پاکستان کوارٹر فائنل میں، آئرلینڈ کی کہانی ختم

پاکستان نے سرفراز احمد کی ناقابل شکست سنچری اور احمد شہزاد اور گیندبازوں کی بہترین کارکردگی کی بدولت آئرلینڈ کو شکست دے کر کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا ہے جہاں اس کا مقابلہ میزبان آسٹریلیا کے ساتھ ہوگا۔ یوں پاکستان نے 8 سال قبل آئرلینڈ سے عالمی کپ میں شکست کا پورا پورا بدلہ لے لیا، وہ بھی اسے عالمی کپ سے باہر کرکے۔ پاکستان کی اس جیت کے نتیجےمیں ویسٹ انڈیز بھی اگلے مرحلے میں پہنچ گیا ہے، جہاں اس کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہوگا۔

ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے گروپ 'بی' کے اہم ترین مقابلے میں آئرلینڈ نے ٹاس جیتا اور کپتان ولیم پورٹرفیلڈ کی ایک شاندار سنچری کی بدولت اننگز کو اس مقام تک پہنچا کہ جہاں پاکستان کے لیے تشویشناک مرحلہ شروع ہوگیا تھا۔ بیٹنگ پاور پلے کے دوران 39 ویں اوور میں4 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز کا مجموعہ کھڑا ہوچکا تھا اور یہاں سے اگر آئرلینڈ 80 رنز بھی بنا لیتا تو پاکستان کے لیے 262 رنز کا بہت بڑا ہدف مرتب کرلیتا لیکن آفرین ہے پاکستان کے گیندبازوں کو جنہوں نے پہلےسنچری بنانے والے آئرش کپتان کو ٹھکانے لگایا اور اس کے بعد کسی بلے باز کو جمنے کاموقع نہیں دیا۔ یہاں تک کہ آخری اوور کی آخری گیند پر آئرلینڈ کی اننگز محض 237 رنز پر تمام ہوئی۔ پاکستانی گیندبازوں نے آخری 10 اوورز میں صرف 49 رنز دیے اور پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ پورٹرفیلڈ 107 رنز کے ساتھ آئرلینڈ کے سب سے نمایاں بلے باز رہے جبکہ ان کے علاوہ کوئی بیٹسمین 29 رنز سے آگے نہ بڑھ سکا۔ لیکن عالمی کپ میں کسی بھی ایسوسی ایٹ کپتان کی یہ پہلی سنچری بغیر مواقع کے نہیں بنی تھی، پاکستان نے کم از کم تین زندگیاں عطا کیں تب جاکر پورٹرفیلڈ اس سنگ میل تک پہنچے۔

اہم گیندباز محمد عرفان کے بغیر کھیلنے کے باوجود پاکستان کے گیندبازوں بہترین کارکردی دکھائی۔ وہاب ریاض نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو، دو کھلاڑیوں کو سہیل خان اور راحت علی نے آؤٹ کیا۔ احسان عادل نے اپنی سالگرہ کے دن ایک وکٹ حاصل کی جبکہ ان فارم اینڈی بالبرنی کی قیمتی وکٹ حارث سہیل کو ملی۔

اب پاکستان کو 238 رنز کا ہدف درکار تھا، جو پچ کو دیکھتے ہوئے کچھ زیادہ تو نہیں تھا لیکن تعاقب میں پاکستان کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے سب سے زیادہ اہمیت افتتاحی بلے بازوں کی کارکردگی کی تھی۔ پاکستان کے اوپنر احمد شہزاد اسی عالمی کپ میں 93 رنز کی اننگز بھی کھیل چکے تھے اور سنچری کے قریب ترین پہنچنے والے واحد پاکستانی بلے باز رہے لیکن اس کے باوجود پورے گروپ مرحلے میں پاکستان کا کوئی بلے باز تہرےہندسے کی اننگز نہیں کھیل سکا۔ بہرحال، آج اوپنرز نے تمام کسریں نکال لیں۔ احمد شہزاد اور سرفراز احمد نے آغاز بہت محتاط انداز میں لیا۔ ابتدائی 7 اوورز میں صرف 28 رنز بنے تھے لیکن اس کےبعد سرفراز اور احمد نے کھل کر اپنے شاٹس کھیلے۔ آئرلینڈ کی بدقسمتی یہ رہی کہ اس نے سرفراز احمد کا ایک آسان کیچ ضائع کیا۔ کیون اوبرائن کی گیند پر بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی گیند وکٹوں سے لگ کر کھڑے ہوئے وکٹ کیپر گیری ولسن کے پاس گئی جو تیز رفتاری کی وجہ سے گیند پر گرفت نہ پا سکے اور یوں سرفراز کو 37 رنز پر ایسی زندگی ملی جو بعد ازاں ان کی پہلی ایک روزہ سنچری تک لے گئی۔

درحقیقت احمد شہزاد سنچری کی جانب جاتے دکھائی دے رہے تھے لیکن جب وہ مکمل طور پر جم گئے تو ایک مایوس کن شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوگئے۔ 120 رنز کی پہلی وکٹ کی رفاقت کا خاتمہ 23 ویں اوور میں احمد شہزاد کی وکٹ کے ساتھ ہی ہوا جنہوں نے 71 گیندوں پر 63 رنز بنائے۔ حارث سہیل کچھ ہی دیر بعد وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کی وجہ سے رن آؤٹ ہوئے لیکن مصباح الحق نے سرفراز کے ساتھ مل کرحالات کو مزید بگڑنے نہ دیا اور تیسری وکٹ پر 82 رنز کا اضافہ کرکے پاکستا ن کو جیت کے دروازے تک پہنچا دیا۔

مصباح الحق ایلکس کوسیک کی گیند پر ہٹ وکٹ ہوئے۔ وہ کریز کے بہت اندر جاکر کھیل رہے تھے کہ ان کی دائیں ایڑی آف اسٹمپ کو چھو گئی۔ 39 رنز کی یہ اننگز باآسانی ایک اور نصف سنچری تک پہنچی، لیکن آج ایسا نہیں ہوسکا۔ بہرحال، دوسرے کنارے پر کھڑے سرفراز نے سنچری پر پہنچ کر ہی دم لیا۔ انہوں نے ایک خوبصورت چوکے کے ساتھ اس سنگ میل کو عبور کیا، زبردست جشن منایا اور سجدۂ شکر بھی ادا کیا۔ کوچ وقار یونس اور کپتان مصباح الحق سمیت تمام ہی کھلاڑیوں نے کھڑے ہوکر ان کے لیے تالیاں بجائیں۔ 47ویں اوور کی پہلی گیند پر عمر اکمل نے چوکا لگا کر مقابلے کا خاتمہ کردیا۔

یہ ابتدائی دو مقابلوں میں بدترین شکستوں کے بعد پاکستان کی عالمی کپ میں مسلسل چوتھی کامیابی ہے، جس پر ٹیم کو جتنا سراہا جائے کم ہے لیکن "خوشی میں پھولو مت" کے مصداق اب نظریں ایک بہت بڑے اور مشکل ترین مقابلے پر رکھنی ہوں گی کیونکہ آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں ہرانا ایک بہت بڑا امتحان ہے اور پاکستا ن کو اس پر پورا اترنے کے لیے اپنی تمام خامیوں پر قابو پانا ہوگا۔

آئرلینڈ بمقابلہ پاکستان

عالمی کپ 2015ء - بیالیسواں مقابلہ

بتاریخ: 15 مارچ 2015ء

بمقام: ایڈیلیڈ اوول، ایڈیلیڈ، آسٹریلیا

نتیجہ: پاکستان 7 وکٹوں سے جیت گیا

میچ کے بہترین کھلاڑی: سرفراز احمد

 آئرلینڈ رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
ولیم پورٹرفیلڈ کیچ آفریدی بولڈ سہیل 107 131 11 1 81.68
پال اسٹرلنگ ایل بی ڈبلیو  عادل 3 8 0 0 37.5
ایڈ جوائس کیچ اکمل بولڈ وہاب 11 18 1 0 61.11
نیال اوبرائن کیچ اکمل بولڈ راحت 12 10 2 0 120.0
اینڈی بالبرنی کیچ آفریدی بولڈ سہیل 18 36 0 0 50.0
گیری ولسن کیچ وہاب بولڈ سہیل 29 38 2 0 76.32
کیون اوبرائن کیچ صہیب بولڈ وہاب 8 16 1 0 50.0
اسٹورٹ تھامپسن کیچ اکمل بولڈ راحت 12 15 1 0 80.0
جان مونی کیچ اکمل بولڈ وہاب 13 19 1 0 68.42
جارج ڈوکریل رن آؤٹ (وہاب) 11 8 0 1 137.5
ایلکس کوسیک ناٹ آؤٹ 1 1 0 0 100.0
فاضل رنز ل ب 2، و 10 12
کل رنز 50 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 237
گیندبازی (پاکستان) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
سہیل خان 10.0 0 44 2 0 2 4.4
احسان عادل 7.0 0 31 1 0 2 4.42
راحت علی 10.0 0 48 2 0 2 4.8
وہاب ریاض 10.0 0 54 3 0 3 5.4
شاہد آفریدی 10.0 0 38 0 0 0 3.8
حارث سہیل 3.0 0 20 1 0 1 6.66
 پاکستان (ہدف: 238 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
احمد شہزاد کیچ جوائس بولڈ تھامپسن 63 71 7 0 88.73
سرفراز احمد ناٹ آؤٹ 101 124 6 0 81.45
حارث سہیل رن آؤٹ (ڈوکریل) 3 7 0 0 42.86
مصباح الحق ہٹ وکٹ بولڈ کوسیک 39 46 3 2 84.78
عمر اکمل ناٹ آؤٹ 20 29 4 0 68.97
فاضل رنز ب 1، ل ب 1، و 13 15
کل رنز 46.1 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 241
گیندبازی (آئرلینڈ) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
ایلکس کوسیک 10.0 1 43 1 0 3 4.3
جان مونی 9.0 1 40 0 0 3 4.44
اسٹورٹ تھامپسن 10.0 0 59 1 0 3 5.9
جارج ڈوکریل 6.0 0 43 0 0 0 7.16
کیون اوبرائن 10.0 0 49 0 0 1 4.9
پال اسٹرلنگ 1.1 0 5 0 0 0 4.31

Facebook Comments