بنگال ٹائیگرز کوارٹر فائنل میں، انگلستان بے دخل

بنگلہ دیش نے شاندار بلے بازی، بہترین باؤلنگ اور قسمت کے بل بوتے پر ایک یادگار فتح حاصل کرتے ہوئے انگلستان کو عالمی کپ کی دوڑ سے باہر کردیا۔ چار سال پہلے 2011ء میں بھی بنگلہ دیش نے انگلستان کو ہرایا تھا لیکن نہ خود اگلے مرحلے میں پہنچ سکا اور نہ ہی انگلستان کو روک پایا لیکن اس بار بنگلہ دیش کی ضرب کاری ثابت ہوئی۔

اس تاریخی فتح کے معمار تھے محمود اللہ، مشفق الرحیم اور روبیل حسین، محمود اللہ نے عالمی کپ میں کسی بھی بنگلہ دیشی بلے باز کی جانب سے پہلی سنچری بنائی، مشفق نے 89 رنز کے ساتھ ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ایک اچھے مجموعے کی راہ ہموار کی جبکہ روبیل نے 4 وکٹیں حاصل کیں جن میں پہلے ایک ہی اوور میں این بیل اور ایون مورگن اور پھر 49 ویں اوور میں اسٹورٹ براڈ اور جمی اینڈرسن کو ٹھکانے لگا کر بنگلہ دیش کو یادگار فتح سے ہمکنار کیا۔

ایڈیلیڈ میں ہونے والے مقابلے میں انگلستان نے ٹاس جیتا اور پہلے بنگلہ دیش کی بلے بازی کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ جب صرف 8 رنز پر بنگلہ دیش کے دو بلے باز جیمز اینڈرسن کے ہتھے چڑھ گئے تو یہ فیصلہ بالکل درست دکھائی دینے لگا۔ اسی عالمی کپ میں 95 رنز کی بڑی اننگز کھیلنے والے تمیم اقبال صرف2 رنز بنا سکے اور ان کا آؤٹ ہونا بنگلہ دیش کے لیے بڑا نقصان ثابت ہو سکتا تھا لیکن محمود اللہ نے انتہائی مشکل حالات میں ذمہ داری سنبھالی اور سومیا سرکار اور مشفق الرحیم نے ان کا بہترین ساتھ دیا۔ محمود اور سومیا نے تیسری وکٹ پر 86 رنز کا اضافہ کیا اور اسکور کو 94 رنز تک پہنچا دیا لیکن 40 رنز بنانے والے سومیا کے آؤٹ ہوتے ہی شکیب الحسن کی صورت میں بہت بڑی وکٹ گنوانا پڑی جو معین علی کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔

اب بنگلہ دیش سنگین صورتحال سے دوچار تھا۔ 22 اوورز میں صرف 99 رنز بنے تھے اور آخری قابل اعتماد جوڑی ہی بچی تھی، محمود اور مشفق، اور دونوں نے مایوس نہیں کیا۔ پانچویں وکٹ پر دونوں نے 141 رنز کی بڑی شراکت داری جمائی جو عالمی کپ میں کسی بھی وکٹ کے لیے بنگلہ دیش کی سب سے بڑی رفاقت کا نیا ریکارڈ تھا اور اس امر کا اظہار بھی کہ بنگلہ دیش اب ایک مضبوط بیٹنگ اکائی ہے جو اس عالمی کپ کے دوران تین سنچری شراکت داریاں بنا چکا ہے جبکہ گزشتہ کسی عالمی کپ میں ان کی تہرے ہندسے کی ایک بھی شراکت داری نہیں تھی۔

بہرحال، محمود اللہ نے اپنی پہلی اور عالمی کپ میں کسی بھی بنگلہ دیشی بلے باز کی جانب سے اولین سنچری بنائی جب انہوں نے 131 گیندوں پر تہرے ہندسے کو جا لیا۔ اس سے قبل وہ تمیم اقبال کا قائم کردہ 95 رنز کا ریکارڈ توڑ چکے تھے۔ محمود 46 ویں میں جاکر آؤٹ ہوئے جب بنگلہ دیش 240 رنز پر پہنچ چکا تھا۔ اب مشفق کی سنچری کی باری تھی لیکن ان کی اننگز 89 رنز پر ہی تمام ہوگئی۔ بہرحال، 77 گیندوں پر ایک چھکے اور 8 چوکوں سے کھیلی گئی یہ جراتمندانہ اننگز لائق تحسین تھی۔ بنگلہ دیش نے 50 اوورز مکمل ہونے پر 275 رنز اکٹھے کیے اور اس کی 7 وکٹیں گریں۔

انگلستان کی جانب سے دو، دو وکٹیں جمی اینڈرسن اور کرس جارڈن نے حاصل کیں جبکہ اسٹورٹ براڈ اور معین علی کو ایک، ایک وکٹ ملی۔ کرس ووکس بری طرح ناکام ہوئے جن کے 10 اوورز میں 64 رنز بنے اور انہیں کوئی شکار بھی نہیں ملا۔

انگلستان کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 276 رنز اچھا خاصا مجموعہ تھا اور ان کی بیٹنگ لائن کا بڑا امتحان بھی۔ معین علی اوراین بیل نے پہلی وکٹ پر 43 رنز جوڑ کر اس دباؤ کو کم کیا اور 26 اوورز مکمل ہونے تک تک انگلستان کو کوئی مشکل درپیش نہیں آئی۔ این بیل جمے ہوئے تھے، جو روٹ جیسا مرد بحران دوسرے کنارے پر کھڑا تھا لیکن روبیل حسین کے ایک ہی اوور نے نقشہ پلٹ دیا۔ انہوں نے پہلے 63 رنز بنانے والے این بیل کو وکٹوں کے پیچھے آؤٹ کیا اور پھر اسی اوور میں ایون مورگن کو بھی جال میں پھنسایا، جو شارٹ گیند پر ہک کھیلنے گئے اور شکیب الحسن کے کیچ کے ساتھ صفر کی ہزیمت کا نشانہ بن گئے۔ کچھ دیر بعد تسکین احمد کی گیند پر جیمز ٹیلر سلپ میں کیچ دے گئے اور یوں انگلستان جو صرف دو وکٹوں کے نقصان پر 121 رنز پر کھڑا تھا 132 رنز پر اس کی آدھی ٹیم پویلین میں بیٹھی تھی۔

جو روٹ سے بڑی امیدیں تھیں، وہ اس طرح کی صورتحال کا بارہا سامنا کرتے ہیں اور اپنی سی کوشش کرتے ہیں اور اگر دوسرے کنارے سے کسی کا ساتھ میسر آ جائے تو مقابلہ بھی نکال جاتے ہیں۔ بہرحال، بیٹنگ پاور پلے کا مرحلہ آن پہنچا، اور انگلستان اتنی بری پوزیشن میں نہیں تھا لیکن ان پانچ اوورز میں اسے بڑا دھچکا پہنچا۔ جو روٹ مشرفی مرتضی کی دوسری وکٹ بن گئے۔ انگلستان پاور پلے میں صرف 20 رنز بنا سکا اور ایک قیمتی وکٹ بھی ضائع ہوئی یوں اسے آخری 10 اوورز میں 95 رنز کی ضرورت تھی۔ جوس بٹلر اور کرس ووکس کی 75 رنز کی شراکت داری نے روٹ کی وکٹ کا کافی ازالہ کیا اور عین اس وقت جب انگلستان مکمل طور پر حاوی تھا، مقابلے کا سب سے اہم موڑ آ گیا۔

تسکین احمد اننگز کا 46 واں اور پھینک رہے تھے جہاں بٹلر اپنے عروج پر تھے اور پے در پے چوکے رسید کرنے کے بعد جیسے ہی اعتماد حد سے زیادہ بڑھا، پانچویں گیند ان کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوئی۔ آف اسٹمپ سے باہر گیند کو تھرڈمین کی جانب چوکے کے لیے روانہ کرنے کی کوشش کی، ناکام ہوئے اور مشفق نے دن کا سب سے قیمتی کیچ پکڑ لیا۔ بٹلر 52 گیندوں پر 65 رنز بنانے کے بعد اتنے مایوس ہوئے کہ کافی دیر تک پیڈ، ہیلمٹ اور دستانے پہنے ہی پویلین میں بیٹھے رہے۔

ایک بڑے مقابلے کی طرح یہ میچ بھی کسی تنازع سے خالی نہیں تھا۔ اگلی گیند پر کرس جارڈن کو جس طرح رن آؤٹ دیا گیا، یہ کافی عرصے تک موضوع بحث رہے گا۔ جارڈن اپنی کریز میں واپس لوٹ رہے تھے، جست لگائی، شکیب کا تھرو براہ راست لگا اور امپائر نے حفظ ماتقدم کے تحت تیسرے امپائر سے رجوع کیا ۔ خود بنگلہ دیش کے کھلاڑی بھی پرامید نہیں تھے۔ لیکن جب ری پلے دیکھا گیاتو پتہ چلا کہ جست لگا کر کریز میں پہنچنے کی کوشش کے دوران جارڈن کا بلا زمین سے ٹکرا کر دوبارہ فضاء میں بلند ہوا تھا اور جس وقت گیند وکٹوں سے ٹکرائی تھی، اس وقت زمین سے شاید چند ملی میٹر کے فاصلے پر تھا، یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو چھو رہا ہے۔ ٹی وی امپائر سائمن فرائی نے درجنوں بار ری پلے دیکھا، مختلف زاویے آزمائے اور جب بڑے فیصلے کا وقت آیا تو انہوں نے آؤٹ قرار دیا۔ نہ صرف کرس جارڈن بلکہ انگلستان کے خیمے میں بھی اس فیصلے پر سخت حیرانگی کا اظہار کیا گیا اور بلاشبہ شک کا فائدہ بلے باز کو ملنا چاہیے تھا۔ اس نازک مرحلے پر اس رن آؤٹ نے مقابلے کا جھکاؤ بنگلہ دیش کے حق میں کردیا جو کرس ووکس کو روکنے میں ناکام دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ نازک ترین موقع پر ان کا ایک آسان کیچ بھی چھوڑا گیا۔ جب دو اوورز میں 16 رنز کی ضرورت تھی تو روبیل حسین نے دوسرے اینڈ سے اسٹورٹ براڈ اور جمی اینڈرسن کو کلین بولڈ کرکے بنگلہ دیش کو 15 رنز سے میچ جتوا دیا اور کرس ووکس دوسرے کنارے سے دیکھتے ہی رہ گئے جو 40 گیندوں پر 42 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

اس کے ساتھ ہی انگلستان کی عالمی کپ مہم اپنے اختتام کو پہنچی، ایون مورگن اور دیگر کھلاڑیوں کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں جو بلاشبہ ان سوالوں کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے جو اب اٹھیں گے اور جن کا جواب دینے کے لیے شاید کئی لوگوں کو قربانیاں دینی پڑیں۔

بہرحال، بنگلہ دیش کی اس جیت کے ساتھ ہی عالمی کپ کے پول 'اے' سے کوارٹر فائنل میں پہنچنے والوں کا فیصلہ ہو گیا۔ ناقابل شکست نیوزی لینڈ کے ساتھ آسٹریلیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا اب فائنل-8 میں کھیلیں گے اور افغانستان اور اسکاٹ لینڈ کے ساتھ ساتھ انگلستان بھی اپنے آخری مقابلے کھیل کر واپسی کی راہ لے گا۔ اگر مزید کوئی اپ سیٹ نہ ہوا تو ممکنہ طور پر بنگلہ دیش کوارٹر فائنل میں بھارت کا سامنا کرے گا۔

انگلستان بمقابلہ بنگلہ دیش

عالمی کپ 2015ء - تینتیسواں مقابلہ

بتاریخ: 9 مارچ 2015ء

بمقام: ایڈیلیڈ اوول،ایڈیلیڈ، آسٹریلیا

نتیجہ: بنگلہ دیش 15 رنز سے جیت گیا

میچ کے بہترین کھلاڑی: محمود اللہ

 بنگلہ دیش رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
تمیم اقبال ک روٹ ب اینڈرسن 2 7 0 0 28.57
امر القیس ک جارڈن ب اینڈرسن 2 2 0 0 100.0
سومیا سرکار ک بٹلر ب جارڈن 40 52 5 1 76.92
محموداللہ رن آؤٹ (اینڈرسن) 103 138 7 2 74.64
شکیب الحسن ک روٹ ب علی 2 6 0 0 33.33
مشفق الرحیم ک جارڈن ب براڈ 89 77 8 1 115.58
شبیر رحمن ک مورگن ب جارڈن 14 12 0 1 116.67
مشرفی مرتضی ناٹ آؤٹ 6 4 1 0 150.0
عرفات سنی ناٹ آؤٹ 3 3 0 0 100.0
فاضل رنز ب 1،  ل ب 4، و 8، ن ب 1 14
کل رنز 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 275
گیندبازی (انگلستان) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
جیمز اینڈرسن 10.0 1 45 2 0 0 4.5
اسٹورٹ براڈ 10.0 0 52 1 0 0 5.2
کرس جارڈن 10.0 0 59 2 0 5 5.9
کرس ووکس 10.0 0 64 0 1 2 6.4
معین علی 9.0 0 44 1 0 1 4.88
جو روٹ 1.0 0 6 0 0 0 6.0
 انگلستان (ہدف: 276 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
معین علی رن آؤٹ (سنی) 19 21 3 0 90.48
این بیل ک رحیم ب حسین 63 82 7 0 76.83
ایلکس ہیلز ک رحیم ب مرتضی 27 34 4 0 79.41
جو روٹ ک رحیم ب مرتضی 29 47 2 0 61.7
ایون مورگن ک حسن ب حسین 0 3 0 0 0.0
جیمز ٹیلر ک قیس ب احمد 1 4 0 0 25.0
جوس بٹلر ک رحیم ب احمد 65 52 6 1 125.0
کرس ووکس ناٹ آؤٹ 42 40 3 0 105.0
کرس جارڈن رن آؤٹ (احمد) 0 1 0 0 0.0
اسٹورٹ براڈ ب حسین 9 6 0 1 150.0
جیمز اینڈرسن ب حسین 0 2 0 0 0.0
فاضل رنز ل ب 4، ن ب 1 5
کل رنز 48.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 260
اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
مشرفی مرتضی 10.0 0 48 2 0 0 4.8
روبیل حسین 9.3 0 53 4 0 0 5.57
عرفات سنی 8.0 0 42 0 0 0 5.25
شکیب الحسن 10.0 0 41 0 0 0 4.1
تسکین احمد 9.0 0 59 2 1 0 6.55
شبیر رحمن 2.0 0 13 0 0 0 6.5

Facebook Comments