نیوزی لینڈ بال بال بچ گیا

ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ نیوزی لینڈ کو بنگلہ دیش کو شکست دینے میں اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تین وکٹوں کی فتح کے باوجود نیوزی لینڈ کا حال ایسا ہی ہوگیا ہے، جو کسی حادثے میں بال بال بچنے کے بعد ہوتا ہے۔ ہملٹن میں ہونے والا نیوزی لینڈ-بنگلہ دیش مقابلہ انتہائی سنسنی خیز معرکہ آرائی کے بعد بظاہر تو نیوزی لینڈ کی جیت پر مکمل ہوا ہے لیکن جتنا حوصلہ اور اعتماد بنگلہ دیش نے اس مقابلے سے حاصل کیا ہے، اتنا ہی میزبان سے کھویا بھی ہے۔

گوکہ نیوزی لینڈ عالمی کپ کے گروپ مرحلے میں اپنے ابتدائی پانچوں مقابلے جیتنے کے بعد ہملٹن پہنچا تھا اور بظاہر اس کا مقابلہ بنگلہ دیش جیسے نسبتاً کمزور حریف کے ساتھ تھا، لیکن یہی وہ ٹیم تھی جسے وہ پچھلے پانچ سالوں میں کبھی شکست نہیں دے سکا تھا۔ فروری 2010ء میں کرائسٹ چرچ میں 3 وکٹوں سے ہرانے کے بعد سے آج تک ہونے والے 8 مقابلوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا کہ جہاں نیوزی لینڈ کو کامیابی نصیب ہوئی۔ شاید تاریخ کا یہی بوجھ تھا، جو نیوزی لینڈ کے لیے اٹھانا بہت مشکل ثابت ہو رہا تھا لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طرح اس نے کامیابی حاصل کرلی اور اب ناقابل شکست انداز میں کوارٹر فائنل کھیلے گا۔

بنگلہ دیش نے بلے بازی کی دعوت ملنے پر جب اننگز کا آغاز کیا تو ابتداء ہی میں وہ نیوزی لینڈ کے تیزگیندبازوں کے سامنے پریشان دکھائی دیا۔ امر القیس کی 19 گیندوں پر جدوجہد کرتی 2 رنز کی اننگز ٹرینٹ بولٹ کی زقند بھرتی گیند کے ہاتھوں تمام ہوئی اور جب دسویں اوور میں مجموعہ صرف 27 رنز تھا تو تمیم اقبال بھی بولٹ ہی کی گیند پر سلپ میں کیچ دے کر چلتے بنے۔ اس مرحلے پر گزشتہ مقابلے کے سنچری ساز محمود اللہ نے حالات کو سنبھالا اور سومیا سرکار کی صورت میں انہیں ایک اچھا ساتھی بھی ملا جنہوں نے 18 اوورز تک نیوزی لینڈ کے گیندبازوں کو روکا اور 90 رنز کا اضافہ بھی کیا۔ سرکار 58 گیندوں پر 51 رنز بنانے کے بعد ڈینیل ویٹوری کا دن کا واحد شکار بنے۔ یہاں امید تھی کہ شکیب الحسن اور مشفق الرحیم کی تجربہ کار جوڑی محمود اللہ کے ساتھ مل کر کچھ کر دکھائے گی لیکن امیدوں کے یہ چراغ کوری اینڈرسن کے ہاتھوں بجھ گئے۔ جنہوں نے پہلے شکیب کو 23 رنزپر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کرایا اور کچھ ہی دیر بعد مشفق کو بھی اسی انجام سے دوچار کیا۔40 ویں اوور میں اسکور بورڈ پر صرف 182 رنز موجود تھے اور یہیں پر شبیر رحمٰن کی دھواں دار بلے بازی نے محمود اللہ کے حوصلے بھی بلند کردیے۔ دونوں نے 8 اوورز میں 78 رنز جوڑے، جس میں شبیر کا حصہ 23 گیندوں پر 40 رنز کا تھا۔ بنگلہ دیشی اننگز 7 وکٹوں پر 288 رنز کے ساتھ مکمل ہوئی اور محمود اللہ 128 رنز پر ناقابل شکست میدان سے واپس آئے۔ 123 گیندوں پر کھیلی گئی اس اننگز میں 3 چھکے اور 12 چوکے شامل تھے۔

289 رنز کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کو کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے تھے لیکن خیال رہے کہ یہ عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کو ملنے والا سب سے بڑا ہدف تھا۔ گزشتہ پانچ مقابلوں میں کوئی ٹیم نیوزی لینڈ کے گیندبازوں کے خلاف اتنے رنز نہیں بنا پائی تھی، جتنے بلند حوصلہ بنگلہ دیش کے بلے بازوں نے بنا ڈالے تھے۔ جب اننگز کے آغاز ہی میں برینڈن میک کولم اور کین ولیم سن کی وکٹیں ایک ہی اوور میں گریں تو میزبانوں کے بھی ہوش ٹھکانے لگ گئے۔ اننگز یکدم رینگنے لگی۔ مارٹن گپٹل تو خوب کھیل رہے تھے لیکن روس ٹیلر جدوجہد کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر 131 رنز جوڑے اور معاملات آسان بنائے۔ گپٹل 100 گیندوں پر 105 رنز بنانے کے بعد شکیب الحسن کا تیسرا شکار بنے۔ مقابلہ نیوزی لینڈ کی مضبوط تر گرفت میں تھا اور گرانٹ ایلیٹ کی 34 گیندوں پر 39 رنز کی باری کے بعد تو بالکل ہی مٹھی میں آ گیا۔ ٹیلر 97 گیندوں پر 56 رنز کی مایوس کن اننگز کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے تو آخری 9 اوورز میں نیوزی لینڈ کو تقریباً 70 رنز کی ضرورت تھی۔ یہاں درکار تھی ایک دھواں دار اننگز، جو کوری اینڈرسن نے فراہم کی، انہوں نے 26 گیندوں پر تین چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے 39 رنز بنائے۔ دوسرے کنارے سے لیوک رونکی شکیب کی چوتھی وکٹ بن چکے تھے، پھر بھی نیوزی لینڈ کو بھلا کون روکتا؟ جب آخری تین اوورز میں 26 رنز کی ضرورت تھی تو اینڈرسن کے چھکے سے تماشائیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ لیکن اگلی گیند نے ان کا کام ہی تمام کردیا۔ ناصر حسین کو ایک اور چھکا لگانے کی کوشش میں وہ کلین بولڈ ہوئے اور یوں نیوزی لینڈ کی ساتویں وکٹ بھی گرگئی۔

تجربہ کار ڈینیل ویٹوری میدان میں موجود تھے، انہیں فوراً اندازہ ہوگیا کہ اب ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ہے۔ ناصر کے اوور کی آخری گیند کو چھکے کے لیے روانہ کرکے انہوں نے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا اور پھر 49 ویں اوور میں ٹم ساؤتھی نے مسلسل دو گیندوں پر شکیب الحسن کو چھکا اور چوکا لگا کر مقابلے کا خاتمہ کردیا۔

نتیجہ تو نیوزی لینڈ کے حق میں نکلا لیکن عالمی کپ کے کوارٹر فائنل جیسے اہم مقابلے سے عین پہلے بنگلہ دیش جیسے حریف کے خلاف ایسی کارکردگی نے انہیں پریشان ضرور کیا ہوگا۔ خود کپتان برینڈن میک کولم بھی خوش نہیں دکھائی دیے جن کا کہنا تھا کہ ہمیں مزید بہتر کارکردگی دکھانے کی ضرورت تھی۔ بنگلہ دیش کے قائم مقام کپتان شکیب الحسن نیوزی لینڈ کے خلاف فتوحات کا سلسلہ جاری نہ رکھ پانے کے باوجود خاصے مطمئن تھے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی سے خوش بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچویں گیندباز کی کمی محسوس ہوئی، جس کی وجہ سے آخری لمحات میں مقابلہ ہاتھ سے نکل گیا۔ بہرحال، مارٹن گپٹل کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دونوں ٹیمیں عالمی کپ میں اپنے کوارٹر فائنل حریفوں کا انتظار کررہی ہیں۔ بنگلہ دیش 19 مارچ کو ملبورن میں گروپ 'اے' کی سرفہرست ٹیم کے ساتھ کھیلے گا، جو ممکنہ طور پر بھارت ہی ہوگی۔ جبکہ نیوزی لینڈ 21 مارچ کو ویلنگٹن میں گروپ 'بی' کی چوتھے نمبر کی ٹیم کے مقابل ہوگا، جو ویسٹ انڈیز بھی ہوسکتی ہے اور آئرلینڈ بھی اور شاید پاکستان بھی۔

نیوزی لینڈ بمقابلہ بنگلہ دیش

عالمی کپ 2015ء - سینتیسواں مقابلہ

بتاریخ: 13 مارچ 2015ء

بمقام: سیڈن پارک، ہملٹن، نیوزی لینڈ

نتیجہ: نیوزی لینڈ 3 وکٹوں سے جیت گیا

میچ کے بہترین کھلاڑی: مارٹن گپٹل

بنگلہ دیش رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
تمیم اقبال کیچ اینڈرسن بولڈ بولٹ 13 27 2 0 48.15
امر القیس بولڈ بولٹ 2 19 0 0 10.53
سومیا سرکار کیچ اینڈرسن بولڈ ویٹوری 51 58 7 0 87.93
محمد محموداللہ ناٹ آؤٹ 128 123 12 3 104.07
شکیب الحسن کیچ رونکی بولڈ اینڈرسن 23 18 3 0 127.78
مشفق الرحیم کیچ رونکی بولڈ اینڈرسن 15 25 2 0 60.0
شبیر رحمٰن کیچ میک کولم بولڈ ایلیٹ 40 23 5 2 173.91
ناصر حسین کیچ ٹیلر بولڈ ایلیٹ 11 7 0 1 157.14
روبیل حسین ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ل ب 1، و 4 5
کل رنز 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 288
گیندبازی (نیوزی لینڈ) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
ٹم ساؤتھی 10.0 1 51 0 0 0 5.1
ٹرینٹ بولٹ 10.0 3 56 2 0 1 5.6
مچل میک کلیناگھن 8.0 0 68 0 0 0 8.5
ڈینیل ویٹوری 10.0 0 42 1 0 0 4.2
کوری اینڈرسن 10.0 0 43 2 0 2 4.3
گرانٹ ایلیٹ 2.0 0 27 2 0 1 13.5
نیوزی لینڈ (ہدف: 289 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
مارٹن گپٹل کیچ ناصر بولڈ شکیب 105 100 11 2 105.0
برینڈن میک کولم کیچ سرکار بولڈ شکیب 8 8 1 0 100.0
کین ولیم سن کیچ تمیم بولڈ شکیب 1 2 0 0 50.0
روس ٹیلر ایل بی ڈبلیو ناصر 56 97 5 0 57.73
گرانٹ ایلیٹ کیچ تسکین بولڈ ناصر 39 34 5 1 114.71
کوری اینڈرسن بولڈ ناصر 39 26 3 3 150.0
لیوک رونکی کیچ ناصر بولڈ شکیب 9 10 2 0 90.0
ڈینیل ویٹوری ناٹ آؤٹ 16 10 1 1 160.0
ٹم ساؤتھی ناٹ آؤٹ 12 6 1 1 200.0
فاضل رنز ل ب 1، و 4 5
کل رںز 48.5 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 290
گیندبازی (بنگلہ دیش) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
شکیب الحسن 8.5 1 55 4 0 0 6.22
تیج الاسلم 10.0 0 58 0 0 0 5.8
روبیل حسین 8.0 1 40 1 0 0 5.0
تسکین احمد 8.0 0 49 0 0 2 6.12
سومیا سرکار 4.0 0 19 0 0 1 4.75
شبیر رحمٰن 2.0 0 14 0 0 0 7.0
محمود اللہ 3.0 0 22 0 0 1 7.33
ناصر حسین 5.0 0 32 2 0 0 6.4

Facebook Comments