کیا آئرلینڈ 'شہ زور' بھارت کو جھکا پائے گا؟

عالمی کپ 2015ء میں گروپ 'اے' میں تو تمام معاملات ٹھیک ہو چکے، کون اگلا مرحلہ کھیلے گا اور کون گھر جائے گا؟ یہ سب طے ہوچکا لیکن گروپ 'بی' میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ یہاں بھارت کے علاوہ کسی کو ابھی کوارٹر فائنل کا یقینی ٹکٹ نہیں ملا۔ جنوبی افریقہ تو باآسانی پہنچ سکتا ہے کہ اس کا آخری مقابلہ متحدہ عرب امارات سے ہے لیکن پاکستان، ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ آخری دو مقامات کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ آئرلینڈ کو پہلا موقع چند گھنٹوں بعد ہملٹن میں ملے گا جہاں وہ دفاعی چیمپئن کا مقابلہ کرے گا۔

بھارت نے اب تک عالمی کپ میں کوئی مقابلہ نہیں ہارا ہے لیکن تمام ہی مقابلے آسٹریلیا میں کھیلے ہیں اور اب آئرلینڈ کا سامنا کرنے کے لیے پہلی بار نیوزی لینڈ کی سرزمین پر قدم رکھا ہے۔ رواں عالمی کپ میں گروپ اے میں نیوزی لینڈ اور گروپ بی میں بھارتی ہی ایسی ٹیمیں ہیں جو ابھی تک ناقابلِ شکست ہیں۔ بھارت اب تک پاکستان، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات اور ویسٹ انڈیز کو ہرا چکا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف بھارت تھوڑی مشکلات کا ضرور شکار ہوا تھا، لیکن باقی مقابلے بھارت نے آسانی سے جیتے ہیں۔ لگاتار چار فتوحات سے کوارٹر فائنل میں اس کی جگہ پکی ہو چکی ہے۔

عالمی کپ میں بھارت کی کارکردگی اس کے مخالفین کے لیے بھی حیران کن ہے۔ کسی کو امید نہیں تھی کہ بھارت اتنی آسانی سے جنوبی افریقہ کو شکست دے گا، روایتی حریف پاکستان کو ہرائے گا اور ویسٹ انڈیز کو بھی چت کرے گا۔ خاص طور پر ان کامیابیوں میں گیندبازوں کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ محمد شامی ابھی تک 3 مقابلوں میں 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر چکے ہیں جبکہ روی چندر آشون نے بھی 9 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ جبکہ اُمیش یادو اور موہیت شرما کی وکٹوں کی تعداد6، 6 ہے۔

بلے بازی میں شیکھر دھاون، روہیت شرما، سریش رینا اور کپتان مہندر سنگھ دھونی غیر مستقل مزاج ضرور رہے لیکن اہم مواقع پر بڑی اننگز کھیلیں اور ویراٹ کوہلی اور اجنکیا راہانے کی فارم کی بدولت باآسانی کامیابیاں حاصل کیں۔ شیکھر دھاون نے پاکستان کے خلاف 73 اور جنوبی افریقہ کے خلاف 137 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی فارم حاصل کی اور وہ اب بھی بڑا خطرہ ہیں۔

دوسری جانب آئرلینڈ کی عالمی کپ مہم توقعات سے کہیں زیادہ شاندار رہی ہے۔ حالانکہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے اس ٹیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی تھی لیکن اپنے پہلے ہی مقابلے میں آئرلینڈ نے ایک بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو چار وکٹوں سے ہرایا۔ آئرلینڈ کے سامنے جیت کے لیے 305 رنز کا بڑا ہدف تھا، لیکن پال اسٹرلنگ، ایڈ جوائس اور نیال اوبرائن کی بالترتیب 92، 84 اور 79 رنوں کی اننگز نے اس بڑے ہدف تک باآسانی پہنچا دیا۔ اس لیے اب بھی آئرش بلے بازوں کی یہی 'تکڑی' بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہو گی۔

آئرلینڈ نے اس کے بعد دو سنسنی خیز مقابلوں میں متحدہ عرب امارات اور زمبابوے کو شکست دی ہے اور عالمی کپ میں اب تک اس کی واحد مایوس کن کارکردگی جنوبی افریقہ کے خلاف رہی جہاں اسے 201 رنز سے بھاری شکست ہوئی۔ اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ یہ ٹیم آسانی سے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالے گی۔ آئرلینڈ ہر صورت میں اس مقابلے کو جیتنا چاہے گا کیونکہ ابھی وہ 6 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں چوتھے نمبر پر ہے اور اسے اپنے آخری دو گروپ مقابلوں میں سے ایک لازمی جیتنا ہے۔

ویسے اس مقابلے پر پاکستان کی بھی نظریں ہیں کیونکہ اگر بھارت بڑے فرق سے جیت گیا تو اُس کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے کا راستہ مزید آسان ہو جائے گا۔

Facebook Comments