست ہے۔

ویسٹ انڈیز کے دو مرتبہ کے عالمی کپ فاتح کپتان اور موجودہ چیف سلیکٹر کلائیو لائیڈ بھارت کی اس کارکردگی سے بہت متاثر نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہم بھارت کے کھلاڑیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ 'مہندر سنگھ دھونی اور ہمنوا' کس مٹی کے بنے ہیں۔ بھارت نے تینوں مقابلے جیتے ہیں اور ہم ان کی گیندبازی، بلے بازی اور میدان بازی (فیلڈنگ) میں کوئی کمی نہیں نکال سکتے۔ ان کا مڈل آرڈر مضبوط ہے، ویراٹ کوہلی جیسا بہترین بلے باز انہیں میسر ہے۔ پھر گزشتہ دو سال کی کارکردگی کا سہارا بھی انہیں حاصل ہے۔ اب اوپنر شیکھر دھاون بھی کارکردگی دکھا رہے ہیں اور اس پر طرّہ یہ کہ تیز گیندبازی کے حملے کو روی چندر آشون جیسے اسپنر کا ساتھ حاصل ہے۔"

اس کے باوجود کلائیو لائیڈ سمجھتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز بھارت کی فتوحات کے سلسلے کو روک سکتا ہے۔ "بھارت ایک مضبوط حریف ہے، لیکن جب آپ میدان میں اپنی کارکردگی کے ذریعے ایک معیار طے کرلیتے ہیں تو پھر لوگ آپ سے ہر مقابلے میں ویسی ہی کارکردگی کی امید بھی لگاتے ہیں۔ بھارت نے ابھی تک تو بہت اچھا کھیلا ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ جمعے کو وہ اپنی کارکردگی نہیں دہرا پائیں گے۔ ویسے بھی یہ کرکٹ کا کھیل ہے، مقابلے کے دن جو اچھا کھیلتا ہے وہی جیتتا ہے۔"

ماہرین و مبصرین تو یہی سمجھتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بھارت کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ کلائیو لائیڈ کی اپنے کھلاڑیوں سے وابستہ امیدیں پوری ہوپاتی ہیں یا نہیں۔

اگر پاکستان کے نقطۂ نظر سے بات کی جائے تو پاکستان یہ آس لگائے بیٹھا ہے کہ ویسٹ انڈیز شکست کھائے گا تاکہ پاکستان کے اگلے مرحلے میں پہنچنے کے امکانات مزید روشن ہوجائیں۔

Facebook Comments