جنوبی افریقہ: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

عالمی کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو ناقابل یقین انداز میں فتح دلانے والے گرانٹ ایلیٹ کا بنیادی تعلق جنوبی افریقہ ہی سے تھا، یعنی کہ انہوں نے جس ملک میں جنم لیا، اسی کو عالمی کپ کی دوڑ سے باہر بھی کیا۔

گرانٹ ایلیٹ 21 مارچ 1979ء کو جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد پلاسٹک سرجن تھے۔ ایلیٹ جنوبی افریقہ کی 'اے' ٹیم تک کی نمائندگی کر چکے تھے، جہاں انہوں نے بھارت 'اے' کے خلاف مقابلہ بھی کھیلا تھا لیکن جنوبی افریقہ کے قومی دستے کے انتخاب میں کوٹہ سسٹم لاگو ہونے کی وجہ سے وہ قومی ٹیم میں نہ چنے جا سکے۔

اس مرحلے میں ناکامی پر نیوزی لینڈ کے سابق ٹیسٹ کپتان کین ردرفرڈ نے انہیں ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا اور 2001ء میں وہ جنوبی افریقہ کو ترک کرکے نیوزی لینڈ آ گئے اور 2007ء میں انہیں بلیک کیپس کی نمائندگی کی اجازت مل گئی۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی جانب سے اپنا پہلا مقابلہ 18 جون 2008ء کو انگلستان کے خلاف کھیلا اور اب تک 66 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے کھیل چکے ہیں۔ لیکن عالمی کپ 2015ء کا سیمی فائنل ان تمام مقابلوں پر بھاری ہے جہاں ان کے ناقابل شکست 84 رنز اور آخری اوورز میں تاریخی چھکے نے نیوزی لینڈ کو پہلی بار عالمی کپ کے فائنل تک پہنچایا جو 29 مارچ کو ملبورن میں کھیلا جائے گا۔

گرانٹ ایلیٹ سے پہلے ایلن لیمب 1987ء اور 1992ء میں انگلستان کی جانب سے عالمی کپ فائنل کھیل چکے ہیں۔ ان کا تعلق بھی بنیادی طور پر جنوبی افریقہ سے تھا لیکن بین الاقوامی نمائندگی انہوں نے انگلستان کی کی لیکن بدقسمتی سے دونوں عالمی کپ فائنل مقابلوں میں ان کی ٹیم شکست خوردہ ثابت ہوئی۔

ویسے اسی مقابلے میں پاکستان میں پیدا ہونے والے، یہیں سے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کرنے والے عمران طاہر بھی شامل تھے جو جنوبی افریقہ کی نمائندگی کررہے تھے۔ لیکن جنوبی افریقہ نے جس کی قدر نہ کی، وہی کھلاڑی اس کے لیے موت کا پروانہ لے کر آیا۔ جنوبی افریقہ 1999ء کے بعد پہلی بار عالمی کپ فائنل کے اتنا قریب پہنچا اور ایک مرتبہ پھر باہر ہوگیا۔

اب گرانٹ ایلیٹ کی نظریں نیوزی لینڈ کو عالمی کپ جتوانے پر ہیں، جس کے فائنل میں مقابلہ دفاعی چیمپئن بھارت یا میزبان آسٹریلیا کے ساتھ ہوگا، جو کل یعنی 26 مارچ کو سڈنی میں دوسرا سیمی فائنل کھیل رہے ہیں۔

Facebook Comments