بنگلہ دیش کرکٹ تاریخ کی یادگار فتوحات

بنگلہ دیش کو گو کہ بین الاقوامی کرکٹ کا باضابطہ رکن بنے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں اسے کبھی بھی سنجیدہ حریف نہیں لیا گیا اور وہ شاذونادر ہی ناک-آؤٹ مرحلے تک پہنچ سکا۔ 2011ء میں وہ اپنے ہی میدانوں پر یہ شرف حاصل نہ کرسکا لیکن عالمی کپ 2015ء میں انگلستان کو شکست دے کر وہ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی بار کوارٹر فائنل تک پہنچ گیا ہے اور یہ بات ماہرینِ کرکٹ کے لیے حیران کن ہے۔

بنگلہ دیش ماضی میں چند بڑی ٹیموں کو اپ سیٹ شکستیں دے چکا ہے، آئیے ایک نظر ان ٹیموں پر ڈالتے ہیں، جنہیں اب تک بنگلہ دیش نے اپ سیٹ کے زخم دیے ہیں۔

پاکستان:

دنیائے کرکٹ میں بنگلہ دیش کا پہلا بڑا شکار تھا پاکستان۔ 1999ء کے عالمی کپ میں اس نے پاکستان کو 62 رنز سے شکست دی تھی۔ بنگلہ دیش نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 9 وکٹوں پر 223 رنز بنائےاور جواب میں پاکستان کو 44.3 اوورز میں 161 رنز پر آؤٹ کردیا۔ پاکستان عالمی کپ کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں سے ایک تھا، اور فائنل تک پہنچا بھی لیکن بنگلہ دیش کے ہاتھوں اس شکست نے اسے بہت شرمندہ کیا تھا۔ یہی فتح تھی جس کی بدولت بنگلہ دیش کا ٹیسٹ درجہ حاصل کرنے کا مقدمہ مضبوط ہوا اور ایک سال میں ہی اسے ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں شامل کرلیا گیا۔

آسٹریلیا:

بنگلہ دیش کو دوسری سب سے بڑی خوشی 2005ء میں نیٹ ویسٹ سیریز میں ملی جہاں محمد اشرفل نے اسے آسٹریلیا کے خلاف پانچ وکٹوں سے فتح دلائی۔ آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کے سامنا 250 رنز کا ہدف رکھا تھا جو اس نے آخری اوور میں حاصل کیا۔

بھارت:

عالمی کپ 2007ء میں بنگلہ دیش نے پڑوسی بھارت کو زبردست دھچکا پہنچایا، بلکہ عالمی کپ کی دوڑ سے ہی باہر کردیا جب پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئۓ مقابلے میں بنگلہ دیش نے 191 رنز پر آؤٹ کرکے خود 9 گیندیں پہلے ہی ہدف حاصل کیا۔ یہ جیت اسے پہلی بار عالمی کپ کے دوسرے مرحلے تک لائی۔

جنوبی افریقہ:

عالمی کپ 2007ء کے گروپ مرحلے میں بھارت کو زیر کرنے کے بعد بنگلہ دیش نے دوسرے راؤنڈ میں جنوبی افریقہ کو 67 رنز سے شکست دے کر دوسرا بڑا اپ سیٹ کیا۔ اُس نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے آٹھ وکٹوں پر 251 رنز بنائے اور پھر جنوبی افریقہ کو 184 رنز پر سمیٹ دیا۔

انگلستان:

عالمی کپ میں بنگلہ دیش کا پسندیدہ "شکار"۔ 2011ء کے عالمی کپ میں اس نے انگلستان کو 225 رنز پر ٹھکانے لگایا اور خود ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ یہ جیت اسے اگلے مرحلے تک تو نہیں پہنچا سکی لیکن چار سال بعد آسٹریلیا میں اس نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔

کیا بنگلہ دیش کی زنبیل میں مزید فتوحات ہوں گی؟ یا اس کا سفر کوارٹر فائنل میں ہی تمام ہوجائے گا؟ یہ وقت بتائے گا۔

Article Tags

Facebook Comments