ایشیائی طاقت کا زوال شروع؟

عالمی کپ 2015ء کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے بھارت کو 95 رنز سے شکست دے کر عالمی کپ کی دوڑ سے باہر کردیا اور یوں دفاعی چیمپئن کا سفر سیمی فائنل ہی میں مکمل ہوگیا لیکن بات صرف یہیں تک محدود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 28 سال بعد پہلی بار عالمی کپ کا فائنل کسی ایشیائی ٹیم کے بغیر کھیلا جائے گا۔

کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلا گیا عالمی کپ 1987ء کا فائنل آخری حتمی مقابلہ تھا جب آسٹریلیا اور انگلستان کھیلے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک یعنی 1992ء سے 2011ء تک کوئی عالمی کپ کا فائنل ایسا نہیں تھا، جہاں کم از کم ایک شریک کا تعلق ایشیا سے نہ ہو۔

1992ء کے عالمی کپ میں پاکستان پہلی بار فائنل میں پہنچا اور کامیابی بھی حاصل کی اور اس کے بعد 1996ء میں سری لنکا نے حتمی مقابلے تک رسائی حاصل کی اور پاکستان ہی کی طرح اپنے پہلے ہی فائنل میں جیت کے جھنڈے گاڑے۔ 1999ء میں پاکستان فائنل میں آسٹریلیا کے مدمقابل آیا، شکست کھائی لیکن کسی ایشیائی ٹیم کی فائنل تک پہنچنے کی روایت کو مسلسل تیسرے عالمی کپ تک طول دے دیا۔ پھر 2003ء میں بھارت اور 2007ء میں سری لنکا فائنل تک پہنچے، دونوں آسٹریلیا کے ہاتھوں ہارے جبکہ 2011ء میں ایشیائی طاقت اس مقام تک پہنچ گئی کہ پہلی بار آل-ایشیا فائنل کھیلا گیا۔ ممبئی میں ہونے والا بھارت-سری لنکا فائنل میزبان نے جیتا۔ لیکن 2015ء میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکام رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1996ء سے 2007ء تک تمام ہی فائنل مقابلوں میں آسٹریلیا ایشیا کے مدمقابل تھا، ایک مرتبہ اسے ناکامی ہوئی لیکن اس کے بعد مسلسل تین بار اس نے ایشیا کی تینوں بڑی قوتوں کو شکست دی۔

اب 1987ء کے بعد پہلی بار عالمی کپ فائنل دو غیر-ایشیائی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا۔ 29 مارچ کو ملبورن کے میدان پر آسٹریلیا کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہوگا۔ دیکھتے ہیں آسٹریلیا پانچویں بار ورلڈ چیمپئن بنتا ہے یا نیوزی لینڈ پہلی بار ہی فائنل میں کامیابی سمیٹتا ہے۔

فاتح رنر اپ بمقام بتاریخ
ورلڈ کپ 1992ء پاکستان انگلستان ملبورن 25 مارچ 1992ء
ورلڈ کپ 1996ء سری لنکا آسٹریلیا لاہور 17 مارچ 1996ء
ورلڈ کپ 1999ء آسٹریلیا پاکستان لندن 20 جون 1999ء
ورلڈ کپ 2003ء آسٹریلیا بھارت جوہانسبرگ 23 مارچ 2003ء
ورلڈ کپ 2007ء آسٹریلیا سری لنکا برج ٹاؤن 28 اپریل 2007ء
ورلڈ کپ 2011ء بھارت سری لنکا ممبئی 02 اپریل 2011ء

Article Tags

Facebook Comments