بھارت کے لیے جیت کا نسخہ: اعصاب پر قابو اور عمدہ فیلڈنگ

رواں عالمی کپ کے ناک آؤٹ مرحلے اورپہلے سیمی فائنل سے باہر ہوئی ٹیموں کو اپنی شکست کے دو بڑے اسباب تو بالکل اچھی طرح سمجھ میں آ چکے ہوں گے۔ اول نازک ترین مرحلے میں اعصاب کا جواب دے جانا اوردوم فیصلہ کن لمحات میں ناقص فیلڈنگ کا ہونا۔خصوصاً پاکستان اور جنوبی افریقہ کے عالمی کپ سے اخراج کی ایک اہم وجہ یہی رہی۔ وہاب ریاض کی بے مثال اور جارحانہ گیند بازی کے باوجود ناقص فیلڈنگ نے پاکستان کی مزاحمت کا زور توڑ دیا۔ وہیں جنوبی افریقہ نازک مرحلے میں اپنے اعصاب کھو بیٹھا اور دنیا کے سب سے معیاری فیلڈرز آسان مواقع گنواتے رہے اور نیوزی لینڈ ان کے ہاتھوں سے فتح چھین کر لے نکلا۔ناک آؤ ٹ اور سیمی فائنل کے ان دونوں میچوں میں فاتح ٹیم نے زبردست حکمت عملی اور صبر و ضبط کا مظاہر ہ کیا۔ اگر وہاب ریاض کے تابڑ توڑ حملوں اور ان کے جارح رخ کا شین واٹسن ثابت قدمی اور تحمل کے ساتھ مقابلہ نہ کرتے تو شاید ان کی ٹیم وہیں سے لڑکھڑا جاتی اور پاکستان پوری طرح ان پر حاوی ہو جاتا۔ٹھیک اسی طرح گرانٹ ایلیٹ کی دھیمی بلے بازی ایک وقت نیوزی لینڈ کے شائقین کو مایوس کر رہی تھی۔ لیکن ایلیٹ ایک منصوبے کے تحت بلے بازی کر رہے تھے۔ انہوں نے ہدف کو دیکھ رکھا تھا۔ اور مناسب وقت آتے ہی انہوں نے وہ کر دکھایا جس کی نیوزی لینڈ کو ضرورت تھی۔

اب بھارت-آسٹریلیا سیمی فائنل سے سرخرو ہو کر عالمی کپ کے فائنل تک رسائی کا ایک واحدنسخہ یہی ہے کہ اعصاب پر قابو رکھا جائے اورکھیل کے آغاز سے اختتام تک اعلیٰ فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا جائے۔بھارت اور آسٹریلیا دونوں ہی ٹیمیں بہترین فیلڈرز سے مزین ہیں ۔اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ سنسنی خیز لمحات میں یہ اپنے معیار کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔ کپتان مہندر سنگھ دھونی سے یہ امید ہے کہ وہ اپنے پرسکون مزاج کے اثرات اپنی ٹیم پر مرتب کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ دھونی بلاشبہ ایک جارح کپتان نہیں ہیں اور اکثر مواقع پر یہ کمی بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہیجان انگیز اور نازک مرحلوں میں ان کی نرم مزاجی اور طبیعت کا قرار ہی ٹیم انڈیا کی کشتی کو کنارے لگانے میں کامیاب ہو اہے۔

ٹیم انڈیا نے پاکستان اور آسٹریلیا کے ناک آؤٹ مقابلے کا معائنہ یقینا بہت باریکی سے کیا ہوگا۔ اس مقابلے میں وہاب ریاض کے اس "جادوئی اسپیل" نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جارح مزاجی اور حریف کو طعنہ و تشنہ کے ذریعہ نفسیاتی اور اعصابی طور پر کمزور کر دینے والی ان کی نام نہاد طاقت کی قلعی کھول کر رکھ دی ۔ لہذا یہ امر تو اب بالکل واضح ہو چکا ہے کہ کینگروز کوئی ما فوق الفطرت مخلوق نہیں، ان پر اعصاب غالب آتے ہیں اور انہیں بھی نفسیاتی طور پر زیر کیا جا سکتا ہے۔ اگر ٹیم انڈیا کا کوئی ایک کھلاڑی بھی وہاب ریاض بن جائے تو نصف فتح یونہی بھارت کے حصے میں چلی آئے گی۔

بھارت کے لیے تشویش ناک امر سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کے اعداد و شمار ہیں۔13ایک روزہ مقابلوں میں بھارت کوآسٹریلیا کے خلاف اس گراؤنڈ پر محض ایک فتح نصیب ہوئی ہے۔ اور وہ بھی سات سال پہلے۔ وہیں ورلڈ کپ میں کھیلے گئے آسٹریلیا کے خلاف 10مقابلوں میں بھارت کے حصے میں 7شکستیں ہیں۔جبکہ ٹیم انڈیا کو ملی تین فتوحات میں سے دو بھارتی گراؤنڈز پر حاصل کی گئی ہیں۔

آسٹریلیا کا سڈنی کرکٹ گراؤنڈ بلے بازوں کی جنت سمجھا جاتا ہے۔ بھارتی بلے بازی کے تمام کل پرزے فی الحال بالکل درست کام کر رہے ہیں۔ رواں عالمی کپ میں شیکھر دھاون نے دو سنچریاں بنا رکھی ہیں جبکہ ویراٹ کوہلی اور سریش رینا ایک ایک سنچری بنا کر بہترین فارم میں ہیں۔ کپتان مہندر سنگھ دھونی اور راوندر جڈیجا مشکل وقت میں ’’مرد بحران‘‘ کا کردار ادا کرنے کی بخوبی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ویسے تو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کی پچ اسپنرز کے لیے مددگار ہوا کرتی ہے لیکن گزشتہ روز مسلسل ہوئی بارش کی وجہ سے ماہرین یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ آیا اس پچ سے اسپنرز کو مدد ملے گی یا پیسرز کو۔ دونوں ہی صورتیں بھارت کے حق میں ہیں۔ کپتان مہندر سنگھ دھونی روی چندر آشون کو بخوبی استعمال کرتے ہیں ۔ اگر اس میچ میں اسپنرز کا جادو چلا تو آشون بھارتی ترکش کے اہم ترین تیر ثابت ہوں گے۔ وہیں بھارت کے تیز گیند باز شاید بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ اس عالمی کپ میں دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ بھارتی سرزمین بھی اب تیز گیند بازوں کے لیے زر خیز ہو چکی ہے۔ بھارتی گیند باز حیرت انگیز طور پر اس پورے ٹورنامنٹ میں اب تک حریف کے تمام بلے بازوں کو میدان بدر کر چکے ہیں۔یہ کارنامہ اگر ٹیم انڈیا سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف بھی انجام دینے میں کامیاب ہو گئی تو 29مارچ کو اسے نیوزی لینڈ کے مقابل آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اب تک بھارت اور آسٹریلیا مجموعی طور پر 9 مرتبہ عالمی کپ کا فائنل کھیل چکے ہیں۔دسواں فائنل کھیلنا کس کی قسمت میں ہے، یہ اب وقت ہی بتائے گا۔

Facebook Comments