آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ، کس کا پلڑا بھاری؟

عالمی کپ 2015ء اپنے حتمی مرحلے میں پہنچ گیا ہے جہاں میزبان آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ملبورن کے تاریخی میدان پر فائنل میں مدمقابل ہوں گے۔ نیوزی لینڈ نے ایک کانٹے دار مقابلے میں جنوبی افریقہ کو شکست دی تھی جبکہ آسٹریلیا دوسرے سیمی فائنل میں بھارت کو 95 رنز کی بڑی شکست دے کر فائنل تک پہنچا ہے۔ یہی بہترین موقع ہے کہ ہم دونوں ٹیموں کے باہمی مقابلوں کا ایک تقابل کریں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ فائنل سے قبل کس کا پلڑا بھاری ہے۔

اگر دونوں ٹیموں کے اب تک کھیلے گئے باہمی ایک روزہ مقابلوں پر نگاہ دوڑائیں تو مجموعی طور پر آسٹریلیا کا غلبہ نظر آتا ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مابین اب تک 126 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے 85 میں آسٹریلیا کو فتح نصیب ہوئی جبکہ نیوزی لینڈ صرف 35 مقابلوں میں ہی کامیابی حاصل کرسکا۔ یوں آسٹریلیا کی فتوحات کی شرح 67 فیصد ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ آسٹریلیا باہمی ایک روزہ مقابلوں کی 41 سالہ تاریخ میں زیادہ تر نیوزی لینڈ پر حاوی رہا ہے۔

ان باہمی مقابلوں میں سے 60 آسٹریلیا کی سرزمین پر کھیلے گئے، جن میں سے 38 یعنی نصف سے زیادہ مقابلے آسٹریلیا نے جیتے جبکہ مہمان نیوزی لینڈ کو صرف 18 فتوحات ملیں۔ علاوہ ازیں، اگر نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے مقابلوں کی بات کی جائے تو ان میں بھی آسٹریلیا حاوی ہے۔ آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ میں 47 ون ڈے کھیلے ہیں، جن میں سے 30 جیتے ہیں جبکہ نیوزی لینڈ اپنے ہی میدانوں پر بھی 16 مقابلے ہی جیت پایا ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چند مقابلے نیوٹرل میدانوں پر بھی کھیلے گئے ہیں۔ ان میں بھی نیوزی لینڈ بری طرح پسپا دکھائی دیا ہے۔ ایسے کل 19 مقابلوں میں اسے صرف دو فتوحات حاصل ہوئی ہیں جبکہ باقی 17 مقابلوں میں فتح کا پرچم آسٹریلیا کے ہاتھ میں رہا۔

اگر عالمی کپ کی تاریخ کی بات کریں تو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ 9 مرتبہ مدمقابل آئے ہیں۔ یہاں بھی اکثر فتوحات آسٹریلیا کو ملیں، جس نے 6 مقابلے جیتے جبکہ نیوزی لینڈ کے حق میں صرف تین فتوحات ہیں۔

عالمی کپ کی تاریخ میں دونوں ٹیموں کا پہلا مقابلہ 1987ء کے عالمی کپ میں کھیلا گیا جہاں آسٹریلیا نے اندور میں 3 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ کیونکہ اس عالمی کپ میں تمام ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں دو، دو مرتبہ مقابلہ کرنا تھا اس لیے چندی گڑھ میں دونوں ٹیمیں دوبارہ آمنے سامنے آئیں اور اس بار بھی آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی۔ آسٹریلیا کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں پہلی شکست 1992ء کے عالمی کپ میں ملی جب نیوزی لینڈ نے آکلینڈ میں کھیلا گیا مقابلہ 37 رنز سے جیتا۔ 1996ء میں چنئی میں میدان آسٹریلیا کے نام رہا جبکہ 1999ء میں گو کہ آسٹریلیا چیمپئن بنا لیکن گروپ مرحلے میں اسے نیوزی لینڈ سے شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد 2003ء، 2007ء اور 2011ء کے عالمی کپ میں، تینوں مرتبہ آسٹریلیا نے آسان فتوحات حاصل کیں۔ یہاں تک کہ نیوزی لینڈ نے 28 فروری 2015ء کو آکلینڈ میں ایک مرتبہ پھر آسٹریلیا کو شکست دے کر اس کی فتوحات کے سلسلے کو توڑ دیا۔

اب دونوں عالمی کپ کے فائنل میں ملبورن میں آمنے سامنے ہوں گے تو یہ دیکھنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ آخر یہاں کھیلے گئے باہمی مقابلوں میں کیا کچھ ہوا ہے۔ اب تک اس میدان پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے 19 ایک روزہ مقابلے کھیلے جا چکے ہیں جہاں آسٹریلیا نے 14 میں کامیابی حاصل ہے جبکہ نیوزی لینڈ محض چار فتوحات رکھتا ہے۔ آخری مرتبہ اس میدان پر دونوں ٹیموں کا مقابلہ 6 فروری 2009ء کو ہوا تھا جب نیوزی لینڈ آسٹریلیا کو 6 وکٹوں سے شکست دینے میں کامیاب رہا۔

غرض یہ کہ ہر لحاظ سے ایک روزہ باہمی مقابلوں میں آسٹریلیا غالب ہے، حاوی ہے اور نیوزی لینڈ اس کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ اگر سابقہ اعدادوشمار کچھ حیثیت رکھتے ہیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ نیوزی لینڈ کل بھی مغلوب ٹھیرے گا۔ لیکن ایسی کوئی پیش بینی کرنا اس لیے بھی ذرا مشکل ہے کہ رواں عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کی کارکردگی بہت عمدہ رہی ہے اور اسے کسی مقابلے میں شکست نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ آسٹریلیا کے خلاف بھی جب اسے کھیلنا پڑا تو اس نے کامیابی حاصل کی۔ پھر گیندبازی کے شعبے میں ٹرینٹ بولٹ، ٹم ساؤتھی اور ڈینیل ویٹوری کی عمدہ کارکردگی بھی آسٹریلیا کے بلے بازوں کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے گو کہ مجموعی طور پر آسٹریلیا کا پلڑا بھاری ہے لیکن نیوزی لینڈ ٹکر دینے کی خوب صلاحیت و قابلیت رکھتا ہے۔

دیکھتے ہیں کہ چھ سال بعد ملبورن میں پہلے نیوزی لینڈ-آسٹریلیا مقابلے میں میدان کس کے نام رہتا ہے۔جو جیتا، وہ اگلے چار سال تک دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کرے گا، اور جسے شکست ہوئی وہ عرصے تک زخم چاٹتا رہے گا۔

آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ - ایک تقابلی جائزہ

کل مقابلے آسٹریلیا کی فتوحات نیوزی لینڈ کی فتوحات برابر بے نتیجہ
تمام ایک روزہ 126 85 35 0 6
آسٹریلیا میں کھیلے گئے 60 38 18 0 4
نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے 47 30 16 0 1
نیوٹرل مقامات پر کھیلے گئے 19 17 1 0 1
عالمی کپ میں کھیلے گئے 9 6 3 0 0
ملبورن میں کھیلے گئے 19 14 4 0 1

 

Facebook Comments