باب وولمر کے نام

یہ سال 1996ء تھا جب میں نے غور سے، دلچسپی سے اور باقاعدگی سے کرکٹ پر نظریں رکھنا شروع کیں۔ اُس وقت سے اب تک تقریباً 19 سالوں میں میں اُن تمام مراحل سے گزرا، جن سے کوئی بھی پاکستانی کرکٹ کا شائق گزرتا ہے۔ایک موقع پر میں ایک ایسا شائق بھی رہا تھا جسے میں 'بناسپتی کرکٹ فین' کہتا ہوں۔ یہ 2003ء کے عالمی کپ کے بعد کا زمانہ تھا جب تقریباً میرے سارے پسندیدہ پاکستانی کھلاڑیوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور مجھے مایوسی ہی مایوسی نظر آ رہی تھی۔ لیکن اگلے چار سال کی مدت ہی میں ایک مضبوط پاکستانی ٹیم ابھر کر سامنے آئی اور 'دو ڈبلیوز' وسیم اکرم اور وقار یونس کی جگہ پر 'ڈبل ایز' یعنی شعیب اختر اور محمد آصف براجمان ہو گئے۔ اس پورے عرصے میں ایک بے نام ہیرو ٹیم سے وابستہ رہا تھا جو ٹیم میں استحکام لانے کا باعث بنا، وہ تھا کوچ باب وولمر۔

باب وولمر اُس زمانے میں ظاہراً ٹیم کے شفیق باپ کی طرح تھے اور وہ جیسے تیسے پاکستان کے کامیاب ترین غیر ملکی کوچ بھی تھے۔ اُن کی کوچنگ میں پاکستان چیمپئنز ٹرافی 2004ء میں اپنی قدر و منزلت بحال کرنے میں کامیاب ہوا اور بھارت کو بھی شکست دی۔ علاوہ ازیں پاکستان نے انگلستان اور ویسٹ انڈیز جیسی اچھی ٹیموں کو بھی ٹیسٹ میں مشکلات کا شکار کیا۔ غور طلب بات ہے کہ یہ سب کچھ 2004ء سے 2007ء کی درمیانی مدت میں ہوا تھا جب ٹیم سعید انور، وسیم اکرم، وقار یونس اور ثقلین مشتاق جیسے عظیم کھلاڑی آہستہ آہستہ کرکٹ سے رخصت ہو رہے تھے۔

2003ء کا دوبارہ ذکر کیا جائے تو میں عالمی کپ میں پاکستان کی بری کارکردگی کے بعد اتنا مایوس ہوا تھا کہ میں نے لگ بھگ کرکٹ دیکھنا چھوڑ دی تھی۔ میری مایوسی کا یہ عالم تھا کہ مجھے اس بات کی امید ہی نہیں رہی تھی کہ پاکستان اب کبھی دوبارہ جیتے گا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مجھے اس بات کی بالکل توقع نہیں تھی کہ پاکستان عالمی کپ کے پہلے مرحلے ہی میں گھر کی راہ لے گا، حالانکہ ہماری ٹیم اب تک عالمی کپ کے لیے منتخب کیے جانے والے سب سے اعلیٰ دستے پر مشتمل تھی۔ (یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہترین دستء 1996 اور 1999 کے عالمی کپ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن کاغذ پر سب سے مضبوط دستہ 2003ء عالمی کپ ہی کا تھا) اتفاق سے 2003ء کے عالمی کپ کے عرصے ہی میں میرے میٹرک کے امتحانات بھی جاری تھے، اس لیے اب میں سوچتا ہوں کہ جو وقت میں نے وہ عالمی کپ دیکھنے میں ضائع کیا تھا، اگر وہ میں نے اپنی پڑھائی میں صرف کیا ہوتا تو شاید اپنے میٹرک کے نتیجے میں 100 مزید نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔

خیر، اب آتے ہیں 2007ء کی جانب۔ 2006ء میں دو بہترین گیندبازوں شعیب اختر اور محمد آصف پر غیر قانونی دواؤں کے استعمال کی وجہ سے پابندی لگ چکی تھی، جس کے نتیجے میں ٹیم ڈانواں ڈول تھی۔ عالمی کپ کے جس دستے کا انتخاب کیا گیا وہ اتنا کمزور تھا کہ میرا خیال تھا کہ مستقبل میں اس سے زیادہ کمزور پاکستانی دستہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملے گا، اگرچہ رواں عالمی کپ کے لیے انتخاب شدہ دستے نے میرے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا۔ میں نے اپنے قنوطیت بھرے انداز میں اس کا پہلے سے اعلان کر دیا تھا کہ پاکستان پہلے مرحلے میں ویسٹ انڈیز اور زمبابوے سے ہار کر عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہو جائے گی۔ پاکستان نے اپنی عالمی کپ مہم کا آغاز ویسٹ انڈیز سے ہار کر کیا اور اس کے بعد وہ ہوا جس کس کسی کو امید نہیں تھی۔

آئرلینڈ کے قومی تہوار یومِ سینٹ پیٹرک کے دن پاکستان آئرلینڈ سے ہار گیا جو اُس ٹورنامنٹ یا شاید پورے عشرے کا سب سے بڑا اپ سیٹ تھا۔ اگلے ہی روز ہمارے کوچ باب وولمر بھی اپنی زندگی ہار گئے۔ باب وولمر کا اس طرح انتقال کر بہت زیادہ افسوس ناک تھا اور دیکھا جائے تو ان کی وفات ہماری عالمی کپ مہم میں ناکامی سے بھی زیادہ اندوہناک واقعہ تھی۔

یہ نہ صرف پاکستان کرکٹ کے لیے، بلکہ بطور کرکٹ پرستار میرے لیے بھی ایک اہم موڑ تھا۔ پاکستان اپنی عادت کے بموجب اگلے سال ہی عمدہ کھیل کے ساتھ واپس آیا اور ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے فائنل تک پہنچا۔ اس کے بعد میں اُس مرحلے میں داخل ہوا جسے میں موسمی کرکٹ پرستار عہد کے خاتمے کے بعد کے مرحلے کا نام دیتا ہوں۔ مجھے اس بات پر یقین آ گیا کہ ٹیم کو حمایت کی سب سے زیادہ ضرورت مشکل وقتوں میں ہوتی ہے۔ آپ کو انفرادی کھلاڑیوں پر تحفظات ہو سکتے ہیں، لیکن ٹیم ان سب سے بالاتر حیثیت رکھتی ہے۔

اب دوبارہ فاسٹ فارورڈ کر کے 15 مارچ 2015ء کے دن پر آئیے۔ پاکستان اس عالمی کپ میں پھر آئرلینڈ کے مدِ مقابل آیا۔ اس بار ہم کاغذ پر نسبتاً مضبوط تھے اور یہ آسان مقابلہ لگ رہا تھا۔ لیکن میچ سے قبل اور میچ کے دوران ہم میں سے ہر ایک کو ماضی کی تلخ یاد ستاتی رہی، خاص طور پر باب وولمر کی یاد۔ آخر کار پاکستان یہ مقابلہ جیت گیا اور اس بار ہم آئرلینڈ کے دس کے دس کھلاڑیوں کو پویلین بھیجنے میں بھی کامیاب رہے، جس سے ہم 2007 میں محروم رہے تھے۔

سرفراز احمد اپنی سنچری کے ساتھ ایک بار پھر ہیرو کے طور پر سامنے آئے اور عمر اکمل نے اپنی اسٹرائیک ریٹ کی قربانی دے کر انہیں سنچری بنانے کا موقع دے کر سمجھداری اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا اور وہ اس لمحے کا ایک گمنام ہیرو بھی ہے۔ اب تک شاید ہماری نظروں سے وہ کلِپ گزر چکا ہو گا جس میں سرفراز احمد کی سنچری پر ناصر جمشید کو خوشی سے اچھل اچھل کر تالیاں بجاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ہم میں سے کچھ لوگوں نے زبان، قوم اور سیاست کے نام پر ٹیم میں اختلافات کا تاثر دینے کی کوشش کی تھی لیکن ناصر جمشید نے جس انداز میں اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا اسے اسپورٹس مین اسپرٹ کے سوا کچھ اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ نیز، حارث سہیل کو رن آؤٹ کرانے پر سرفراز احمد نے میچ کے بعد کے جشن میں جس انداز سے معافی مانگ کر گلے لگایا تھا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔

شاید حقیقی استحکام اور کارکردگی میں تسلسل کے حصول میں ہمیں ابھی بہت راستہ طے کرنا باقی ہے، لیکن ہماری آخری چار فتوحات نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ اگر ہمارے کھلاڑی کوشش کریں تو وہ ایک متحد یونٹ کے طور پر کھیل سکتے ہیں۔ شاید یہ وہی چیز ہے جس کی ہر پاکستان کرکٹ فین کی طرح باب وولمر کو بھی خواہش تھی۔ یہ جیت آپ کے نام ہے باب وولمر! 2007 کے یومِ سینٹ پیٹرک سے وولمر سنڈے تک کا وقت مشکل سے کٹا ہے، لیکن اس پورے دورانیے میں ہمارے لیے، خاص طور پر میرے لیے ایک فین کے طور پر، کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔

Facebook Comments