آسٹریلیا پانچویں بار عالمی چیمپئن بن گیا

وہ تمام خدشات بالکل درست ثابت ہوئے جو نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن اور ملبورن کرکٹ گراؤنڈ کو دیکھتے ہوئے ذہن میں آ رہے تھے کیونکہ آسٹریلیا کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے بلیک کیپس صرف 183 رنز پر ڈھیر ہوگئے اور آسٹریلیا مائیکل کلارک کی آخری اور یادگار ترین اننگز کی بدولت باآسانی 7 وکٹوں سے مقابلہ جیت کر پانچویں بار عالمی چیمپئن بن گیا۔

فائنل جیسے بڑے مقابلوں میں آسٹریلیا کو جیت کے لیے مضبوط بنیاد گیندبازوں نے فراہم کی جن کی طوفانی باؤلنگ کے سامنے نیوزی لینڈ صرف 183 رنز پر ڈھیر ہوگیا اور 184 رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کو کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ گو کہ دوسرے ہی اوور میں اسے آرون فنچ کی وکٹ سے محروم ہونا پڑا لیکن ڈیوڈ وارنر کے 45 رنز اور پھر مائیکل کلارک اور اسٹیون اسمتھ کی 112 رنز کی شراکت داری نے مقابلے کو انتہائی یکطرفہ بنا دیا۔

کلارک جو اپنی آخری ایک روزہ اننگز کھیل رہے تھے، اس وقت میدان میں اترے جب 13 ویں اوور میں ڈیوڈ وارنر آؤٹ ہوئے۔ اور اس وقت تک خوبی سے کھیلتے رہے جب آسٹریلیا ہدف سے محض 9 رنز کے فاصلے پر تھا۔ کلارک نے صرف 72 گیندوں پر 74 رنز بنائے جس میں ایک شاندار چھکے اور 7 خوبصورت چوکے بھی شامل تھے۔ دوسرے کنارے سے اسٹیون اسمتھ نے ایک بہترین اننگز کھیلی اور 71 گیندوں پر 56 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جس میں فاتحانہ چوکے سمیت تین چوکے شامل رہے۔

کلارک، 2007ء کے عالمی کپ فاتح دستے کے بھی رکن تھے اور 2011ء میں کوارٹر فائنل سے باہر ہونے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے لیکن آج انہوں نے اپنے ایک روزہ کیریئر کا اختتام جس طرح کیا، وہ ہر کھلاڑی کا خواب ہے۔ پہلے سے اعلان کرنا یہ کہ یہ میرا آخری مقابلہ ہوگا، پھر اس میں اپنی ٹیم کی جانب سے بہترین اننگز کھیلنا اور پھر عالمی کپ ٹرافی اٹھانا۔

قبل ازیں، نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ پہلے اوور میں مچل اسٹارک کی بجلی کی طرح کوندتی ہوئی گیندوں کو میدان بدر کرنے کی دو ناکام کوششوں کے باوجود برینڈن میک کولم نے خطرے کا احساس نہیں کیا، یہاں تک کہ پانچویں گیند ان کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوئی۔ ایک دلکش یارکر اور کپتان صفر پر میدان سے واپس۔ یہیں سے مقابلہ آسٹریلیا کے حق میں جھکتا چلا گیا۔ مارٹن گپٹل اور کین ولیم سن نے گیندیں روک پر مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور مچل جانسن کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ لیکن دوسرا شکار ان تینوں کو نہيں ملا کیونکہ حیران کن طور پر گلین میکس ویل اپنے پہلے ہی اوور میں مارٹن گپٹل کی قیمتی وکٹ لے اڑے۔ گیند گپٹل کی توقعات سے کم گھومی اور نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بلے کو چھوئے بغیر آف اسٹمپ کو جا لگی۔ اگر معاملہ یہاں تک رکا رہتا تو کوئی بات تھی لیکن اگلے ہی اوور میں جانسن نے ولیم سن کو اپنی ہی گیند پر کیچ کردیا۔ اب 13 ویں اوور میں نیوزی لینڈ صرف 39 رنز پر 3 وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا۔ کم از کم پاکستان کے شائقین کے لیے یہ نیا منظر نہیں تھا، ایک تو وہ ہر دوسرے مقابلے میں یہ نظارہ دیکھتے ہیں لیکن 1999ء کے عالمی کپ فائنل کی بھیانک یادیں بھی لوٹ آئیں۔

بہرحال، اس نازک مرحلے پر روس ٹیلر اور گرانٹ ایلیٹ کی شراکت داری نے نیوزی لینڈ کو ایک اچھے مجموعے کے لیے بہترین بنیاد فراہم کی۔ دونوں نے بیٹنگ پاور پلے تک کوئی وکٹ نہیں گرنے دی اور 111 رنز کی رفاقت قائم کی۔ روس ٹیلر نے روایتی سست اننگز کھیلی لیکن ایلیٹ پچھلے مقابلے والی فارم میں نظر آئے۔ یہ ایک اینڈ سے اننگز جمانے اور دوسرے کنارے سے اسکور بورڈ کو متحرک رکھنے کا امتزاج تھا جو 35 اوورز میں مجموعے کو 150 رنز تک لے آیا۔ اب 15 اوورز کا کھیل اور 7 وکٹیں باقی تھی یعنی نیوزی لینڈ کے لیے بہترین موقع تھا لیکن بیٹنگ پاور پلے بلیک کیپس کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا۔ 36 ویں اوور کی پہلی گیند پر روس ٹیلر وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن کے ایک عمدہ کیچ کا نشانہ بنے اور اسی اوور کی تیسری گیند کوری اینڈرسن کو صفر کی ہزیمت سے دوچار کرگئی۔ جیمز فاکنر کے اس اوور نے میچ کو ایک مرتبہ پھر آسٹریلیا کے حق میں جھکا دیا۔ جو کسر رہ گئی تو وہ اگلے اوور میں اسٹارک کے ہاتھوں لیوک رونکی کے آؤٹ ہونے سے پوری ہوگئی۔ پہلی سلپ میں مائیکل کلارک نے ان کا بہترین کیچ لیا اور نیوزی لینڈ صرف ایک رن کے اضافے سے تین وکٹیں کھو بیٹھا۔ نیوزی لینڈ نےبیٹنگ پاور پلے میں تین وکٹوں کے نقصان پر صرف 15 رنز بنائے۔اس کے بعد کیا مزاحمت ہوتی؟ ڈینیل ویٹوری مچل جانسن کے یارکر پر کلین بولڈ ہوئے، کچھ ہی دیر میں گرانٹ ایلیٹ کی اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔ انہوں نے 82 گیندوں پر 7 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 83 رنز بنائے اور 45 اوورز مکمل ہونے کے ساتھ پوری ٹیم صرف 183 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

پہلی 3 وکٹیں 39 رنز پر گرنے کے بعد صرف ایلیٹ-ٹیلر شراکت داری ہی نیوزی لینڈ کی اننگز میں قابل ذکر ہے کیونکہ آخری 7 وکٹیں محض 33 رنز کے اضافے پر گنوائیں۔ بہرحال، جب کپتان، وکٹ کیپر، اہم آل راؤنڈر سمیت چار بلے باز صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوں تو پھر اتنے ہی مجموعے کی امید کی جا سکتی ہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے تمام ہی گیندبازوں نے بہت عمدہ باؤلنگ کی۔ جو جنوبی افریقہ کے لیے ایک بہترین سبق تھی۔ فل اور یارکر لینتھ گیندیں نیوزی لینڈ کی "توپوں" کو خاموش کرانے کے لیے کافی تھیں۔ جیمز فاکنر نے 36 اور مچل جانسن نے صرف 30 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں مچل اسٹارک کو ملیں۔ ایک کھلاڑی کو میکس ویل نے بھی آؤٹ کیا۔

بہترین گیندبازی پر جیمز فاکنر کو فائنل کا مردِ میدان قرار دیا گیا جبکہ مچل اسٹارک نے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

اب دنیائے کرکٹ پر آسٹریلیا کی حکمرانی کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو رہا ہے جبکہ نیوزی لینڈ نے جس طرح 1992ء کے بعد پچھلے 23 سال گزارے تھے، شاید اب بھی آئندہ چند دہائیاں اسی کے زخم چاٹتے گزارنی پڑیں۔ بہرحال، چار سال بعد سب کو 2019ء میں موقع ملے گا، جب عالمی کپ کے لیے سب انگلستان میں جمع ہوں گے۔

آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ

عالمی کپ 2015ء - فائنل

بتاریخ: 29 مارچ 2015ء

بمقام: ملبورن کرکٹ گراؤنڈ، ملبورن، آسٹریلیا

نتیجہ: آسٹریلیا 7 وکٹوں سے جیت گیا

میچ کے بہترین کھلاڑی: جیمز فاکنر

ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی: مچل اسٹارک

نیوزی لینڈ رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
مارٹن گپٹل بولڈ میکس ویل 15 34 1 1 44.12
برینڈن میک کولم بولڈ اسٹارک 0 3 0 0 0.0
کین ولیم سن کیچ و بولڈ جانسن 12 33 1 0 36.36
روس ٹیلر کیچ ہیڈن بولڈ فاکنر 40 72 2 0 55.56
گرانٹ ایلیٹ کیچ ہیڈن بولڈ فاکنر 83 82 7 1 101.22
کوری اینڈرسن بولڈ فاکنر 0 2 0 0 0.0
لیوک رونکی کیچ کلارک بولڈ اسٹارک 0 4 0 0 0.0
ڈینیل ویٹوری بولڈ جانسن 9 21 1 0 42.86
ٹم ساؤتھی رن آؤٹ (جانسن) 11 11 0 1 100.0
میٹ ہنری کیچ اسٹارک بولڈ جانسن 0 7 0 0 0.0
ٹرینٹ بولٹ ناٹ آؤٹ 0 1 0 0 0.0
فاضل رنز ل ب 7، و 6 13
کل رنز 45 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 183
گیندبازی (آسٹریلیا) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
مچل اسٹارک 8.0 0 20 2 0 1 2.5
جوش ہیزل ووڈ 8.0 2 30 0 0 0 3.75
مچل جانسن 9.0 0 30 3 0 2 3.33
گلین میکس ویل 7.0 0 37 1 0 1 5.28
جیمز فاکنر 9.0 1 36 3 0 0 4.0
شین واٹسن 4.0 0 23 0 0 2 5.75
آسٹریلیا (ہدف: 184 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے اسٹرائیک ریٹ
ڈیوڈ وارنر کیچ ایلیٹ بولڈ ہنری 45 46 7 0 97.83
آرون فنچ کیچ و بولڈ بولٹ 0 5 0 0 0.0
اسٹیون اسمتھ ناٹ آؤٹ 56 71 3 0 78.87
مائیکل کلارک بولڈ ہنری 74 72 10 1 102.78
شین واٹسن ناٹ آؤٹ 2 5 0 0 40.0
فاضل رنز ل ب 3، و 6 9
کل رنز 33.1 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 186
گیندبازی (نیوزی لینڈ) اوورز میڈنز رنز وکٹیں نو-بالز وائیڈز اکانمی ریٹ
ٹم ساؤتھی 8.0 0 65 0 0 3 8.12
ٹرینٹ بولٹ 10.0 0 40 1 0 0 4.0
ڈینیل ویٹوری 5.0 0 25 0 0 0 5.0
میٹ ہنری 9.1 0 46 2 0 2 5.02
کوری اینڈرسن 1.0 0 7 0 0 1 7.0

Facebook Comments