عالمی کپ 2019ء سے نوآموز ٹیموں کا اخراج، سخت ردعمل

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا ارادہ ہے کہ اگلے عالمی کپ میں شریک ٹیموں کی تعداد گھٹا کر محض 10 کردی جائے۔ اب ایک طرف وہ حلقہ ہے جو اس فیصلے کا حامی ہے تو دوسری جانب کچھ حلقے ایسے بھی ہیں جو اس پر معترض ہیں، خاص طور پر ایسوسی ایٹ رکن ممالک کا ردعمل بہت سخت ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ عالمی کپ میں کھلانے ہی سے آئی سی سی کرکٹ کو دنیا بھر میں پھیلا سکتی ہے جبکہ آئرش کپتان نے تو یہاں تک کہا کہ عالمی کپ میں کھیلنے کی اجازت کے بغیر کرکٹ سے وابستگی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ افغانستان کے کوچ اینڈی مولس کہتے ہیں کہ ٹورنامنٹ کا نام عالمی کپ ہے، اس کی روح اس کے نام ہی میں چھپی ہے۔

گو کہ آئرلینڈ ان نوآموز ممالک کی فہرست میں شامل ہوا کہ جو پہلے ہی مرحلے میں عالمی اعزاز کی دوڑ سے باہر ہوگئے لیکن اب تک ان کے موقف کی حمایت اور حامیوں میں کمی نہیں آئی ہے۔ عالمی کپ 2019ء میں شریک ٹیموں کی تعداد 14 سے کم کرکے 10 کرنے کے خیال پر جن شخصیات نے تنقید کی ہے ان میں سچن تنڈولکر، راہول ڈریوڈ اور اسٹیو واہ جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔

آئرلینڈ نے مسلسل تیسرے عالمی کپ میں کسی ٹیسٹ رکنیت رکھنے والے ملک کو شکست دی ہے۔ ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف فتوحات اتنی جامع اور واضح تھیں کہ کئی حلقوں نے انہیں اپ سیٹ ہی تسلیم نہیں کیا۔ بدقسمتی یہ رہی کہ آئرلینڈ کا آخری مقابلہ پاکستان کے اس دستے کے ساتھ ہوا جو بالکل درست وقت پر اٹھ کھڑا ہوا تھا اور یکطرفہ مقابلے میں شکست کے بعد آئرلینڈ محض نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں عالمی کپ سے باہر ہوا حالانکہ دونوں ٹیموں کے پوائنٹس یکساں تھے۔

پاکستان کے خلاف شکست کے باوجود آئرلینڈ کی کارکردگی نمایاں تھی، خاص طور پر کپتان ولیم پورٹرفیلڈ نے اس مقابلے میں سنچری بنائی اور بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ سوچ بہت خوش کن ہے اگر مجھے یہ پتہ چلے کہ یہ ہمارا آخری ورلڈ کپ نہیں تھا۔ اگر آئی سی سی کھیل کو ترقی دینا چاہتی ہے تو اسے کچھ کرنا ہوگا لیکن اگر ہمیں عالمی کپ سے باہر کردیا جاتا ہے تو پھر ہمارے لیے کرکٹ سے تعلق رکھنے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔"

ماضی میں انگلش کاؤنٹی واروکشائر کی نمائندگی کرنے والے افغان کوچ اینڈی مولس نے افغانستان کا تقابل سری لنکا کے ساتھ کیا۔ سری لنکا نے 1975ء میں پہلے عالمی کپ میں حصہ لیا تھا اور 21 سال بعد 1996ء میں عالمی چیمپئن بنا۔ انہوں نے کہا کہ "اگر ہمیں بہترین ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع نہيں ملتا تو کھلاڑی خود کو کہاں آزمائیں؟"

اس بار عالمی کپ میں چار ایسوسی ایٹ اراکین نے شرکت کی جن میں آئرلینڈ کے علاوہ افغانستان، اسکاٹ لینڈ اور متحدہ عرب امارات شامل تھے۔ ان چاروں ٹیموں نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا کہ اگر انہیں بڑی ٹیموں کے ساتھ کھیلنے کے لگاتار مواقع ملتے رہیں تو وہ اپنے کھیل میں بہتری لا سکتے ہیں۔ گوکہ اسکاٹ لینڈ نے عالمی کپ میں اپنی تیسری شرکت میں بھی کوئی مقابلہ نہیں جیتا لیکن اپنے گروپ کی سرفہرست ٹیم نیوزی لینڈ کو جس طرح 143 رنز کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ناکوں چنے چبوائے، اس سے ظاہر ہوا کہ اس میں کافی دم خم ہے۔ پھر افغانستان نے عالمی کپ میں اپنی پہلی ہی شرکت میں متاثر کن کارکردگی دکھائی اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف ایک وکٹ کی یادگار فتح بھی حاصل کی۔ انفرادی سطح پر افغانستان کے تیز گیندباز حمید حسن اور شاپور زدران، متحدہ عرب امارات کے بلے باز شیمن انور اور ٹورنامنٹ میں 15 وکٹیں لینے والے اسکاٹ گیندباز جوش ڈیوی نے عالمی کپ 2015ء پر اپنا بھرپور نقش چھوڑا ہے۔ یہ کتنا دیرپا ثابت ہوگا، اس کا اندازہ بعد میں ہوگا۔

Article Tags

Facebook Comments