[ریکارڈز] آخری ایک روزہ میں سنچری

کسی بھی بلے باز کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہنے کا اس سے بہترین انداز نہیں ہو سکتاکہ وہ اپنے آخری مقابلے میں بھی اپنی اہلیت ثابت کرے، بالکل اسی طرح جس طرح آج زمبابوے کے برینڈن ٹیلر نے کی ہے، جنہوں نے تاریخ کےان چند بلے بازوں میں اپنانام لکھوا لیا ہے، جنہوں نے آخری ایک روزہ میں بھی سنچری بنائی ہے۔

زمبابوے کی جانب سے اپنے آخری ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے میں ٹیلر نے بھارت کے خلاف 110 گیندوں پر 138 رنز کی بہترین اننگز کھیلی اور زمبابوےکو 287 رنز تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یوں وہ ایک روزہ تاریخ کے محض آٹھویں بلے باز بنے ہیں، جنہیں آخری ایک روزہ میں بھی سنچری نصیب ہوئی۔

ٹیلر نے گزشتہ روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے خاندانی مسائل کی وجہ سے زمبابوے کے ساتھ مزید نہیں کھیل سکتے اور ناٹنگھم شائر کاؤنٹی سے معاہدہ کرکے تین سال کے لیے انگلستان منتقل ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی زمبابوے کرکٹ کے ایک شاندار عہد کا خاتمہ ہوا۔ وہ پانچ ہزار ایک روزہ رنز بنانے والے زمبابوے کے صرف 4 بلے بازوں میں سے ایک ہیں بلکہ آج سنچری کے بعد ملک کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے تین بلے بازوں میں شامل ہوگئے ہیں۔

15 چوکوں اور 5 چھکوں سے مزین اننگز کے دوران برینڈن ٹیلر نے اپنی آخری 29 گیندوں پر 70 رنز کا اضافہ کیا، جن میں رویندر جدیجا کے ایک ہی اوور میں لوٹے گئے 25 رنز بھی شامل تھے۔ 138 رنز کی اس اننگز کے ساتھ ٹیلر کسی بھی عالمی کپ میں 400 یا اس سے زیادہ رنز بنانے والے زمبابوے کے پہلے بلے باز بھی بنے۔ عالمی کپ 2015ء میں انہوں نے صرف 6 مقابلوں میں 433 رنز بنائے۔ ساتھ ہی مسلسل دوسرے مقابلے میں سنچری کے ذریعے ٹیلر ان 9 بلے بازوں میں شامل ہو چکے ہیں جنہوں نے عالمی کپ میں مسلسل دو سنچریاں بنائیں۔ اس فہرست میں کمار سنگاکارا، مارک واہ، راہول ڈریوڈ، ابراہم ڈی ولیئرز،میتھیو ہیڈن، رکی پونٹنگ اور سعید انور جیسےعظیم بلے باز شامل ہیں۔

ہم بات کررہے تھے، اپنے آخری روزہ میں تہرے ہندسے کی اننگز کا، یہ کارنامہ پہلی بار انگلستان کے ڈینس ایمس نے انجام دیا تھا۔ جون 1977ء میں آسٹریلیا کے خلاف اوول کے مقام پر انہوں نے 108 رنز کی بہترین اننگز کھیلی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی وکٹ پر کپتان مائیک بریئرلی کے ساتھ ان کی 161 رنز کی شراکت داری کا خاتمہ ہوتے ہی انگلستان کی اننگز پٹری سے اتر گئی۔ آنے والے بلے بازوں میں سے صرف ایک دہرے ہندسے میں پہنچا اور پوری ٹیم 242 رنز پر ڈھیرہوگئی۔ بعد ازاں آسٹریلیا نے کپتان گریگ چیپل کی ناقابل شکست سنچری کی بدولت سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ڈینس ایمس سیریز کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے لیکن یہی ان کی آخری سیریز ثابت ہوئی۔

ویسٹ انڈیز کے عظیم اوپنر ڈیسمنڈ ہینز کو بھی یہ منفرد اعزاز حاصل ہے۔ مارچ 1994ء میں انہوں نے انگلستان کے خلاف سیریز میں اپنا آخری مقابلہ کھیلا اور 112 گیندوں پر 115 رنز کی شاندار اننگز سے ویسٹ انڈیز کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ مرد میدان بھی بنے لیکن پھر دوبارہ کبھی ایک روزہ کرکٹ نہ کھیل سکے۔

نئے کھلاڑیوں میں نیدرلینڈز کے راین ٹین ڈیسکاٹے اپنے آخری مقابلے میں سنچری بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ وہ عالمی کپ 2011ء کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل تھے جہاں دو سنچریوں نے انہیں نوآموز ٹیموں کا مشہور ترین کھلاڑی بنا دیا تھا۔ لیکن یہی شہرت ان کے ایک روزہ بین الاقوامی کیریئرکا خاتمے کا باعث بنی۔ بہترین بلے بازی پر انڈین پریمیئر لیگ سمیت دنیا بھر کی لیگ کرکٹ میں ان کی مانگ ہونے لگی اور یوں وہ عالمی کپ 2011ء کے بعد سے آج تک نیدرلینڈز کی طرف سے دوبارہ کبھی نہیں کھیلے۔ کبھی بھارت، کبھی بنگلہ دیش، کبھی آسٹریلیا اور کبھی زمبابوے میں ٹی ٹوئنٹی لیگز میں کھیلے، اور اب تک کھیل رہے ہیں لیکن ایک روزہ کرکٹ کو خدا حافظ! ڈیسکاٹے نے اپنے آخری ایک روزہ مقابلے میں ٹین ڈیسکاٹے نے 108 گیندوں پر 106 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ بہرحال، ان کی یہ باری بھی نیدرلینڈز کو مقابلہ نہ جتوا سکی۔

ہم ذیل میں ایسے بلے بازوں کی فہرست درج کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنے آخری ایک روزہ مقابلے میں سنچری بنائی:

کیریئر کے آخری ایک روزہ میں سنچری بنانے والے بلے باز

بلے باز ملک رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
ڈینس ایمس  انگلستان 108 146 7 0 آسٹریلیا اوول، لندن 6 جون 1977ء
کلائیو ریڈلے  انگلستان 117* 140 11 0 نیوزی لینڈ مانچسٹر 17 جولائی 1978ء
ڈیسمنڈ ہینز ویسٹ انڈیز 115 112 14 0  انگلستان پورٹ آف اسپین 5 مارچ 1994ء
فیکو کلوپن برگ نیدرلینڈز 121 142 6 4 نمیبیا بلوم فاؤنٹین 3 مارچ 2003ء
کلاس-ژان وان نورتویک نیدرلینڈز 134* 129 11 3 نمیبیا بلوم فاؤنٹین 3 مارچ 2003ء
جیمز مارشل نیوزی لینڈ 161 141 11 4 آئرلینڈ ابرڈین یکم جولائی 2008ء
راین ٹین ڈیسکاٹے نیدرلینڈز 106 108 13 1 آئرلینڈ کولکتہ 18 مارچ 2011ء
برینڈن ٹیلر زمبابوے 138 110 15 5 بھارت آکلینڈ 14 مارچ 2015ء

 

Facebook Comments