پاکستان کی قیادت کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے: مصباح الحق

آپ کے خیال میں دنیائے کھیل میں سب سے مشکل کام کیا ہوسکتا ہے؟ برازیل یا انگلستان کی فٹ بال ٹیموں کا مینیجر بننا یا موجودہ پس منظر میں انگلستان کی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کرنا؟ اگر مصباح الحق سے یہی سوال کیا جائے تو ان کا جواب ہوتا ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کرنا۔

مصباح الحق پچھلے پانچ سالوں سے پاکستان کی کپتانی کررہے ہیں اور ٹیسٹ میں وہ پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان بھی بن چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے انگلستان اور آسٹریلیا کو کلین سویپ کیا، جبکہ ایک روزہ میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت اور جنوبی افریقہ کو ان کے ملکوں میں جا کر شکست دی لیکن اس کے باوجود مصباح کی حالت یہ ہے کہ اگر وہ رن بھی بناتے ہیں اور ٹیم ہار جاتی ہے تب بھی اُن پر تنقید ہوتی ہے اور اگر وہ رن نہیں بناتے ہیں تو ہارنے یا جیتنے دونوں صورتوں میں انہیں سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصباح الحق سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی قیادت کرنا دنیائے کھیل کے پانچ مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ "آپ سے بہت امیدیں لگائی جاتی ہیں، جب آپ ان کو پورا نہیں کر پاتے تو آپ پر سخت تنقید کی جاتی ہے اور کئی بار تو یہ تنقید غیر ضروری ہوتی ہے۔"

53 ٹیسٹ اور 160 ایک روزہ مقابلے کھیلنے والے مصباح الحق کہتے ہیں کہ "ہر دن آپ نشانے کی زد میں ہوتے ہیں، جس کا ٹیم پر منفی اثر پڑتا ہے، کھلاڑیوں اور اُن کے اہلِ خانہ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور بحیثیت مجموعی اسکواڈ پر برا اثر پڑتا ہے۔

ویسے مصباح کی اس بات میں حقیقت بھی ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کے آغاز سے کر اب تک شاید ہی کسی کپتان نے بخوشی اپنے عہدے کو چھوڑا ہو۔ 1980ء کی دہائی میں جب جاوید میانداد کو کپتان بنایا گیا تھا تو سینئر کھلاڑیوں نے ان کے خلاف بغاوت کردی تھیں، جنہیں شکایت تھی کہ انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ بالکل یہی صورتحال وسیم اکرم کو بھی جھیلنی پڑی جب 1994ء میں انہیں پاکستان کی قیادت ملی اور اب تو یہ روز کی کہانی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور صحافی کھلاڑیوں کے اختلافات کی خبریں اڑاتے ہیں اور اس کی بنیاد پر قومی کرکٹ کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں۔

Facebook Comments