برائن لارا پاکستان کے پیچھے ہی پڑگئے

عالمی کپ 2015ء کے ابتدائی دو مقابلوں میں پاکستان کی بدترین شکست کے بعد ماضی کے عظیم بلے باز برائن لارا نے یہ تک کہا تھا کہ پاکستان سیمی فائنل کو بھول جائے۔ ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے لارا نے کہا تھا کہ 1992ء اور 2015ء کی پاکستانی ٹیموں کا تقابل کرنا درست نہیں، موجودہ ٹیم میں کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جسے فاتح سمجھا جائے۔ بیٹنگ میں بھی ٹیم کا انحصار مصباح الحق پر ہے جو ہرگز دنیا کے بہترین بلے باز نہیں ہیں۔

شاید پاکستان نے برائن لارا کے اس بیان کو زیادہ ہی سنجیدہ لے لیا اور اگلے ہی مقابلے میں فیورٹ جنوبی افریقہ کو چت کرکے اپنے امکانات دوبارہ زندہ کرلیے اور پھر آئرلینڈ کو روندتا ہوا باآسانی کوارٹر فائنل تک پہنچ گیا۔ سیمی فائنل تک پہنچنے میں اب صرف ایک مقابلہ رکاوٹ ہے جو اس نے میزبان آسٹریلیا کے خلاف کھیلنا ہے۔ یہاں بھی برائن لارا سمجھتے ہیں کہ سیمی فائنل میں بھارت اور آسٹریلیا پہنچیں گے، بنگلہ دیش اور پاکستان یہیں سے باہر ہوجائیں گے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کا کوارٹر فائنل 19 مارچ کو ملبورن میں کھیلا جائے گا جبکہ اگلے ہی دن پاکستان اور آسٹریلیا ایڈیلیڈ میں مدمقابل ہوں گے۔

چلیں برائن لارا کی ان دونوں 'پیش گوئیوں' کی تو کوئی منطقی وجہ بھی معلوم ہوتی ہے، لیکن خوش فہمی دیکھیں کہ کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کے مقابلے میں ویسٹ انڈیز کو مضبوط امیدوار قرار دے رہے ہیں۔ لارا کہتے ہیں کہ "ویسٹ انڈیز میں وہ قابلیت ہے جو کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے لیے کافی ہے۔"

نیوزی لینڈ ابھی تک عالمی کپ میں کوئی مقابلہ نہیں ہارا، یہاں تک کہ اس نے آسٹریلیا کو بھی شکست دے رکھی ہے۔ دیکھتے ہیں پاکستان کی مرہون منت گرتے پڑتے کوارٹر فائنل تک پہنچنے والا ویسٹ انڈیز نیوزی لینڈ کا راستہ کیسے روکتا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اہم یہ کہ کیا پاکستان برائن لارا کو ایک اور کرارا جواب دے پائے گا؟ بس چند دن انتظار کریں۔

Facebook Comments