پاکستان: مسلسل غیر مستقل مزاجی سے کیسے نمٹا جائے؟

ایک اور عالمی کپ، ایک اور اخراج، ایک اور ہنگامہ اور بحالی کا ایک اور نعرہ، 2015ء کے عالمی کپ کے بعد کے حالات ہرگز 1996ء، 1999ء، 2003ء، 2007ء اور 2011ء سے مختلف نہیں۔

لیکن یہاں دو سوالات پیدا ہوتے ہیں:

- پاکستان سرفہرست چار ٹیموں میں شامل ہونے میں آخر کیوں ناکام رہا؟

- مستقبل میں ایسا ہونے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں؟

پہلے سوال کا جواب بالکل آسان ہے، بیٹنگ ناکام ہوئی اور تسلسل کے ساتھ ناکام ہوئی لیکن کیا ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان کے بلے باز ناکام ہوئے ہوں؟ ان کی تسلسل کے ساتھ غیر مستقل مزاجی سے نمٹنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس 'کیسے' تک پہنچنے سے پہلے چند پہلو مزید شامل کرتے ہیں جو عالمی کپ میں معیار سے گری ہوئی کارکردگی کا سبب بنے۔

اس وقت پاکستان کرکٹ کے افق پر روشنی کی کوئی کرن موجود نہیں لیکن 180 درجے کے زاویے پر گھوم جانا بھی ممکن نہیں، اس لیے ہم امید کرسکتے ہیں کہ اگلے چار سال ہم بہتر انداز میں استعمال کیے جائیں گے تاکہ ایک اچھا دستہ تشکیل دیے جا سکے۔

درحقیقت چند کلیدی کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں ٹیم کمبی نیشن بری طرح متاثر ہوا ہے، عالمی کپ سے پہلے ہی یہ توازن بگڑا، اور اس کے بعد انتظامیہ کے چند ناقص فیصلوں نے بھی عالمی کپ مہم کو متاثر کیا۔ سرفراز احمد کی تاخیر سے شمولیت ایسا موضوع تھا جو زبان زد عام رہا اور اس معاملے پر ٹیم انتظامیہ کو بری طرح تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن ان کی شمولیت اتنی تاخیر سے نہیں ہوئی۔ پاکستان نے پہلی رکاوٹ عبور کرلی اور ناک-آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی، لیکن پھر وہی پرانی داستان، وہی 1996ء اور 2011ء والی کہ پاکستان فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

پاکستان کی شکست کا ایک اہم ترین سبب فیلڈنگ کے شعبے میں کھلاڑیوں نے مایوس کن کارکردگی اور تکنیک بھی تھی، جنہوں نے درجن سے بھی زیادہ مواقع ضائع کیے۔ شاید ہی کسی اور ٹیم نے اتنے تواتر کے ساتھ اور اہم مراحل پر کیچ اور رن آؤٹ چھوڑے ہوں، جتنے پاکستان نے کیے۔

اب ناقص بلے بازی کی وجوہات اور ممکنہ حل پر آتے ہیں۔ دراصل کھلاڑی ایک پروڈکٹ ہے، جو ایک کارخانے میں تیار ہوتا ہے جسے ہم ڈومیسٹک کرکٹ کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم معیاری مصنوعات بنانے کے لیے اچھا خام مال اکٹھا کررہے ہیں؟ سیدھا سا جواب ہے 'نہیں'، کئی ایسی کوتاہیاں، کمیاں اور خامیاں ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کا موجودہ ڈھانچہ صرف اور صرف مقدار پر زور دیتا ہے۔ سینکڑوں کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لیتے ہیں لیکن نتیجہ سب کے سامنے آئے۔ دراصل اس تعداد کو گھٹانے اور ٹیموں اور کھلاڑیوں کی تعداد کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک کھلاڑی کو فرسٹ کلاس کیپ حاصل کرنے کے لیے محنت کرنے دیں، یہ مشکل سے حاصل ہوگا تو اس کی قدر بھی ہوگي۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ فرسٹ کلاس میں آنا آسان ترین کام ہے اور نتیجے میں سینکڑوں کھلاڑی معیار تو کجا مسابقت کے ابتدائی درجے پر بھی نہیں ہیں۔

- اگر ہم بھارت کو دیکھیں تو وہاں نوجوان کھلاڑیوں کی کرکٹ میں بہت بہت بہتری آئی ہے اور اس کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے آئی پی ایل۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے لیکن پاکستان چند ناگزیر وجوہات کی بنیاد پرپاکستان میں اتنے بڑے ایونٹ کا انعقاد نہیں کرسکتا البتہ اپنے دوسرے "گھر" متحدہ عرب امارات میں ضرور کھیل سکتا ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے اور بورڈ کو جلد از جلد پاکستان سپر لیگ کو ٹھوس شکل دینا ہوگی۔

- دریں اثناء ڈومیسٹک مقابلوں میں غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے بھی جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ پھر جو مشہور قومی کھلاڑی ہیں، ان کے لیے بھی لازمی بنائیں کہ وہ قومی ٹیم میں منتخب ہونے کے لیے ڈومیسٹک مقابلوں کی مخصوص تعداد ضرور کھیلیں۔

- ڈومیسٹک ایونٹس کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے ایک نظآم مرتب کیا جائے۔ کراچی میں ہونے والے حالیہ ڈومیسٹک مقابلوں میں سلیکشن کمیٹی نے چند نوجوان کھلاڑیوں کے نام ضرور اٹھائے اور انہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تربیت کی پیشکش بھی کی لیکن اس کے بعد کیا ہوا، یہ نہیں معلوم۔

- پھر این سی اے میں ایسا نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو قومی ٹیم میں شمولیت سے قبل کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں کو درست کرے۔ اس سلسلے میں فٹنس اور صلاحیتوں پر مرحلہ وار رپورٹیں مرتب کی جائیں تاکہ قومی ٹیم کے لیے ان کھلاڑیوں کو بیک اپ کے طور پر تیار رکھا جائے۔ اس سطح پر سابق کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان ان کے تجربے سے مستفید ہوں۔

- جونیئر سطح پر جیسا کہ انڈر-19 اور اے ٹیموں کے غیر ملکی دوروں کو مستقل کیا جائے۔ غیر ملکی تربیت کاروں اور کوچزکی تقرری کو بھی جونیئر کرکٹ تک محدود کرنا چاہیے، جہاں خامی کو درست کرنا نسبتاً آسان ہو تا ہے۔

ورلڈ کپ ایک طرح کی جنگ ہوتا ہے، اور ہر ملک یہ جنگ جیتنا چاہتا ہے، لیکن جنگ کی تیاری ہمیشہ زمانہ امن میں ہوتی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ملک میں کھیل کے معیار کو بلند کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے جس کے لیے سابق کھلاڑیوں اور منتظمین کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب ماضی میں بھی کہا اور سنا جا چکا ہے، لیکن نفاذ وہ شعبہ ہے جس میں ہم مستقل ناکام رہے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ہم اسی موڑ پر ہیں جہاں 2003ء اور 2007ء کے بعد تھے لیکن ہم نے جو اُس وقت نہیں کیا تھا، اب وہی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ آئندہ ایسی کارکردگی اور نتائج سے بچا جا سکے۔

Facebook Comments