بھارت-ویسٹ انڈیز معرکہ، واکا کے پچ کیوریٹر اور اسکوررز کا امتحان

عالمی کپ 2015ء کے گروپ 'بی' کا ایک اہم مقابلہ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے مابین پرتھ کے واکا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں کی تیز گیندبازوں کے لیے مددگار پچ کے ساتھ ساتھ ایک بڑی کشش بڑا اسکور بورڈ بھی ہے۔ گو کہ برقی اسکور بورڈ کو رواج پائے ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں اور اب کئی چھوٹے میدان بھی اس جدید سہولت سے لیس ہیں لیکن پرتھ کے اس تاریخی میدان پر آج بھی پرانے انداز کا اسکور بورڈ ہی استعمال ہوتا ہے، جسے مقابلے کے دوران ہاتھوں سے بدلا جاتا ہے۔

1954ء میں تعمیر ہونے والے اس بورڈ کی اونچائی کسی تین منزلہ عمارت کے برابر ہے اور مقابلے کے تازہ ترین اسکور بیان کرنے کا پورا انتظام اس کے اندر ہی موجود ہے۔ اس اسکور بورڈ کے تین درجے ہیں۔ ابتدائی چھ بلے بازوں کے اسکورز میں ہونے والی تبدیلیاں پہلے درجے پر ہوتی ہیں۔ بقیہ بلے بازوں کے لیے دوسرے درجے کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سب سے نچلے درجے پر مخالف ٹیم کے گیندبازوں کا کھاتہ درج ہوتا ہے۔ اس پورے کام میں 8 سے 12 افراد پر مشتمل عملے کی ضرورت ہوتی ہے اور مقابلے کے دن عملے کو اسکور بورڈ کے اندر ہی ناشتہ اور دوپہر کا کھانا دیا جاتا ہے بلکہ ایک عارضی بیت الخلاء بھی اس کے اندر ہی تیار کیا جاتا ہے۔

اب دنیائے کرکٹ کے چند جارحانہ بلے بازوں کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جمعے کو عملے کے اراکین کو بہت محنت کرنا پڑے گی۔اوپری منزل والوں کو ویراٹ کوہلی، شیکھر دھاون، روہیت شرما، کرس گیل اور مارلون سیموئلز کی وجہ سے جبکہ درمیانے درجے والوں کو آندرے رسل،ڈیرن سیمی، مہندر سنگھ دھونی اور رویندر جدیجا کی وجہ سے خاصی پھرتی دکھانی پڑے گی۔ اگر پرتھ کی وکٹ توقعات کے برخلاف بلے بازوں کے لیے سازگار ہوئی تو پھر نچلے درجے والوں کی بھی خیر نہیں کہ جنہیں گیندبازوں کی دھنائی کو جلد از جلد بورڈ پر ظاہر کرنا ہوگا۔

واکا کی پچ کسی زمانے میں تیز گیندبازوں کے لیے راحت کا سامان ہوتی تھی۔ اس سے گیند کو ملنے والا اچھال دنیا میں مثالی ہوا کرتا تھا لیکن عالمی کپ 2015ء میں ایسا نہیں دکھائی دیتا۔ یہاں پہلا مقابلہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہوا جس میں نوآموز ٹیم صرف 102 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور بھارت نے 19 ویں اوور میں ہی ہدف حاصل کرلیا لیکن جو مقابلہ اس میدان کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے شرمناک کہا جا سکتا ہے وہ آسٹریلیا اور افغانستان کا تھا۔ آسٹریلیا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے عالمی کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا مجموعہ یعنی 417 رنز اکٹھا کیا جس میں ڈیوڈ وارنر کے 178 رنز بھی شامل تھے۔ آج سے 15 سال قبل کس نے تصور کیا ہوگا کہ واکا کی پچ پر 417 رنز بنیں گے۔پچ کیوریٹر میتھیو پیچ کہتے ہیں کہ "پرتھ کی وکٹ اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ 70ء کی دہائی میں پچ کی تیاری میں الگ طرح کی مٹی استعمال ہوتی تھی لیکن 2000ء کی شروعات میں پچ کی کھدائی کرکے یہاں کی مٹی بدلی دی گئی تھی جس سے اس کی تیزی اور اچھال میں کمی آئی۔ 2007ء میں ایک مرتبہ پھر پچ کی مٹی تبدیل کی گئی اور اس عالمی کپ میں اسی مٹی کا استعمال کیا گیا ہے جو 70ء اور 80ء کی دہائی میں استعمال ہوتی تھی۔" کیوریٹر کا بیان ایک طرف اور آسٹریلیا-افغانستان مقابلہ ایک طرف۔ بہرحال، اب ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے میچ میں دنیا کے چند بہترین بلے باز آمنے سامنے آئیں گے، جن کی جارح مزاجی اظہر من الشمس ہے۔ دیکھتے ہیں کہ پچ کیوریٹر کی بات کس حد تک درست نکلتی ہے اور ہاں! اسکوربورڈ کے مکینوں کو کتنی جلدی دکھانی پڑے گی۔

Facebook Comments