پاک-بھارت کرکٹ تعلقات کی برف مزید پگھلنے کا امکان

پاکستان اور بھارت کے کرکٹ تعلقات 2008ء میں ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد سے تقریباً منقطع ہیں۔ 2012ء کے اواخر میں محدود اوورز کی ایک مختصر سیریز کے علاوہ دونوں ممالک نے باہم کچھ نہیں کھیلا لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے یہ کہ برف پگھلے گی۔ گو کہ رواں سال بھی انڈین پریمیئر لیگ میں کسی پاکستانی کھلاڑی پر غور نہیں کیا گیا، بلکہ چند سال قبل تو فہرست میں کھلاڑیوں کی شمولیت کے باوجود کسی نے ان کو 'خریدنے' کی زحمت نہیں کی لیکن جب سے شہریار خان سربراہ بنے ہیں، امید ہو چلی ہے کہ روایتی حریف اب 10 سال قبل کے تعلقات کو بحال کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان،جوماضی میں بھارت میں پاکستان کے سفیر بھی رہے ہیں، نےبھارتی کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ جگموہن ڈالمیا کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے اور آئندہ چند دنوں میں وہ بھارت کا دورہ کرنے بھی جائیں گے جہاں آئندہ 8 سالوں کے دوران پاک-بھارت زیر تجویز سیریز کی منظوری دی جائے گی۔

ماضی قریب میں پاکستان و بھارت کے کرکٹ تعلقات کا بہترین زمانہ 2004ء میں شروع ہوا جب بھارت نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس وقت شہریار خان اور جگموہن ڈالمیہ ہی اپنے اپنے بورڈز کے سربراہان تھے۔ شہریار خان کا کہنا ہےکہ "جگموہن میرے پرانے دوست ہیں اور مجھے امید ہے کہ ہمارے پرانے تعلقات قائم رہیں گے۔ ماضی میں بھی ایک تاریخی دورہ کروایا تھا اور اب بھی کرکٹ کے رشتوں کو سدھارنے کے لیے کوئی راستہ نکال لیں گے۔"

شہریار خان پرامید ہیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلنے کی اجازت مل جائے گی لیکن انہوں نے کہا کہ اولیت دوطرفہ سیریز کو بحال کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی ترجیح تو اس معاہدے کی توثیق کرنا ہے جس پر دونوں ملکوں نے آئندہ 8 سالوں میں چھ سیریز کھیلنے کا عہد کیا ہے۔ اس میں پہلی سیریز کا میزبان پاکستان ہوگا جو 2015ء کے اواخر میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی جائے گی۔ "مجھے امید ہے کہ ڈالمیا اور دیگر عہدیداران کے ساتھ ملاقات بارآور ثابت ہوگی۔"

بین الاقوامی کرکٹ کے آئندہ 8 سالوں کے شیڈول میں پاکستان اور بھارت نے باہم 12 ٹیسٹ، 30 ایک روزہ اور 11 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلنے کا عہد کیا تھا البتہ یہ بھارتی کی حکومت کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

Facebook Comments