جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ نئی تاریخ مرتب کرنے کے لیے بے چین

عالمی کپ 2015ء اب اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے، دنیا کی چار بہترین ٹیمیں سیمی فائنل میں مدمقابل آنے والی ہیں اور ان میں سے دو ہی حتمی مقابلے تک پہنچیں گی۔ پہلا سیمی فائنل کل یعنی 24 مارچ کو آکلینڈ میں میزبان نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا 26 مارچ کو سڈنی میں دوسرے میزبان آسٹریلیا اور دفاعی چیمپئن بھارت کے مابین ہوگا۔ یہی چاروں ٹیمیں اس وقت عالمی درجہ بندی میں سرفہرست 4 مقامات پر قابض ہیں یعنی وہی پہنچے ہیں، جو اصل حقدار تھے۔

آج بات کریں گے نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے سیمی فائنل کی جو آکلینڈ کے ایڈن پارک میں پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوگا۔ یہ سیمی فائنل اس مرتبہ یقینی بنائے گا کہ کم ا زکم ایک ٹیم تاریخ میں پہلی بار فائنل کھیلے گی۔ نیوزی لینڈ ساتویں بار عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا ہے اورگزشتہ تمام چھ مواقع میں شکست کھائی ہے جبکہ جنوبی افریقہ تین مرتبہ 'فائنل-4' تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا، دو بار قسمت نے اسے فائنل تک نہیں پہنچنے دیا اور تیسری مرتبہ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے اس کا راستہ روک لیا۔ یوں مجموعی طور پر 9 سیمی فائنل مقابلوں میں ناکام رہنے کے بعد اب دونوں کے پاس ایک اور موقع ہے کہ اس بار فائنل تک رسائی حاصل کریں اور کم از کم ایک ٹیم تو اس روایت کا خاتمہ کرکے رہے گي۔

نیوزی لینڈ عالمی کپ سے پہلے سے مقابلے جیتتا آ رہا ہے اور ٹورنامنٹ کے دوران اب تک کوئی ٹیم اسے زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی یہاں تک کہ فیورٹ آسٹریلیا بھی اسے نہیں ہرا پایا۔تمام ٹیموں کو شکست دینے کے بعد کوارٹر فائنل میں اس نے ویسٹ انڈیز کو 143 رنز سے شکست دی۔ اس مقابلے میں ایک ایسے ہیرو نے جنم لیا، جو اب تک عالمی کپ میں خاموش کردار تھا،مارٹن گپٹل! جنہوں نے237 رنز کی اننگز میں ریکارڈ بک کو ہلا کر رکھ دیا۔

اس وقت نیوزی لینڈ کے بلے باز عروج پر، گیندباز بلندیوں کو چھوتے ہوئے اور فیلڈرز نئے معیارات مرتب کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلسل 9 فتوحات نے ان کے حوصلوں کو آسمانوں تک پہنچا دیا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ 1992ء میں آخری بار اپنے میدانوں پر عالمی کپ جیتنے کا موقع ضائع ہونے کے بعد اس مرتبہ نیوزی لینڈ تاریخ کی غلطی کو درست کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

دوسری جانب، جنوبی افریقہ ہے، ہمیشہ کی طرح عالمی کپ کے لیے فیورٹ۔ جب عالمی اکھاڑے میں اترتا ہے تو کوئی ایسی ٹیم نہیں دکھائی دیتی جو اسے شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ لیکن اس بار جنوبی افریقہ کو گروپ مرحلے میں ہی دو زبردست دھچکے پہنچے۔ ایک دفاعی چیمپئن بھارت اور پھر اس کے پڑوسی پاکستان کے ہاتھوں شکست نے جنوبی افریقہ کے دماغ سے وہ خناس تو نکال ہی دیا ہوگا، جو عالمی کپ سے قبل مسلسل فتوحات نے بھر دیا تھا۔ شاید یہی دو شکستیں تھیں، جن کی وجہ سے جنوبی افریقہ کو اپنی غلطیوں کا اندازہ ہوا اور ان پر قابو پاتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار عالمی کپ کا کوئی ناک-آؤٹ مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوا۔ سیمی فائنل میں پروٹیز نے سری لنکا کو محض 133 رنز پر ڈھیر کیا اور پھر باآسانی 9 وکٹوں سے مقابلہ جیت کر اپنی اہلیت ثابت کردی۔

1992ء سے لے کر 2011ء تک ہر بار ناک-آؤٹ مقابلے میں شکست کھانے کے بعد اس بار یہ رکاوٹ عبور کرنا جنوبی افریقہ کے لیے نیک شگون ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ نوجوان بلے باز کوئنٹن ڈی کوک فارم میں واپس آ گئے ہیں، جنہوں نے کوارٹر فائنل میں 78 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ایک طرف ہاشم آملہ جیسا پائے کا بلے باز اور دوسرے کنارے پر ابراہم ڈی ولیئرز جیسا طوفان کھڑا ہو، اور انہیں ڈی کوک، فف دو پلیسی،ڈیوڈ ملر اور جے پی دومنی کا ساتھ حاصل ہو تو دنیا کی بہترین باؤلنگ لائن کا بھی پتہ پانی ہوجاتا ہے۔

پھر گیندبازی میں جنوبی افریقہ نے جو صلاحیت رکھتا ہے، اس کے لیے کوارٹر فائنل دکھانا ہی کافی ہے جہاں سری لنکا جیسی بہترین بیٹنگ لائن صرف 133 رنز پر ڈھیر ہوئی۔ ڈیل اسٹین، مورنے مورکل اور عمران طاہر اس وقت عروج پر ہیں۔ پھر انہیں دنیا کی بہترین فیلڈنگ کا ساتھ بھی حاصل ہے جو نصف مواقع پر بھی اچھی طرح قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس لیے جنوبی افریقہ اپنے عروج پر موجود نیوزی لینڈ کو خود اس کے میدان پر چت کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کے دماغ کی بتی نہ بجھ جائے۔ 2011ء کے عالمی کپ کوارٹر فائنل کی طرح۔ جہاں جنوبی افریقہ محض 222 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ناکام ہوگیا۔ تو جنوبی افریقہ کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا اور اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ اسی میدان پر نیوزی لینڈ نے چند ہفتے قبل آسٹریلیا کو 151 رنز پر ڈھیر کیا تھا۔

نیوزی لینڈ کے پاس موقع ہے تاریخ کو نئے سرے سے مرتب کرنے کا، اس کے تمام پرزے بالکل درست انداز میں چل رہے ہیں اور اگر کارکردگی کا تسلسل جاری رہا تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ فائنل نہ کھیلے لیکن جنوبی افریقہ تمام تر سرد و گرم سہنے کےبعد سیمی فائنل میں پہنچا ہے اور کھیل کےتینوں شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے وہ 2011ء کی شکست کا بدلہ لے سکتا ہے اور یقیناً یہ بدلہ لینے کے لیے آکلینڈ سے بہتر جگہ کوئی نہیں ہوسکتی۔ جنوبی افریقہ کے میرپور، ڈھاکہ والے زخم تو شاید بھر گئے ہوں لیکن اگر نیوزی لینڈ نے آکلینڈ میں شکست کھائی تو اس کو یہ چوٹ عرصے تک تکلیف دے گی۔

اگر عالمی کپ میں حالیہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی افریقہ کو ہدف کا تعاقب کرنا پڑا تو اس کے لیے سخت مشکل پیدا ہوسکتی ہے، وہ بھارت اور پاکستان کے خلاف اہم مقابلوں میں اسی وجہ سے شکست کھا گیا تھا۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی کمزوری کی بات کریں تو تعاقب میں ان کے لیے بھی معاملہ کوئی اتنا آسان نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف تعاقب میں انہوں نے 7 وکٹیں گنوائیں، یہاں تک کہ اسکاٹ لینڈ کے مقابلے میں محض 143 رنز کو حاصل کرنے کے لیے بھی اسے 7 وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا اور پھر آسٹریلیا کے خلاف 152 رنز کے حصول کے لیے 9 وکٹیں گنوانا تو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر دونوں ٹیموں کو تعاقب کرنا پڑا تو ان کے لیے سخت مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔

تو دل تھام کر بیٹھیں، شاید ہمیں عالمی کپ کے سنسنی خیز ترین مقابلوں میں سے ایک دیکھنے کو ملے۔

Facebook Comments